عصرِ حاضر میں مدارس کا تعلیمی نظام: ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

عصرِ حاضر میں مدارس کا تعلیمی نظام | تحقیقی مقالہ

عصرِ حاضر میں مدارس کا تعلیمی نظام

ایک تنقیدی، تحقیقی اور تقابلی مطالعہ

از قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

خلاصۂ مقالہ

زیرِ نظر مقالہ عصرِ حاضر میں رائج مدارسِ اسلامیہ کے تعلیمی نظام کا ایک تنقیدی و تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگرچہ مدارس نے دینی علوم کے تحفظ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، تاہم موجودہ تعلیمی ڈھانچہ فکری آزادی، عملی تربیت، جسمانی نشوونما، عصری تقاضوں اور معاشی خود کفالت جیسے بنیادی پہلوؤں میں شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔ مقالہ قرآنی نصوص، سنتِ نبوی ﷺ، اسلافِ امت کے طرزِ عمل اور جدید تعلیمی نظریات کی روشنی میں یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ مدارس کا موجودہ نظام نہ مکمل طور پر اسلامی منہجِ تعلیم سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی دورِ حاضر میں ایک باوقار، خود مختار اور ہمہ جہت عالمِ دین تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تمہید

تعلیم محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی، جسمانی اور معاشی تشکیل کا نام ہے۔ اسلامی تہذیب کے عروج کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ مسلمان جب تک علم کو زندگی کے تمام شعبوں سے مربوط رکھے رہے، وہ دنیا کی فکری قیادت کرتے رہے۔ مدارسِ اسلامیہ اسی تعلیمی روایت کے امین ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ دور میں مدارس کا تعلیمی نظام تاریخی تسلسل تو رکھتا ہے، مگر زمانی ارتقا سے بڑی حد تک کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

یہ مقالہ اسی نکتے کو بنیاد بنا کر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا آج کا مدرسہ واقعی اس مقصد کو پورا کر رہا ہے جس کے لیے اسلامی تعلیم وجود میں آئی تھی، یا پھر وہ ایک محدود دائرے میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔

اسلامی تصورِ تعلیم: ایک نظریاتی اساس

قرآنِ مجید کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے تعلیم کو محض حفظِ معلومات تک محدود نہیں رکھا۔ بار بار عقل، فکر، تدبر اور شعور کو مخاطب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی تعلیم کا مقصد انسان کو ایک باشعور، صاحبِ بصیرت اور باعمل ہستی بنانا ہے۔ قرآن کا اسلوب “لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ” اور “أَفَلَا تَعْقِلُونَ” جیسے جملوں کے ذریعے سوال، غور اور تحقیق کو علم کا بنیادی دروازہ قرار دیتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا طرزِ تعلیم بھی اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ احادیث کے ذخیرے میں متعدد مثالیں ملتی ہیں جہاں صحابہؓ نے سوالات کیے، حتیٰ کہ بعض مواقع پر اپنی فکری الجھن یا اختلاف بھی پیش کیا، مگر نبی ﷺ نے کبھی سوال کرنے کو گستاخی یا بے ادبی قرار نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی تعلیم آزادیِ فکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

مدارس میں آزادیِ فکر کا فقدان

موجودہ مدارس کے تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سوال، تحقیق اور تنقیدی سوچ کو عموماً حوصلہ افزائی حاصل نہیں ہوتی۔ نصابی کتاب کو حرفِ آخر سمجھ لیا جاتا ہے اور اس سے ہٹ کر سوچنے کو اکثر بغاوت یا بے ادبی کے مترادف گردانا جاتا ہے۔

تعلیمی نفسیات کے ماہرین کے مطابق جب طالب علم کو سوال کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو اس کی تجزیاتی صلاحیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے بہت سے فارغ التحصیل افراد نصوص کا ذخیرہ تو رکھتے ہیں، مگر جدید فکری، سماجی اور معاشی مسائل کے تجزیے کی صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اسلامی علمی روایت سے صریح انحراف ہے، کیونکہ اجتہاد، استنباط اور فقہی تنوع کی پوری تاریخ فکری آزادی ہی کی مرہونِ منت ہے۔

رٹّا نظام اور فہمِ دین کا بحران

مدارس کے موجودہ تعلیمی نظام میں کامیابی کا معیار زیادہ تر حفظِ متن، امتحانی نتائج اور درجہ بندی تک محدود ہو چکا ہے۔ فقہ، اصول، حدیث اور تفسیر جیسے عمیق علوم کو بھی اکثر محض امتحانی مضامین بنا دیا گیا ہے۔

اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ ہے کہ طالب علم کتابی عبارات تو دہرا لیتا ہے، مگر ان کے مقاصد، علل اور عملی تطبیقات سے ناواقف رہتا ہے۔ فہمِ دین کا یہ بحران اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب یہی طالب علم عملی زندگی میں جدید ریاست، معیشت، میڈیا یا سماجی پیچیدگیوں کا سامنا کرتا ہے اور وہاں خود کو غیر مؤثر پاتا ہے۔

عملی تعلیم کی عدم موجودگی

اسلامی تعلیم کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا عملی پہلو ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک، ہر حکم عملی تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے باوجود مدارس میں تعلیم زیادہ تر نظری سطح پر محدود رہتی ہے۔

فقہ پڑھائی جاتی ہے مگر جدید قانونی نظام، عدالتی ڈھانچے اور سماجی قوانین سے عملی شناسائی نہیں دی جاتی۔ دعوت و ارشاد کے اصول پڑھائے جاتے ہیں مگر جدید ابلاغی ذرائع، سماجی نفسیات اور معاصر فکری بیانیے سے عملی تربیت نہیں دی جاتی۔ یہ خلا مدرسے اور معاشرے کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دیتا ہے جسے فارغ التحصیل عالم تنہا عبور کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

جسمانی تربیت اور صحت: ایک نظرانداز شدہ پہلو

اسلامی تعلیم کا تصور انسان کو روح اور جسم دونوں کے توازن کے ساتھ دیکھتا ہے۔ احادیث میں جسمانی قوت کو مومن کی خوبی قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے کھیل، مشق اور جسمانی فعالیت کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔

اس کے برخلاف مدارس میں جسمانی تربیت کو اکثر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ کھیل، ورزش اور اسپورٹس کو ضیاعِ وقت تصور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ جسمانی کمزوری، ذہنی دباؤ اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ جسمانی صحت اور ذہنی صلاحیت کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور ایک کمزور جسم اکثر مضبوط فکری کارکردگی کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا۔

دینی و دنیاوی تعلیم کی مصنوعی تقسیم

اسلامی تاریخ میں دینی اور دنیاوی علوم کے درمیان کوئی تصادم نہیں پایا جاتا۔ محدثین، فقہاء اور صوفیہ نے طب، فلکیات، ریاضی، تجارت اور سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ قرآن کی وہ دعا جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کی گئی ہے، اسی توازن کی علامت ہے۔

مدارس میں دینی و دنیاوی تعلیم کی جو سخت تقسیم پائی جاتی ہے، وہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ سنت سے۔ اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء معاشی طور پر کمزور اور سماجی طور پر محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں، جو بالآخر دینی اثر پذیری کو بھی متاثر کرتا ہے۔

علماء اور تجارت: اسلاف کی روشنی میں

انبیا کرامؑ اور صحابہؓ کی زندگیاں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ علم کے ساتھ محنت، تجارت اور پیشہ ورانہ سرگرمی کو معیوب نہیں سمجھا گیا۔ بلکہ یہی معاشی خود کفالت علماء کو فکری آزادی اور اخلاقی جرات عطا کرتی تھی۔

موجودہ مدارس اگر طلبہ کو صرف مسجد و مدرسہ تک محدود ذہنیت دیتے رہیں گے تو امت کی معاشی کمزوری برقرار رہے گی۔ اس کے برعکس اگر مدارس تجارت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید اسکلز کی حوصلہ افزائی کریں تو علماء نہ صرف معاشی طور پر خود مختار ہوں گے بلکہ سماج میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔

نتائجِ تحقیق

اس مقالے کا مطالعہ واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ مدارس کا تعلیمی نظام اپنی نیت اور تاریخی خدمات کے باوجود کئی بنیادی پہلوؤں میں اصلاح کا محتاج ہے۔ فکری آزادی، عملی تربیت، جسمانی صحت، دینی و عصری علوم کا امتزاج اور معاشی خود کفالت وہ عناصر ہیں جن کے بغیر نہ مکمل عالم تیار ہو سکتا ہے اور نہ امت کو درپیش عصری چیلنجز کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔

اختتامی کلمات

مدارس اسلامیہ امت کا قیمتی سرمایہ ہیں، مگر ہر زندہ ادارے کی طرح انہیں بھی وقت کے ساتھ خود کو ازسرِ نو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اصلاح کا مطالبہ انکار نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔ اگر مدارس اسلامی تعلیم کے اصل مقاصد کی طرف لوٹ آئیں تو وہ ایک بار پھر امت کی فکری، اخلاقی اور معاشی رہنمائی کا مرکز بن سکتے ہیں۔

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post