امانت و دیانت: اسلامی تہذیب میں فرد کی سچائی اور معاشرے کی بقا
تمہید (ایک فکری اور ادبی آغاز)
انسانی معاشرے کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت ہر دور میں نمایاں دکھائی دیتی ہے: قومیں تلوار سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں؛ اور تہذیبیں دولت سے نہیں، دیانت سے زندہ رہتی ہیں۔
جب معاشرے میں اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، سچ مشکوک ہو جاتا ہے، اور امانت بوجھ بننے لگتی ہے، تو وہاں قانون، طاقت اور نعروں کے باوجود زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسلام ایسے ہی اخلاقی بحرانوں کا علاج بن کر آیا—اور اس نے جس قدر زور امانت و دیانت پر دیا، اس کی نظیر کسی بھی اخلاقی نظام میں مشکل سے ملتی ہے۔
یہ مضمون اسی بنیادی اسلامی قدر پر ایک جامع، مدلل اور منطقیانہ مطالعہ ہے، جس میں قرآنِ مجید، احادیثِ صحیحہ اور معتبر اسلامی تصورات کی روشنی میں واضح کیا جائے گا کہ امانت و دیانت محض اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ ایمان کی علامت، شریعت کی روح اور معاشرتی بقا کی ضمانت ہیں۔
امانت و دیانت: مفہوم اور دائرہ
امانت
لغوی اعتبار سے: وہ حق جو کسی کے سپرد کیا جائے اور اس کی حفاظت لازم ہو۔
اسلامی اصطلاح میں: امانت کا دائرہ نہایت وسیع ہے:
- مال و دولت
- ذمہ داریاں
- عہدے
- علم
- حتیٰ کہ شریعت کی پابندی بھی امانت ہے
دیانت
حق کو پہچان کر اس پر قائم رہنا، خواہ اس میں ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ یوں دیانت، امانت کی روح اور اس کی حفاظتی دیوار ہے۔
قرآنِ مجید میں امانت کی حیثیت
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
(النساء: 58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ امانت ادا کرنا محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ کا صریح حکم ہے۔
امانت: ایک کائناتی ذمہ داری
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ…
(الأحزاب: 72)
یہ آیت بتاتی ہے کہ امانت انسان کے کندھوں پر رکھی گئی ایک عظیم ذمہ داری ہے، جسے اٹھانے سے کائنات کی بڑی مخلوقات بھی ہچکچائیں۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں دیانت کا معیار
لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ
(مسند احمد)
یہ حدیث اعلان کرتی ہے کہ جس میں امانت نہیں، اس کا ایمان کامل نہیں۔
نفاق کی علامت
"منافق کی علامتیں تین ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
رسول ﷺ کی عملی زندگی: دیانت کا کامل نمونہ
بعثت سے قبل ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق، الامین کہا کرتے تھے۔ ہجرت کے موقع پر دشمنوں کی امانتیں واپس کروانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں اصول حالات پر غالب آ جاتے ہیں۔
امانت و دیانت: معاشرتی زندگی میں
1. معاشی معاملات
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
(الأعراف: 85)
ناپ تول، تجارت اور ملازمت—ہر شعبے میں دیانت کو لازم قرار دیا گیا۔
2. عہدے اور ذمہ داریاں
اسلام میں عہدہ اعزاز نہیں بلکہ امانت ہے۔ نااہل شخص کو منصب دینا قیامت کی نشانیوں میں شمار ہوا ہے۔
3. علم اور فتویٰ
غلط بات منسوب کرنا یا علم چھپانا علمی خیانت ہے، جس پر سخت وعید آئی ہے۔
عصرِ حاضر کا بحران: خیانت کا غلبہ
آج جھوٹ کو ہوشیاری، خیانت کو چالاکی اور دیانت کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی اخلاقی زوال، تہذیبی زوال کی ابتدا ہے۔
اسلامی حل: اعتماد کی بحالی
- اللہ کی نگرانی کا یقین
- آخرت میں جواب دہی کا احساس
- نبی ﷺ کی عملی سنت کی پیروی
خاتمہ
امانت و دیانت کوئی اضافی خوبی نہیں بلکہ انسان کی اصل پہچان ہے۔ اگر عبادات زندہ رہیں مگر دیانت دفن ہو جائے تو دین رسم بن جائے گا، روح نہیں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امانت دار، دیانت دار اور سچے کردار کا حامل بنائے، اور ہمارے معاشرے کو اعتماد اور سچائی کی روشنی سے منور فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment