ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے؟

ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے؟

ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے؟

یہ سوال کہ ہمیں کیسا معاشرہ درکار ہے، ہر دور میں اہلِ فکر کے سامنے رہا ہے۔ قرآنِ مجید اس سوال کا جواب محض نعروں میں نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں کی صورت میں دیتا ہے۔ قرآن کے نزدیک بہترین معاشرہ وہ ہے جو خیر، عدل اور اصلاح پر قائم ہو۔

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾

آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت اور باہمی نفرت ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ قرآن ہمیں اختلاف کے باوجود عدل کا پابند بناتا ہے۔

﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا﴾

ایک صالح معاشرہ وہی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت کے محافظ ہوں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے معاشرتی امن کی بنیاد زبان اور عمل کی سلامتی کو قرار دیا۔

«الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ جب معاشرے اخلاقی حدود کو پامال کرنے لگتے ہیں تو ان کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم فرد سے آغاز کریں اور اجتماعی اصلاح کی طرف بڑھیں۔

ہمیں کیسا معاشرہ چاہیے؟ اس کا جواب قرآن و سنت کی عملی تعلیمات میں مضمر ہے۔ جب اخلاق، عدل اور ذمہ داری ہمارے رویّوں کا حصہ بن جائیں گے تو ایک پُرامن، باوقار اور متوازن معاشرہ خود بخود وجود میں آ جائے گا۔

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post