بہار کا ضلع سہرسہ اپنی تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی شناخت رکھتا ہے، مگر تعلیمی میدان میں وہ رفتار نظر نہیں آتی جس کی یہاں کے نوجوان مستحق ہیں۔ یہ سوال کسی الزام یا تنقید کے جذبے سے نہیں بلکہ فکری اصلاح اور اجتماعی بیداری کے مقصد سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر تعلیمی ترقی کی رفتار سست کیوں محسوس ہوتی ہے، اور اس کے تدارک کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ برسوں میں حکومتی سطح پر اسکولوں کی تعداد میں اضافہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اسکالرشپ جیسی اسکیموں کے ذریعے مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم صرف عمارتوں کی تعمیر اور رسمی اندراج سے تعلیمی معیار بلند نہیں ہوتا۔ اصل توجہ تدریسی معیار، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی فکری نشوونما پر ہونی چاہیے۔
سہرسہ چونکہ کوسی علاقہ سے تعلق رکھتا ہے، جہاں سیلاب اور معاشی دشواریاں عام ہیں، اس لیے معاشی عدم استحکام بھی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ غریب گھرانوں کے بچوں کو کم عمری میں محنت مزدوری یا چھوٹے موٹے کاموں کی طرف مائل ہونا پڑتا ہے، جس سے تعلیم کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔
ایک اہم پہلو تعلیمی ماحول کا ہے۔ ہمارے یہاں مقابلہ جاتی امتحانات، کیریئر کونسلنگ اور جدید مہارتوں کی تربیت کا رجحان ابھی بھی محدود ہے۔ اگر مقامی سطح پر لائبریریوں، مطالعاتی مراکز اور رہنمائی پروگراموں کا قیام ہو تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری غیر معمولی ہے۔ ایک مخلص استاد پورے معاشرے کا رخ بدل سکتا ہے، اور باشعور والدین بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ تعلیم کو وقتی مجبوری نہیں بلکہ دائمی سرمایہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سہرسہ میں باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں۔ ریاستی و قومی سطح پر کامیاب ہونے والے طلبہ ہمارے لیے مثال ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کامیابیوں کو اجاگر کر کے نئی نسل کے سامنے رکھا جائے۔
اس مسئلے کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ مشترکہ کاوش ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور عوام اگر یکجا ہو جائیں تو تعلیمی بیداری کی ایک مضبوط تحریک کھڑی کی جا سکتی ہے۔
یہ وقت شکوہ کا نہیں بلکہ عہد کا ہے کہ ہم سہرسہ میں تعلیمی شعور کو فروغ دیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک باوقار، باعلم اور روشن مستقبل دیں گے۔

Post a Comment