شبِ برأت — مغفرت کی ساعتیں، تقدیر کے فیصلے اور احتسابِ زندگی کا پیغام
شعبان کی پندرہویں شب محض ایک رسم نہیں بلکہ روحانی بیداری اور رجوع الی اللہ کی رات ہے
✍️ تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
بلاگ: نور ادب
اسلامی سال کی گردش میں بعض راتیں ایسی آتی ہیں جو محض وقت کا ایک حصہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر رحمتوں، برکتوں اور روحانی انقلاب کا پیغام سمیٹے ہوتی ہیں۔ انہی بابرکت ساعتوں میں شعبان المعظم کی پندرہویں شب، جسے عرفِ عام میں شبِ برأت کہا جاتا ہے، امتِ مسلمہ کے لیے مغفرت، نجات اور رجوع الی اللہ کا خصوصی موقع بن کر آتی ہے۔ یہ رات انسان کو اپنے رب کے حضور جھکنے، گناہوں پر ندامت اختیار کرنے اور نئی زندگی کا آغاز کرنے کا سنہرا موقع فراہم کرتی ہے۔
لفظ ’’برأت‘‘ کے معنی خلاصی اور نجات کے ہیں۔ گویا یہ وہ رات ہے جس میں بندوں کو جہنم سے رہائی اور گناہوں سے پاکیزگی کی بشارت دی جاتی ہے۔ اسی لیے اسے مغفرت اور رحمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔
مفسرین کے مطابق اس بابرکت رات میں تقدیر کے اہم فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ سال بھر کے معاملات، رزق، زندگی اور موت کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے طے کیے جاتے ہیں۔ اس پہلو سے یہ رات نہایت اہم اور فکر انگیز بن جاتی ہے کہ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لے اور اپنی زندگی کو درست سمت میں لے جائے۔
احادیثِ نبویہ سے بھی اس رات کی فضیلت ثابت ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق کی طرف خاص رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے اور بے شمار بندوں کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو شرک یا باہمی کینہ رکھتے ہوں۔ یہ تعلیم ہمیں باطن کی صفائی اور دلوں کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ اس رات قیام، دعا اور استغفار میں مشغول رہتے اور اہلِ قبور کے لیے دعا فرماتے۔ اسوۂ نبوی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ شبِ برأت کو خاموش عبادت، ذکرِ الٰہی اور گریہ و زاری کے ساتھ گزارا جائے، نہ کہ شور و ہنگامہ اور نمود و نمائش کے ساتھ۔
تاریخ گواہ ہے کہ سلف صالحین اس رات کو خصوصی اہتمام سے گزارتے تھے۔ مساجد آباد ہوتیں، قرآنِ کریم کی تلاوت کی جاتی، لوگ گناہوں پر آنسو بہاتے اور آئندہ کے لیے اصلاحِ احوال کا عہد کرتے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس میں حقیقی برکت پوشیدہ ہے۔
افسوس کہ آج کے دور میں اس مقدس رات کو غیر ضروری رسومات اور فضول سرگرمیوں نے گھیر لیا ہے۔ آتش بازی، فضول خرچی اور شور و شغب اس رات کے تقدس کے منافی ہیں۔ اسلام سادگی اور اخلاص کا دین ہے، اس لیے ہمیں اس رات کو عبادت اور روحانی تربیت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
درحقیقت شبِ برأت احتسابِ نفس کی رات ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی فانی ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اگر اس رات ہم سچی توبہ کر لیں، لوگوں کے حقوق ادا کر دیں اور دلوں کو نفرت سے پاک کر لیں تو یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
شعبان کا مہینہ رمضان المبارک کی تمہید بھی ہے۔ گویا یہ رات ہمیں روحانی طور پر تیار کرتی ہے تاکہ ہم رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس لحاظ سے شبِ برأت ایمان کی تجدید اور دلوں کی صفائی کا بہترین موقع ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت رات کی قدر کرنے، گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور اپنی زندگی کو دینِ اسلام کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
© نور ادب | غلام مزمل عطاؔ اشرفی
تمام حقوق محفوظ ہیں

Post a Comment