منتخب اردو غزلیں
یہ غزلیں جذبے، احساس، خاموش مکالمے اور نظر کی زبان میں کہی گئی ہیں۔ کہیں اشارے بولتے ہیں، کہیں نگاہیں، اور کہیں عشق اپنی منطق خود تخلیق کرتا ہے۔
غزل
مجھکو تو بھاتا ہے یہ اشاروں سے گفتگو
نظریں گھما کے کر لو، ہزاروں سے گفتگو
پلکوں کی چلمنوں میں نہاں نغمۂ طلب
کرتی ہے دھڑکنیں بھی کناروں سے گفتگو
تفسیرِ حسن ہیں وہ ادا، مسکراہٹیں
خاموش لب سے کرتی پیاروں سے گفتگو
زلفوں کے پیچ و تاب سے ہر شب مہک اٹھی
کرنے لگا گھٹا بھی ستاروں سے گفتگو
اک نیم وا نگاہ میں صد موسموں کا کیف
کرتی ہے روح جا کے بہاروں سے گفتگو
لفظوں کا اعتبار بھی آخر فریب تھا
سچی ہے بس نظر کی نظاروں سے گفتگو
لفظوں میں بات عشق کی ہوتی کہاں عطاؔ
زیبا تو عشق میں ہے اشاروں سے گفتگو
غزل
میں تجھ کو پانے کا بالکل ہنر نہیں رکھتا
مگر یہ دل ہے خرد کی خبر نہیں رکھتا
میں دل کی بات کہوں تو کہوں تجھے کیسے
کہ اپنے لفظ میں سوزِ جگر نہیں رکھتا
خیال آیا نظر سے ہی کہہ دیا جائے
پتا چلا کہ میں جذبِ تابِ نظر نہیں رکھتا
ہے بے شمار حسینہ مری نگاہوں میں
مگر یہ دل ہے، میں سب کو ادھر نہیں رکھتا
یقین جانو کہ جب سے تجھے میں دیکھا ہوں
ترے سوا میں کسی پر نظر نہیں رکھتا
تو حسنِ خاص ہے، شوقِ نظر ہے تُو میری
دل و نظر میں میں عکسِ دِگر نہیں رکھتا
عطاؔ! یہ دل بھی عجب بے گناہ مجرم ہے
جو قیدِ عشق کے غم سے مفر نہیں رکھتا
غزل
ممکن نہیں اب وار سے خود کو بچانا
نظریں ہوں کہیں اور کہیں ہو نشانہ
اک سمت تبسم ہو تو اک سمت قیامت
یوں تو نے سکھایا ہے مجھے دل کو جلانا
مشکل ہے کیے عکس کو آنکھوں سے مٹانا
خوابوں میں خیالوں میں مسلسل ترا آنا
خاموش نگاہوں میں ہے تحریرِ مقدر
اک آن میں بن جائے یہ صدیوں کا فسانہ
یہ عشق ہے اس میں نہ ہے منطق نہ دلیلیں
جو ٹوٹ کے چاہا وہی ٹھہرا دیوانہ
ہر وار میں پنہاں ہے تری فتح کا پہلو
میں ہار بھی جاؤں تو یہی جیت ہے جانا
دستورِ محبت کو عطاؔ جان گیا ہوں
کہ جیتنے سے پہلے ضروری ہے ہرانا

Post a Comment