نعتِ مصطفیٰ ﷺ
درود و سلام کے گلدستے میں سجی یہ نعتیں حضور رحمۃً للعالمین ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت، محبت اور روحانی لگاؤ کا لطیف اظہار ہیں۔ ہر شعر دل کی کیفیت اور جذب کی لطافت کے ساتھ الگ باکس میں رکھا گیا ہے تاکہ قاری پر اثر زیادہ گہرا ہو۔
نعتِ مصطفیٰ ﷺ — (پہلی)
ہجر میں ترے آقا دل نے جو ندا دی ہےدرد کی ہر اک لَے نے شوق کو ضیا دی ہے
داغِ فرقتِ طیبہ اس لئے نہیں بھرتایادِ شہرِ آقا نے درد کو بڑھا دی ہے
مجھ کو حق نہیں اس کا یہ سوال باطل ہےجرم کیا ہوا سرزد کس لئے سزا دی ہے
دشتِ غم کی وسعت میں نورِ مصطفیٰ چمکاقلبِ مضمحل نے پھر جوشِ مرتقا دی ہے
دل کی تیرگی میں جب ذکرِ مصطفیٰ اُتراخاک سے اُٹھا دل نے خود کو ماجرا دی ہے
دم مرا نکل جائے کاش گر مدینے میںموت کو مدینے نے لذتِ بقا دی ہے
نعت جب بھی لکھتا ہوں لگتا ہے عطاؔ مجھ کومصطفیٰ نے خود مرے حرف کو دعا دی ہے
نعتِ مصطفیٰ ﷺ — (دوسری)
نعت سرکار لب پر سجائے ہوئےاپنا سینہ مدینہ بنائے ہوئے
حسرتِ دید دل میں لیے چشم ترکون ہے جاتا وہاں بن بلائے ہوئے
آرزو ہے زیارت کروں خواب میںآپ مدت سے جلوہ چھپائے ہوئے
ایک دن تو بلائے گا طیبہ مجھےیہ یقیں ہی ہے زندہ بچائے ہوئے
مجھ خطاکار پر ہو کرم یا نبیہے غلام ہاتھ دعا کو اٹھائے ہوئے
اپنے دامن میں آقا چھپالو مجھےوقت کے ہیں بہت ہم ستائے ہوئے
کاش طیبہ کبھی جا سکوں اے عطاؔمیں نہ لوٹوں گا پھر خواب سجائے ہوئے

Post a Comment