بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلٰى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ﷺ
معراجُ النبی ﷺ
قرآن، حدیث اور اہلِ سنت و جماعت کی روشنی میں
ایک مفصل، مدلل، منطقی اور تحقیقی مطالعہ
از قلم
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
معراج کی حقیقت: ایک تمہیدی مگر بنیاد ساز بحث
واقعۂ معراجُ النبی ﷺ اسلامی عقائد کے اس دائرے سے تعلق رکھتا ہے جہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے، فلسفہ سر جھکا دیتا ہے اور ایمان اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ معراج محض ایک سفر نہیں بلکہ نبوتِ محمدی ﷺ کے کمال، عبدیتِ مصطفی ﷺ کے ظہور، اور قدرتِ الٰہی کے اعلان کا نام ہے۔ اگر اس واقعے کو جزوی، مختصر یا جذباتی انداز میں بیان کیا جائے تو نہ اس کی عظمت سامنے آتی ہے اور نہ اس کے اعتقادی مضمرات واضح ہوتے ہیں۔ اسی لیے اہلِ سنت و جماعت، خصوصاً بریلوی مکتبۂ فکر، نے ہمیشہ اس موضوع کو تفصیل، تدبر اور دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
معراج کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کس دائرے میں آتا ہے: تاریخ، خواب، تمثیل یا معجزہ؟ اہلِ سنت کے نزدیک اس کا جواب قطعی ہے: معراج ایک حقیقی معجزہ ہے، اور معجزہ وہ ہوتا ہے جو عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل سے بالا ہو، اور وحی کے ذریعے ثابت ہو۔
اسراء اور معراج: اصطلاحی فرق اور اعتقادی اہمیت
اکثر لوگ اسراء اور معراج کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ علمی طور پر ان دونوں کے درمیان فرق کو سمجھے بغیر معراج کا درست تصور قائم نہیں ہوتا۔ اسراء اس سفر کا نام ہے جو نبی کریم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کرایا گیا، جبکہ معراج اس کے بعد کا وہ مرحلہ ہے جس میں آپ ﷺ کو آسمانوں سے اوپر، سدرۃ المنتہیٰ، اور قربِ خاصِ الٰہی تک پہنچایا گیا۔ اہلِ سنت کے نزدیک یہ دونوں مرحلے ایک ہی رات میں، بغیر کسی انقطاع کے، جسم اور روح کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ بعض لوگ اسراء کو تو مان لیتے ہیں مگر معراجِ سماوی کی تاویلات شروع کر دیتے ہیں، جبکہ قرآن و حدیث دونوں کو ایک تسلسل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اسراء: لفظ، اسلوب اور دلالت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا
(الاسراء: 1)
اس ایک آیت میں معراج کے کئی بنیادی عقائد پوشیدہ ہیں۔ سب سے پہلے “سبحان” کا لفظ آیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ انسانی طاقت یا اسباب کا محتاج نہیں بلکہ خالص قدرتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ پھر “اسریٰ” کا لفظ آیا، جو عربی زبان میں رات کے وقت جسم کے ساتھ سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہ خواب ہوتا تو “اسریٰ” کا استعمال لغوی طور پر درست نہ تھا۔
سب سے فیصلہ کن لفظ “عبدہٖ” ہے۔ امام فخرالدین رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ عبد کا اطلاق روحِ مجرد پر نہیں ہوتا، کیونکہ عبدیت کا تقاضا جسم اور روح دونوں کا ہونا ہے۔ امام قرطبی، امام بیضاوی اور علامہ آلوسی نے بھی یہی بات لکھی ہے کہ اس آیت سے اسراء کا جسمانی ہونا ثابت ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن نے اس سفر کے لیے وقت (لیلًا) اور مقام (مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ) کی تعیین کی ہے۔ خواب کے لیے نہ اس درجے کی تحدید ضروری ہوتی ہے اور نہ ہی مقام کی یہ وضاحت۔
قریش کا ردِ عمل اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی تصدیق
جب نبی کریم ﷺ نے صبح کے وقت قریش کے سامنے اس واقعے کو بیان فرمایا تو انہوں نے اسے بعید از عقل سمجھ کر انکار کیا۔ اگر یہ صرف خواب کا بیان ہوتا تو کفار کے لیے نہ تعجب کا موقع تھا اور نہ انکار کا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا:
“اگر محمد ﷺ نے کہا ہے تو وہ سچ کہتے ہیں۔”
یہ تاریخی حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ معراج کو صحابہؓ نے بھی بیداری کا واقعہ سمجھا، خواب نہیں۔
سورۂ نجم: معراجِ سماوی کی قرآنی تفصیل
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ
(النجم: 13–14)
یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی حقیقی صورت میں دیکھا، اور یہ دیکھنا ایک حقیقی مقام پر ہوا، نہ کہ کسی خواب میں۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ یہاں رؤیت کا اطلاق حقیقی مشاہدے پر ہے، نہ کہ قلبی تصور پر۔
احادیثِ صحیحہ میں معراج: جزئیات کا قطعی ثبوت
صحیح بخاری و مسلم میں معراج کی روایات اتنی تفصیل سے آئی ہیں کہ اگر کوئی شخص ان سب کو خواب پر محمول کرے تو اسے اصولِ حدیث ہی کو ترک کرنا پڑے گا۔ براق کا ذکر، بیت المقدس پہنچنا، انبیاء کی امامت، آسمانوں پر درجہ بہ درجہ سفر، ہر آسمان پر نبی سے ملاقات — یہ سب جزئیات اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ واقعہ شعوری اور جسمانی تھا۔
امام نووی شرح مسلم میں صاف لکھتے ہیں کہ معراج جسمانی ہونے پر جمہور علماء کا اتفاق ہے اور یہی قول حق ہے۔
معراج اور فرضِ نماز: عقلی و شرعی ربط
یہاں ایک نہایت بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز کرنا علمی بددیانتی ہے۔ معراج کی رات پچاس نمازیں فرض ہوئیں، پھر تخفیف کا مرحلہ آیا، حتیٰ کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ اگر معراج خواب ہوتی تو شریعت کا سب سے عظیم عملی حکم اس سے وابستہ نہ کیا جاتا۔ امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ خواب میں امت پر احکام فرض ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
دیدارِ الٰہی: اہلِ سنت کا معتدل موقف
دیدارِ الٰہی کے مسئلے میں اہلِ سنت نہ جذباتی ہیں نہ منکر۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ اور امام اشعریؒ نے اسے اہلِ سنت کا عقیدہ قرار دیا، مگر ساتھ ہی یہ قید لگائی کہ یہ دیدار بلا کیف و بلا تشبیہ تھا۔ بریلوی مکتبۂ فکر اسی توازن کا نام ہے۔
عقل، فلسفہ اور معراج: ایک منطقی تجزیہ
جو لوگ معراج کو عقل کی بنیاد پر رد کرتے ہیں وہ دراصل عقل کو وحی پر حاکم بنا دیتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک عقل وحی کی خادمہ ہے۔ معجزہ عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل سے بالا ہوتا ہے۔ یہی بات قاضی عیاض نے شفا شریف میں -لکھی ہے اور امام احمد رضا خان بریلویؒ نے اسی اصول کو بنیاد بنا کر معراج کے منکرین کا رد کیا ہے۔
سدرۃُ المنتہیٰ: مفہوم، حقیقت اور قرآنی دلالت
جب معراجِ سماوی کا ذکر کیا جاتا ہے تو سدرۃُ المنتہیٰ کا تذکرہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی رسائی ختم ہو جاتی ہے اور جہاں تک کسی نبی، رسول یا فرشتے کا علم و مشاہدہ محدود ہے۔ قرآنِ کریم سورۂ نجم میں اس مقام کا ذکر نہایت صراحت کے ساتھ کرتا ہے:
عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ
(النجم: 14–15)
