جدید دنیا تیز رفتار تبدیلیوں، سائنسی انقلابات، معاشی دباؤ، عالمی سیاست اور سماجی اقدار کی بے پناہ کشمکش سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وہ تعلیمی ادارے جو انسان کی روح، عقل، اخلاق اور سماج—چاروں کو مربوط رکھتے ہیں، اُن کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ مدارس دینیہ ان ہی اداروں میں سے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ:
کیا مدارس اپنی تاریخی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں؟
یہ مقالہ اسی سوال کا محققانہ جواب فراہم کرتا ہے۔
(حوالہ: ڈاکٹر یاسر قاضی، History of Islamic Education، 2019)
مسلمانوں نے اپنے علمی سفر کا آغاز مسجدِ نبوی سے کیا، پھر دارالحکمہ، بیت الحکمہ، نظامیہ بغداد، جامعہ قرطبہ، جامعہ ازہر—یہ سب مدرسہ تہذیب کا سلسلہ تھے۔
ان اداروں نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں دنیا کا علم دیا۔
ابن خلدون مقدمہ میں لکھتے ہیں: “دینی و عقلی علوم امت کی اجتماعی بقا کا ستون ہیں۔ جب ایک کمزور ہوتا ہے تو دوسرا سہارا دیتا ہے۔”
یہ بات آج کے تناظر میں زیادہ اہم ہے، کیونکہ جدید دنیا میں محض مذہبی علم یا صرف دنیاوی علم—دونوں ناکافی ہیں۔
موجودہ صدی کے اہم چیلنجز درج ذیل ہیں:
- 1. نظریاتی انتشار — نوجوان ذہن سوشل میڈیا کے طوفان میں غیر مستحکم
- 2. اقتصادی دباؤ — برِصغیر میں بے روزگاری کی بلند شرح
- 3. سائنسی و ٹیکنالوجی انقلاب
- 4. سماجی رابطوں کا بحران
- 5. اخلاقی انحطاط اور مادیت پرستی
یونسکو کی 2023 کی رپورٹ کہتی ہے:
“Religious institutions can be meaningful contributors to social development — if they update administrative systems and pedagogy.”
(ترجمہ: مذہبی ادارے ترقی کے موثر محرک بن سکتے ہیں، اگر وہ اپنی تدریسی اور انتظامی حکمتِ عملی کو جدید بنیادوں پر استوار کریں۔)
1️⃣ اخلاقی و روحانی تربیت
دنیا میں اخلاقی بحران ہے، مگر مدارس آج بھی قرآن و سنت کی روشنی میں کردار سازی کا بہترین کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ کام ہے جو اقبالؒ نے مدارس کے بارے میں کہا تھا:
“جوہرِ مرد مسلماں میں ہے ایمانِ حرّ”
2️⃣ غریب طبقات کی تعلیم کا مرکز
جن علاقوں میں اسکول نہ ہوں، وہاں مدارس:
تعلیم
رہائش
کھانا
اخلاقی تربیت
—یہ سب بلا معاوضہ فراہم کرتے ہیں۔
3️⃣ سماجی ہم آہنگی
مدارس کے فارغین مساجد، کمیونٹی سینٹرز، سماجی جرگوں، اور اصلاحیی مجالس میں مصالحانہ کردار ادا کرتے ہیں۔
4️⃣ دینی شناخت کا تحفظ
جب عالمی سطح پر مذہبی اقدار پر حملے بڑھ رہے ہیں، مدارس اسلامی تہذیب کے محافظ قلعے ہیں۔
یہ حصہ اس مقالے کا مرکزی نقطہ ہے، اور اسے تحقیق کی روشنی میں نقطہ وار بیان کیا جا رہا ہے۔
(حوالہ: ڈاکٹر جمیل جلیبی، “اصلاحِ نصابِ دینیہ”)
تحقیق بتاتی ہے کہ مدارس کا نصاب “جامع” ہے مگر “مکمل” نہیں۔ یعنی روحانی طور پر کامل ہے، مگر معاشی زندگی کے لیے ناکافی۔
اس لیے آج بے حد ضروری ہے کہ مدارس:
بنیادی ریاضی
انگریزی/اردو مہارت
کمپیوٹر لٹریسی
معاشی اصول
سوشل اسٹڈیز
کو ذیلی مضامین کے طور پر شامل کریں۔
یہ اضافے دینی علم کا مقابل نہیں بلکہ مددگار ہیں۔
حوالہ: اسماعیل راجی الفاروقی، Cultural Atlas of Islam
دنیا کی ہر کامیاب تعلیمی تحریک اساتذہ کی تربیت پر کھڑی ہے۔
“ایک غیر تربیت یافتہ استاد نصاب کو بگاڑ دیتا ہے، اور تربیت یافتہ استاد نصاب کو زندہ کرتا ہے۔”
مدارس کو چاہیے:
جدید تدریسی مہارت
بچوں کی نفسیات
پیشہ ورانہ اخلاقیات
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
تحقیق کی بنیادی تربیت
کو لازمی بنائیں۔
حوالہ: پاکستان مدرسہ ریفارمز رپورٹ، 2022
تحقیق بتاتی ہے کہ عوام کا اعتماد سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ مدارس کو چاہیے:
سالانہ رپورٹ
مالی آڈٹ
خیراتی عطیات کی شفاف تقسیم
والدین و کمیونٹی کی شمولیت
—یہ سب اپنائیں تاکہ اعتماد اور بڑھ سکے۔
آج نوجوان:
یوٹیوب
ٹک ٹاک
انسٹاگرام
لبرل و دہری نظریات
کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
مدارس کے علما کو چاہیے کہ وہ:
نئے فکری سوالوں کے علمی جواب دیں
نوجوانوں کی فکری رہنمائی کریں
انتہا پسندی اور سطحی سوچ دونوں کی اصلاح کریں
علمی زبان میں معاصر چیلنجوں کی تشریح کریں
یہ کام صرف مدارس ہی کر سکتے ہیں۔
دنیا میں مذہبی ادارے صرف عبادت کے مراکز نہیں رہے، بلکہ ترقیاتی شراکت دار ہیں۔
مدارس کو چاہیے:
صحت مہمات
شہری آگاہی
خواتین کی بنیادی تعلیم
غریبوں کے لیے ہنر مندی کورس
ماحولیاتی تربیت
جیسے کاموں میں فعال کردار ادا کریں۔
ایک ادیب ، محقق اور مقالہ و مضمون نگار کی رائے کے طور پر
میں تحقیق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ:
اگر مدارس نے اپنی روحانی بنیادوں کو قائم رکھتے ہوئے انتظامی، تعلیمی اور فکری سطح پر جدید دنیا کے تقاضوں کو قبول کرلیا—تو مدارس صرف دینی ادارے نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل کی مسلم تہذیب کے اصل معمار بنیں گے۔
مدارس امت کی عقلی، اخلاقی اور سماجی قیادت کر سکتے ہیں بشرطیکہ:
روایت کو محفوظ رکھیں
تجدید کو قبول کریں
معاشرے سے جڑیں
عالمی تبدیلیوں کو سمجھیں
اور علمی دنیا میں اپنا مقام منوائیں
میرے نزدیک:
مدرسہ اگر خود کو اپڈیٹ کر لے تو یہ امت کے سب سے طاقتور ادارے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
مدارس دینیہ کا وجود صرف ماضی کی امانت نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت ہے۔ وہ روح بھی ہیں، روشنی بھی، تہذیب بھی، امید بھی۔
لیکن اس کے لیے:
نصاب میں توازن
اساتذہ کی تربیت
مالی شفافیت
فکری رہنمائی
سماجی کردار
—یہ پانچ ستون مضبوط کرنا لازمی ہے۔
یہ اصلاح مدارس کے مزاج کو بدلنے نہیں، بلکہ اس کی طاقت کو دوگنا کرنے کا ذریعہ ہے۔

Post a Comment