حکومت اور مسلمانوں کے تعلیمی ادارے
ایک آئینی، تعلیمی اور سماجی مطالعہ
تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
تعلیم کسی بھی سماج میں محض نصابی معلومات کی منتقلی کا نام نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس سماج کے فکری مزاج، اخلاقی سمت اور اجتماعی شعور کی تشکیل کا بنیادی وسیلہ ہوتی ہے۔ اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں تعلیم ہمیشہ طاقت، ریاست اور سیاست کے دائرے میں رہی ہے۔ جہاں ایک طرف تعلیم کو قومی ترقی، معاشی بہتری اور سماجی استحکام کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف اسی تعلیم کو کنٹرول، نگرانی اور نظریاتی تشکیل کے آلے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی ملک میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ریاست مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے تعلیمی اداروں کے ساتھ کس نوعیت کا برتاؤ کرتی ہے اور آیا یہ برتاؤ آئینی مساوات اور جمہوری انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں مسلمانوں کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں، خصوصاً مدارسِ اسلامیہ، اقلیتی اسکولوں اور اردو میڈیم اداروں کے بارے میں ریاستی رویے نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ بار بار کی جانچ، رجسٹریشن سے متعلق پیچیدگیاں، مالی امداد میں رکاوٹیں اور ضابطہ جاتی سختی بظاہر انتظامی امور دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب یہی سختی کسی خاص طبقے کے اداروں تک محدود محسوس ہو تو معاملہ محض انتظامی نہیں رہتا بلکہ آئینی اور سماجی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایک ذمہ دار معاشرے میں ایسے سوالات کو جذبات کے بجائے دلیل اور تحقیق کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے۔
سیاسی فلسفے اور سماجیات میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ علم اور طاقت کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ریاستیں علم کو محض غیر جانب دار معلومات کا مجموعہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے سماجی نظم، قومی شناخت اور شہری شعور کی تشکیل کا ذریعہ بناتی ہیں۔ معروف مفکر میشل فوکو نے اس تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تعلیمی ادارے بھی طاقت کے ان مراکز میں شامل ہوتے ہیں جہاں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون سا علم مرکزی ہوگا اور کون سا حاشیے پر۔ اس تناظر میں مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ ریاستی نصاب کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی روایت کو بھی منتقل کرتے ہیں۔
برصغیر کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ مدارسِ اسلامیہ محض مذہبی تعلیم تک محدود نہیں رہے۔ ان اداروں نے صدیوں تک سماج کو علماء، قاضی، اساتذہ اور اخلاقی رہنما فراہم کیے۔ نوآبادیاتی دور میں جب تعلیم کو اقتدار کے استحکام کا ذریعہ بنایا گیا تو انہی اداروں سے فکری خودمختاری اور اخلاقی استقامت کی آواز بلند ہوئی۔ آزادی کے بعد ہندوستانی آئین نے اس تاریخی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اقلیتوں کو اپنی زبان، ثقافت اور مذہب کے تحفظ کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیا، جس کی واضح عکاسی آئین کی دفعات 29 اور 30 میں ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں بھی اس اصول کو دوٹوک انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کی خودمختاری جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے اور ریاست کا کردار سہولت فراہم کرنے والا ہونا چاہیے، نہ کہ حاکمانہ۔ اس کے باوجود عملی سطح پر جب مسلم تعلیمی اداروں کو غیر معمولی نگرانی اور سخت ضابطہ بندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا قانون کا نفاذ واقعی سب کے لیے یکساں ہے یا نہیں۔ مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں بلکہ اس کے اطلاق کے طریقۂ کار کا ہے، جو اگر متوازن نہ ہو تو عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
سماجی نفسیات کے زاویے سے دیکھا جائے تو تعلیمی اداروں پر مسلسل شک اور دباؤ اقلیتی طبقات میں عدم تحفظ اور بیگانگی کے احساسات پیدا کرتا ہے۔ تعلیم، جو سماجی شمولیت اور ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے، ایسے ماحول میں دفاع اور خوف کی علامت بننے لگتی ہے۔ اس کے اثرات صرف طلبہ یا اساتذہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے سماج کی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب اس کے تمام شہری تعلیمی نظام کو اپنا اور محفوظ محسوس کریں۔
بین الاقوامی سطح پر تعلیم کو ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کریں اور چلائیں۔ دنیا کے کئی کثیرالثقافتی معاشروں میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو ریاستی نظام کا فطری حصہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کسی خطرے کے طور پر۔ اس پس منظر میں ہندوستانی صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہم اپنے آئینی وعدوں اور عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے ساتھ مکمل انصاف کر پا رہے ہیں۔
یہ تحریر کسی حکومت یا ادارے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک سنجیدہ آئینی اور تعلیمی سوال اٹھانے کے لیے ہے۔ جمہوری معاشروں میں ایسی گفتگو کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں قومی تعلیمی منظرنامے کا ایک باوقار اور ضروری حصہ تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ ادارے ان خلاؤں کو پُر کر رہے ہیں جہاں ریاستی تعلیمی نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیم سے متعلق کوئی بھی سنجیدہ بحث نعروں، لفاظی یا الزام تراشی سے نہیں بلکہ تحقیق، آئین اور مکالمے سے آگے بڑھتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، ہم آہنگ اور مضبوط ہندوستان چاہتے ہیں تو ہمیں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں سمیت تمام اقلیتی تعلیمی ڈھانچوں کو اعتماد، شراکت اور انصاف کے دائرے میں دیکھنا ہوگا، کیونکہ یہی جمہوریت کی اصل روح ہے اور یہی قومی مستقبل کی ضمانت بھی۔
حوالہ جاتی اشارات:
آئینِ ہند (دفعات 29–30)
سچر کمیٹی رپورٹ، حکومتِ ہند (2006)
T.M.A. Pai Foundation v. State of Karnataka
St. Stephen’s College v. University of Delhi
UNESCO – Education as a Human Right
United Nations – International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights

Post a Comment