ائمۂ تفسیر کے نزدیک “منتہیٰ” کا مطلب ہے انتہا، یعنی وہ حد جہاں مخلوق کا علم، عمل اور پرواز ختم ہو جاتی ہے۔ امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں کہ سدرۃُ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کے علوم بھی ختم ہو جاتے ہیں، اور اس سے آگے جو کچھ ہے وہ خاص طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ﷺ کے درمیان کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جبریلِ امین علیہ السلام اس مقام پر پہنچے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں اس سے آگے بڑھا تو جل جاؤں گا، مگر رسولِ اکرم ﷺ اس مقام سے بھی آگے تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ معراج محض روحانی تجربہ نہیں بلکہ ایسا حقیقی مشاہدہ ہے جس میں مقامات، حدود اور درجات سب متعین ہیں۔
رفرف، براق اور معراج کی سواریوں کا اعتقادی پہلو
احادیثِ معراج میں براق اور رفرف کا ذکر آیا ہے۔ براق وہ نورانی سواری ہے جس پر نبی کریم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا۔ صحیح بخاری میں براق کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا ہر قدم وہاں پڑتا تھا جہاں نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ یہ تفصیل خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی خیالی شے نہیں بلکہ ایک مخلوق تھی جسے اللہ تعالیٰ نے اس خاص معجزے کے لیے پیدا فرمایا۔
سدرۃُ المنتہیٰ کے بعد رفرف کا ذکر آتا ہے، جسے بعض روایات میں سبز رنگ کا نورانی فرش یا سواری بیان کیا گیا ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک ان تمام امور کو بلا تاویل ماننا ہی ایمان کا تقاضا ہے، کیونکہ ان کا ثبوت صحیح روایات سے ہے۔ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ معراج کی سواریوں کا انکار دراصل احادیثِ صحیحہ کے انکار کے مترادف ہے۔
جنت و دوزخ کے مشاہدات: نصوص کی روشنی میں
معراج کی رات نبی کریم ﷺ کو جنت اور دوزخ کے مناظر دکھائے گئے۔ صحیح مسلم میں وہ روایات موجود ہیں جن میں جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کا ذکر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بعض ایسے لوگوں کو دیکھا جو دنیا میں خاص گناہوں کے مرتکب تھے اور اب ان کے مطابق عذاب میں مبتلا تھے۔ ان مشاہدات کا مقصد محض اطلاع دینا نہیں تھا بلکہ امت کو تنبیہ اور نصیحت کرنا تھا۔
اہلِ سنت کے نزدیک یہ مشاہدات حقیقی تھے، نہ کہ خواب یا تمثیل۔ اگر یہ محض تمثیلی ہوتے تو نبی کریم ﷺ ان کی تفصیل امت کو اس انداز میں نہ بیان فرماتے جس سے عملی احکام اور اخلاقی اصلاح مقصود ہو۔
آسمانوں پر انبیاء سے ملاقات: ترتیب اور حکمت
معراج کی احادیث میں یہ تفصیل بھی آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام، دوسرے پر حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ، تیسرے پر حضرت یوسف، چوتھے پر حضرت ادریس، پانچویں پر حضرت ہارون، چھٹے پر حضرت موسیٰ اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہ ترتیب محض اتفاق نہیں بلکہ اس میں حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
امام قسطلانی لکھتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں اس بات کا اعلان تھیں کہ محمد ﷺ تمام انبیاء کے امام ہیں، اور ہر نبی نے اپنے انداز میں آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق فرمائی۔ بیت المقدس میں انبیاء کی امامت اور پھر آسمانوں پر ان سے ملاقات، دونوں مل کر آپ ﷺ کی امامتِ عامہ کو ثابت کرتی ہیں۔
فرضِ نماز اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مکالمہ
