عالمی سکون کا قتل — امریکہ و اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں اور مسلم دنیا کی مجرمانہ خاموشی
عصرِ حاضر کی عالمی سیاست اگر کسی ایک حقیقت کو پوری بے رحمی کے ساتھ بے نقاب کرتی ہے تو وہ یہ ہے کہ دنیا میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے تمام دعوے طاقت کے سامنے بے وزن ہو چکے ہیں۔ آج کی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ جنگیں ہو رہی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جنگوں کو معمول بنا دیا گیا ہے، ظلم کو حقِ دفاع کا نام دے دیا گیا ہے اور انسانی لاشوں پر کھڑی سیاست کو عالمی نظم و نسق کا حصہ مان لیا گیا ہے۔
اس تلخ حقیقت کے مرکز میں اگر کسی دو ناموں کو رکھا جائے تو وہ بلا تردد امریکہ اور اسرائیل ہیں، جن کی پالیسیاں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے سکون کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہیں۔ غزہ اس وقت محض ایک خطہ نہیں، بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایک زندہ سوال ہے۔
جدید تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ملے کہ ایک محصور آبادی پر اس قدر بے دریغ بمباری کی گئی ہو، جہاں نہ محفوظ پناہ گاہیں ہوں، نہ نکلنے کا راستہ، نہ بنیادی سہولیات۔ غزہ میں گھروں کے گھر ملبے میں بدل چکے ہیں، اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، اسکول راکھ بن گئے ہیں، اور وہ مناظر سامنے آئے ہیں جو تہذیب یافتہ دنیا کے تمام دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔
رمضان جیسے مقدس مہینے میں، جب دنیا کے دیگر حصوں میں سحری و افطار سکون، دعا اور اجتماع کا استعارہ ہوتی ہے، غزہ میں لوگ ملبے تلے، کھلے آسمان کے نیچے، بھوک اور خوف کے سائے میں سحری و افطار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ محض انسانی بحران نہیں، یہ انسانیت کی شکست ہے۔
اس پوری تباہی کے دوران اسرائیل کی عسکری کارروائیاں کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت نہیں ہوئیں، بلکہ انہیں کھلی اور غیر مشروط سرپرستی حاصل رہی۔ امریکہ نے ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کا دفاع کیا، ہر سوال کو سلامتی کے نام پر رد کیا، اور ہر اخلاقی اپیل کو سیاسی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں، جنگی جرائم سے متعلق رپورٹس اور انسانی حقوق کے اداروں کی چیخ و پکار سب اس وقت بے اثر ہو گئیں، جب سلامتی کونسل میں ویٹو کی طاقت نے انصاف کے دروازے بند کر دیے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عالمی نظام کی جانبداری پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے۔
غزہ کی آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ خطے کو ایک اور بحران کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ایران کے خلاف سخت بیانات، عسکری دھمکیاں، پابندیوں کی شدت اور بالواسطہ حملوں نے یہ تاثر مزید مضبوط کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں سکون نہیں، بلکہ مستقل بے چینی چاہتے ہیں۔
ایران کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ سوال اپنی پوری اخلاقی قوت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا عالمی طاقتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ طاقت کے بل پر کسی ریاست کو مستقل دباؤ، خوف اور محاصرے میں رکھیں؟ کیا یہی وہ عالمی قانون ہے جس کا درس دنیا کو دیا جاتا ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں میں امن ایک مقصد نہیں، بلکہ ایک نعرہ ہے۔ اصل ترجیح عسکری بالادستی، اسلحہ کی منڈیاں، جغرافیائی کنٹرول اور سیاسی اثر و رسوخ ہے۔
جنگیں نہ صرف طاقت کا مظاہرہ ہوتی ہیں بلکہ ایک پوری معیشت کو سہارا دیتی ہیں، جہاں اسلحہ بنتا ہے، بکتا ہے اور انسانی جانیں اس کی قیمت بنتی ہیں۔
لیکن اس پوری کہانی کا سب سے افسوس ناک اور شرمناک پہلو مسلم دنیا کا کردار ہے، یا یوں کہا جائے کہ اس کا فقدان۔ دنیا کے درجنوں مسلم ممالک، بے پناہ وسائل، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود، ایک مؤثر آواز بننے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ سچ ہے کہ مسلم ممالک کی یہ خاموشی محض کمزوری نہیں، بلکہ اخلاقی ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ دنیا میں جنگ کیوں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا میں امن کیوں نہیں پنپنے دیا جا رہا۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے، اور وہ یہ ضرور پوچھے گی کہ جب ظلم عروج پر تھا تو طاقتور خاموش کیوں تھے، اور کمزور متحد کیوں نہ ہو سکے۔

Post a Comment