انگریزی نیا سال: تاریخی پس منظر، فکری جائزہ اور شرعی حدود
ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ
تمہید
دنیا میں وقت کی تقسیم اور سال کی تبدیلی ایک فطری اور انسانی ضرورت ہے۔ مختلف تہذیبوں اور اقوام نے اپنے اپنے تاریخی، مذہبی اور سماجی پس منظر کے مطابق تقاویم (Calendars) وضع کیں۔ ان میں سے ایک انگریزی کیلنڈر ہے، جس کے تحت ہر سال یکم جنوری کو نئے سال کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ آج یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے، مگر اس کے تاریخی، تہذیبی اور اخلاقی پہلوؤں کو سمجھے بغیر محض تقلید میں منانا فکری اور دینی اعتبار سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انگریزی نئے سال کا تاریخی پس منظر
رومی تہذیب اور جنوری
انگریزی کیلنڈر دراصل رومی کیلنڈر سے ماخوذ ہے۔ قدیم روم میں سال کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا، لیکن 153 قبل مسیح میں سیاسی و انتظامی ضرورت کے تحت سال کا آغاز جنوری (January) سے کر دیا گیا۔ جنوری کا نام رومی دیوتا Janus سے منسوب ہے، جسے دروازوں، آغاز اور انجام کا دیوتا مانا جاتا تھا۔ یہ دیوتا دو چہروں والا تصور کیا جاتا تھا: ایک ماضی کی طرف اور دوسرا مستقبل کی طرف دیکھتا ہوا۔ اسی تصور کے تحت جنوری کو نئے آغاز کی علامت بنایا گیا۔
جولیئن اور گریگورین کیلنڈر
46 قبل مسیح میں جولیئس سیزر نے جولیئن کیلنڈر نافذ کیا، جس میں سال کی لمبائی 365 دن رکھی گئی۔ بعد میں وقت کی معمولی غلطیوں کی وجہ سے 1582ء میں پوپ گریگوری سیزدہم نے اصلاح کر کے گریگورین کیلنڈر متعارف کروایا، جو آج دنیا بھر میں رائج ہے۔
اس تاریخی پس منظر سے واضح ہوتا ہے کہ انگریزی نئے سال کی بنیاد مذہبی (غیر اسلامی)، دیومالائی اور سیاسی عوامل پر ہے، نہ کہ کسی آسمانی ہدایت پر۔
تہذیبی و سماجی پہلو
وقت گزرنے کے ساتھ انگریزی نیا سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں رہا، بلکہ یہ ایک تجارتی، ثقافتی اور تفریحی تہوار بن گیا۔ آتش بازی، رقص و موسیقی، مخلوط محفلیں، شراب نوشی اور اخلاقی حدود سے تجاوز آہستہ آہستہ نئے سال کی علامت بن گئے، خاص طور پر مغربی معاشروں میں۔ افسوس کہ مسلمان معاشروں میں بھی بغیر سوچے سمجھے اسی طرز کی نقل کی جانے لگی۔
اسلامی نقطۂ نظر
اسلام میں وقت اور سال کی اہمیت
اسلام وقت کو بہت قیمتی نعمت قرار دیتا ہے:
﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴾
اسلام نے مسلمانوں کو ہجری تقویم عطا کی، جس کا آغاز ہجرتِ نبوی ﷺ جیسے عظیم الشان اور قربانی سے بھرپور واقعہ سے ہوتا ہے۔ یہ محض تاریخ نہیں بلکہ ایمان، صبر، جدوجہد اور مقصدِ حیات کی علامت ہے۔
غیر اسلامی تہواروں کی مشابہت
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"
اس حدیث کی روشنی میں علما نے واضح کیا ہے کہ غیر اقوام کے مذہبی یا تہذیبی تہواروں کی نقالی بغیر ضرورت کے کرنا پسندیدہ نہیں، بالخصوص جب ان میں گناہ، بے حیائی اور فسق شامل ہو۔
انگریزی نئے سال اور مسلمانوں کی ذمہ داری
اسلام کسی دن یا تاریخ کو بذاتِ خود حرام قرار نہیں دیتا، لیکن گناہ پر مبنی اجتماعات، شراب و فحاشی، مخلوط محفلیں اور نماز و عبادت سے غفلت ہر حال میں ناجائز ہیں، چاہے وہ نیا سال ہو یا کوئی اور موقع۔
لہٰذا اگر کوئی شخص محض کیلنڈر کی تبدیلی کو سمجھے، اپنا محاسبہ کرے، توبہ، دعا اور اصلاحِ نفس کی نیت کرے تو یہ عمل درست ہے، مگر مغربی طرز کی بے لگام تقریبات اسلامی روح کے منافی ہیں۔
فکری محاسبہ: نیا سال یا نیا انسان؟
اصل سوال یہ نہیں کہ سال نیا ہوا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا کردار نیا ہوا؟ کیا ہماری نماز بہتر ہوئی؟ کیا ہم گناہوں سے دور ہوئے؟ کیا ہم نے حقوق العباد ادا کیے؟ اسلام ظاہری جشن کے بجائے باطنی انقلاب کا داعی ہے۔
بے حیائی اور غلط کاریوں سے بچنے کی اپیل
آج امتِ مسلمہ کو سب سے بڑا خطرہ اخلاقی زوال کا ہے۔ نئے سال کے نام پر بے پردگی، فحاشی، لغویات اور وقت و دولت کا ضیاع عام ہو چکا ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
شرعی حدود کی پاسداری
ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں، نبی کریم ﷺ کی سنت کو معیار بنائیں، اپنے گھروں اور نئی نسل کو اسلامی شناخت دیں، اور ہر دن کو نیکی میں اضافے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ گناہ میں اضافے کا۔
نتیجہ
انگریزی نیا سال ایک تاریخی و عالمی حقیقت ضرور ہے، مگر مسلمانوں کے لیے اس کا درست رویہ یہی ہے کہ اس کی اندھی تقلید سے بچا جائے، بے حیائی اور فسق و فجور سے مکمل اجتناب کیا جائے، وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی جائے اور شرعی حدود میں رہ کر زندگی گزاری جائے۔ اصل کامیابی جشن میں نہیں بلکہ تقویٰ، حیا اور اطاعتِ الٰہی میں ہے۔
✍️ از قلم:
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
(سہرسہ، بہار, ہند)

Post a Comment