معراج کی رات نماز کا فرض ہونا محض ایک حکم نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی مرحلہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کو بار بار تخفیف کا مشورہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ امتِ محمدیہ پر رحمت کا خاص اہتمام کیا گیا۔ یہ مکالمہ اگر خواب میں ہوتا تو نہ اس کی یہ تفصیل ہوتی اور نہ اس کے نتیجے میں امت کے لیے دائمی قانون بنتا۔
امام نووی لکھتے ہیں کہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف اپنے محبوب ﷺ کے مقام کو ظاہر کیا اور دوسری طرف امت پر آسانی کا دروازہ کھولا، یہاں تک کہ پانچ نمازیں پچاس کے اجر کے برابر قرار پائیں۔
رؤیتِ باری تعالیٰ: اختلاف، تحقیق اور اہلِ سنت کا فیصلہ کن موقف
دیدارِ الٰہی کے مسئلے پر امت میں اختلاف ہوا، مگر اہلِ سنت کا موقف دلائل کی روشنی میں نہایت واضح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے یہ قول مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا۔ دوسری طرف حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ ائمۂ اہلِ سنت نے ان دونوں اقوال میں تطبیق دی ہے۔
امام بیہقی، امام نووی اور امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ دیدار ہوا، مگر اس کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ دیدار یا تو قلبی تھا یا خاص نور کے ساتھ، مگر بہرحال یہ حقیقت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ایسا قرب حاصل ہوا جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ بریلوی مکتبۂ فکر اسی تطبیقی اور محتاط موقف کو اختیار کرتا ہے، نہ انکار کرتا ہے اور نہ تشبیہ دیتا ہے۔
عقل، سائنس اور معراج: جدید شبہات کا اصولی جواب
جدید دور میں بعض لوگ معراج کو سائنسی معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ اپنی عقل کے دائرے میں اسے نہ سمجھ سکیں تو انکار یا تاویل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اہلِ سنت کے نزدیک یہ طرزِ فکر بنیادی طور پر غلط ہے، کیونکہ سائنس مشاہدے پر قائم ہے اور معجزہ مشاہدے کے دائرے سے ماورا ہوتا ہے۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ لکھتے ہیں کہ جو شخص معجزات کو عقلِ محض پر پرکھے وہ ایمان کی روح سے ناواقف ہے، کیونکہ ایمان بالغیب کا نام ہے، نہ کہ تجربہ گاہ کا نتیجہ۔
معراج اور بریلوی مکتبۂ فکر کا امتیاز
بریلوی مکتبۂ فکر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معراج کے معاملے میں نہ غلو کرتا ہے اور نہ انکار۔ وہ قرآن و حدیث کے ظاہر پر ایمان رکھتا ہے، سلفِ صالحین کی پیروی کرتا ہے، اور عشقِ رسول ﷺ کو علم کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بریلوی علماء نے معراج پر جو کچھ لکھا وہ اعتقادی بھی ہے، تحقیقی بھی، اور روحانی بھی۔
معراج کا روحانی و عملی پیغام
معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی آلودگیوں سے نکل کر آسمانی پاکیزگی کی طرف جانا ممکن ہے، بشرطیکہ بندہ نماز، اطاعت اور عشقِ رسول ﷺ کو اپنا راستہ بنائے۔ اسی لیے صوفیاء نے کہا کہ مومن کی معراج نماز ہے، کیونکہ نماز بندے کو روزانہ اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔
نتیجۂ بحث
ان تمام تفصیلات، قرآنی آیات، احادیثِ صحیحہ، ائمۂ اہلِ سنت کی تصریحات اور منطقی دلائل سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ معراجُ النبی ﷺ ایک حقیقی، جسمانی، بیداری میں پیش آنے والا معجزہ ہے، جس کا کوئی پہلو مبہم نہیں اور کوئی حصہ ناقابلِ قبول نہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف نبی کریم ﷺ کی شان کا مظہر ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایمان، عبادت اور یقین کا دائمی سرچشمہ ہے۔

Post a Comment