یومِ جمہوریہ: آئین سازی سے آج تک ہندوستانی جمہوریت کا ایک جامع تحقیقی مطالعہ
ہندوستان میں ہر سال 26 جنوری کو منایا جانے والا یومِ جمہوریہ بظاہر ایک قومی تقریب، فوجی پریڈ اور سرکاری تعطیل کا دن ہے، مگر حقیقت میں یہ دن ہندوستانی ریاست کے اس بنیادی آئینی معاہدے کی یاد دہانی ہے جس پر پورا جمہوری نظام قائم ہے۔ یہ آئین صرف اقتدار کی تقسیم یا حکومتی ڈھانچے کا ضابطہ نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کا فکری، اخلاقی اور قانونی منشور ہے جو مذہبی، لسانی، ثقافتی اور سماجی تنوع کے باوجود خود کو ایک مشترک قومی وحدت میں منظم رکھنا چاہتا ہے۔ یومِ جمہوریہ دراصل اس سوال کو زندہ رکھتا ہے کہ کیا ہم نے آئین کو واقعی اپنی اجتماعی زندگی کا رہنما بنایا ہے یا اسے محض ایک رسمی دستاویز تک محدود کر دیا ہے۔
15 اگست 1947ء کو سیاسی آزادی کے بعد ہندوستان کو جن پیچیدہ حالات کا سامنا تھا، وہ محض اقتدار کی منتقلی تک محدود نہیں تھے۔ ایک صدیوں سے استعماری نظام کے تحت رہنے والا معاشرہ، جس میں ذات پات، مذہب، زبان اور علاقائیت کے گہرے اختلافات موجود ہوں، اس کے لیے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ریاستی نظم و نسق کن اصولوں پر قائم کیا جائے۔ برطانوی دور کے قوانین عوامی حاکمیت، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ نہیں تھے، اس لیے ایک نئے آئینی نظام کی تشکیل ناگزیر ہو چکی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت دستور ساز اسمبلی کا قیام عمل میں آیا، جس نے تقریباً تین برس تک مسلسل غور و فکر، تفصیلی مباحث اور اختلافِ رائے کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آئینِ ہند کی تشکیل کی۔
اس آئین سازی کے عمل میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، جنہیں مسودہ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک ماہر قانون تھے بلکہ سماجی مساوات، شہری آزادیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے مضبوط حامی بھی تھے۔ ان کے ساتھ پنڈت جواہر لعل نہرو، ڈاکٹر راجندر پرساد، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، کے۔ ایم۔ منشی، بی۔ این۔ راؤ، الادی کرشن سوامی ائیر اور دیگر ممتاز قانونی و فکری شخصیات شامل تھیں۔ ان سب کا تعلق مختلف نظریات اور فکری پس منظر سے تھا، مگر آئین سازی کے مرحلے پر اجتماعی دانش اور قومی مفاہمت غالب رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آئینِ ہند کسی ایک جماعت، طبقے یا نظریے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا آئین بن سکا۔
آئین کو 26 جنوری 1950ء سے نافذ کرنے کا فیصلہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس کی گہری تاریخی علامت تھی۔ 26 جنوری 1930ء کو ہندوستانی قوم نے مکمل آزادی، یعنی پورن سوراج، کا اعلان کیا تھا۔ اس علامتی ربط کے ذریعے آزادی کی سیاسی جدوجہد کو آئینی حاکمیت میں ڈھال دیا گیا۔ یوں 26 جنوری آزادی کے خواب کی عملی اور قانونی تعبیر بن گیا۔
آئینِ ہند دنیا کے طویل ترین تحریری آئینوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں برطانوی پارلیمانی نظام، امریکی بنیادی حقوق، آئرش ہدایتِ اصولِ ریاست اور دیگر عالمی آئینی تجربات سے استفادہ کیا گیا، مگر اس کی روح مکمل طور پر ہندوستانی سماج کی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔ آئین کی تمہید ہندوستان کو ایک خود مختار، سوشلسٹ، سیکولر اور جمہوری جمہوریہ قرار دیتی ہے اور انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کو ریاستی نصب العین بناتی ہے۔ یہ محض قانونی اصطلاحات نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی عہد ہیں، جن کی تکمیل ریاست اور شہری دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئین کے نفاذ کے بعد ابتدائی دہائیوں میں ادارہ جاتی استحکام، پارلیمانی بالادستی اور عدلیہ کی خود مختاری کو بڑی حد تک برقرار رکھا گیا۔ ریاستی پالیسیوں میں سماجی اصلاحات کو آئینی دائرے میں رکھنے کی کوشش کی گئی اور جمہوری اقدار کو فروغ ملا۔ یہ وہ دور تھا جب آئین کو قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز سمجھا جاتا تھا اور سیاسی اختلاف کے باوجود آئینی حدود کا احترام کیا جاتا تھا۔
تاہم 1970 کی دہائی میں ہندوستانی جمہوریت ایک سنگین آزمائش سے دوچار ہوئی۔ 1975 سے 1977 تک نافذ کی گئی ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق معطل کیے گئے، اظہارِ رائے محدود ہوا اور ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ یہ دور اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ آئین کی موجودگی بذاتِ خود اس کی پاسداری کی ضمانت نہیں، جب تک عوامی نگرانی، آزاد عدلیہ اور ذمہ دار ادارے فعال نہ ہوں۔
ایمرجنسی کے بعد آئینی نظام کی بحالی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ عدلیہ نے “بنیادی ڈھانچہ نظریہ” کے ذریعے آئین کی بالادستی کو ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کی اور یہ واضح کیا کہ پارلیمنٹ بھی آئین کی بنیادی روح کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس کے باوجود سیاسی مصلحتیں، طاقت کی کشمکش اور وقتی مفادات نے آئینی حدود کو بار بار آزمایا۔
1990 کی دہائی کے بعد معاشی لبرلائزیشن، سیاست کی مرکزیت، میڈیا کے کردار میں تبدیلی اور ادارہ جاتی دباؤ نے آئینی توازن کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا۔ مختلف ادوار میں حکومتوں پر یہ الزام لگتا رہا کہ قانون سازی، انتظامی فیصلوں اور آئینی شقوں کی من مانی تشریح کے ذریعے آئینی روح کو کمزور کیا گیا۔ کبھی قوانین کا انتخابی نفاذ ہوا، کبھی اداروں پر دباؤ کے الزامات سامنے آئے اور کبھی شہری آزادیوں کے دائرے کو محدود کیا گیا۔
جمہوریت میں عدلیہ آئین کی محافظ، میڈیا عوام کی آواز اور شہری سماج ریاستی طاقت پر نظر رکھنے والا اہم ستون ہوتا ہے۔ جب یہ ستون مضبوط ہوں تو آئین محض کتاب نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے، اور جب یہ کمزور پڑ جائیں تو آئین رسمی حوالہ بننے لگتا ہے۔ یومِ جمہوریہ اسی بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آئینی تحفظ صرف دفعات سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے ممکن ہے۔
آج کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ کیا یومِ جمہوریہ کو ہم محض ایک رسمی جشن کے طور پر مناتے ہیں یا اسے آئینی احتساب اور خود جائزے کا دن بھی سمجھتے ہیں۔ بالغ جمہوریتیں قومی دنوں کو خود احتسابی کے مواقع میں بدلتی ہیں، جہاں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کوتاہیوں کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور آئندہ کے لیے اصلاح کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ یومِ جمہوریہ آئین، ریاست اور عوام کے درمیان ایک زندہ اور متحرک رشتے کی علامت ہے۔ آئین محض دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے، جس کی بقا عوامی بیداری، ادارہ جاتی دیانت اور آئینی وفاداری سے وابستہ ہے۔ اگر آئین کو صرف تقریبات اور نعروں تک محدود رکھا گیا تو جمہوریت کمزور ہوگی، اور اگر اسے اجتماعی زندگی کا عملی ضابطہ بنایا گیا تو یہی آئین ہندوستان کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوگا۔

Post a Comment