معراجِ زندگی — نعتیہ کلام
دل سکوں پا لیا اک زمانے کے بعد
شہرِ طیبہ میں خود کو یہ پانے کے بعد
عقل خاموش ہو کر تماشا کرے
عشق غالب ہوا در پہ آنے کے بعد
خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپکنے لگے
سبز گنبد سے نظریں ملانے کے بعد
دل کی حالت بدل جاتی، فرصت کہاں
سر اٹھانے کی سر کو جھکانے کے بعد
دل منور ہوا، جاں معطر ہوئی
پاسِ جالی کے نعتیں سنانے کے بعد
زندگی کی یہ معراج ہے حاضری
حسرتیں مٹ گئیں اک زمانے کے بعد
نور آنکھوں کو حاصل ہے میری عطاؔ
خاک پلکوں سے اپنی اٹھانے کے بعد
نعتِ معراجِ مصطفی ﷺ
حیرت میں ہے دانش کا ہر ایک گماں اب تک
انگشت بدنداں ہے سارا یہ جہاں اب تک
گزرے ہیں نبی تو او ادنیٰ فتدلیٰ سے
الجھا ہے بشر اسریٰ اقصیٰ میں یہاں اب تک
اس فرشِ زمیں سے لے کر عرشِ بریں تک سب
ہے زیرِ قدم آقا کے کون و مکاں اب تک
معراج کی شب آقا رب سے جو لقا پائے
ہے عقل سے بالاتر وہ قربِ مکاں اب تک
معراجِ نبی جسمانی تسلیم نہیں کرتے
ہیں اہلِ خرد لیکن ہے فہم کہاں اب تک
اک بار عطاؔ آقا گزرے ہیں جہاں سے بھی
خوشبو ہے وہاں اب بھی باقی ہیں نشاں اب تک
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
یا نبی مصطفیٰ ﷺ دل نشیں آپ ہو ﷺ
میری شہ رگ سے بڑھ کر قریں آپ ہو ﷺ
چشمِ تر میں مری، قلب میں، روح میں
سانس میں، ہر جگہ بس مکیں آپ ہو ﷺ
میرے بکھرے ہوئے خواب کی روشنی
میرے ایماں کے ماہِ مبیں آپ ہو ﷺ
میرے کردار کی جو کرے رہبری
وہ اصولِ حیاتِ مبیں آپ ہو ﷺ
راہِ حق کا ہے جو آخری معتبر
اس نظامِ جہاں میں وہیں آپ ہو ﷺ
عقل تھک کر عطاؔ کی رُکے ہے جہاں
اس جگہ دل کے راہِ مبیں آپ ہو ﷺ
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، انڈیا

Post a Comment