میرا پیارا وطن
ترانۂ حبُّ الوطنی — یومِ جمہوریہ کی نذر
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
جان و دل کی امانت ہے سچا وطن
جان سے بھی ہے پیارا یہ اچھا وطن
اس کی مٹی میں خوشبو ہے ایمان کی
اس کی فطرت میں عظمت ہے انسان کی
یہ زمیں صرف مٹی نہیں ہے حضور
یہ لہو سے لکھی ایک زندہ وطن
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
جس کی تاریخ قربانیوں سے بھری
جس کی ہر اینٹ سچ کی گواہی بنی
خونِ شہدا سے روشن ہے ہر اک قدم
یہ زمیں بولتی ہے وفا دم بہ دم
رہنماؤں، شہیدوں کا یہ ہے چمن
جس پہ نازاں ہے تاریخ، نازاں زمن
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
یہ وہ دھرتی ہے جس نے ہمیں سب دیا
علم و عرفاں کا، تہذیب کا در دیا
یہ وہ آنگن جہاں خواب پلتے رہے
جس میں افکار کے دیپ جلتے رہے
میرے اجداد کی ہے ریاضت کا فن
میرے بچوں کے خوابوں کا روشن چمن
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
اس کی تہذیب میں کیا نہیں ہے نہاں
اس کے سینے میں دھڑکے ہے سارا جہاں
اس کی گودی میں پل کر نکھرتا شعور
اس کی مٹی سے اٹھتا ہے عرفاں کا نور
اس کے کردار میں ضبط، ایماں، یقین
اس کی گفتار میں ہے وقارِ سخن
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
میری پہچان بھی ہے، مری جان بھی
میری ہر سانس میں ہے یہی آن بھی
میرے مضمون کا تو ہی عنوان ہے
میری تحریر کی روح تو، جان ہے
ہے عطاؔ کے زباں و قلم پر سخن
میری غیرت، مری شان، میرا وطن
میرا پیارا وطن، میرا پیارا وطن
یومِ جمہوریہ — آئینی وقار اور قومی عہد کا دن
26 جنوری یومِ جمہوریہ، ہندوستانی قوم کے اجتماعی شعور، آئینی تشخص اور جمہوری اقدار کا مظہر ہے۔ اسی دن 1950ء میں ہندوستان نے اپنا آئین نافذ کر کے خود کو ایک خود مختار، جمہوری اور فلاحی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
یہ دن ہمیں ان بے شمار قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بدولت ہمیں آزادی اور آئینی حقوق حاصل ہوئے۔ ہمارا آئین مساوات، عدل، آزادی، اخوت اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے اور ہر شہری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وطن کی تعمیر و ترقی میں اس کا کردار ناگزیر ہے۔
یومِ جمہوریہ کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم صرف جشن منانے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے کردار، گفتار اور عمل سے آئین کی روح کو زندہ رکھیں۔ اتحاد، رواداری، قانون پسندی اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ہم ایک مضبوط اور باوقار ہندوستان کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

Post a Comment