آج کا انسان اور اخلاقی زوال
انسانی تاریخ کا ہر دور کسی نہ کسی اخلاقی آزمائش سے گزرا ہے، مگر عصرِ حاضر کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مادی ترقی اپنے نقطۂ عروج پر ہے اور اخلاقی اقدار تیزی سے زوال پذیر ہوتی جا رہی ہیں۔ قرآنِ مجید انسان کو محض ترقی یافتہ نہیں بلکہ صالح، متوازن اور باکردار دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے وہ عدل و احسان کو انسانی زندگی کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
(بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے)
آج کا انسان سہولتوں کی فراوانی کے باوجود ذہنی اضطراب اور روحانی بے سکونی میں مبتلا ہے۔ وعدہ خلافی، خود غرضی، عدم برداشت اور بداخلاقی ہمارے اجتماعی رویّوں کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، حالانکہ نبی کریم ﷺ نے بعثتِ نبوی کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل قرار دیا۔
تعلیم کے میدان میں بھی ہم نے علم کو کردار سے الگ کر دیا ہے۔ ڈگریاں تو حاصل کی جا رہی ہیں، مگر علم کا وہ نور مفقود ہوتا جا رہا ہے جو انسان میں خشیتِ الٰہی اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرتا ہے۔ قرآن علم کو محض معلومات نہیں بلکہ تقویٰ کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے اظہار کے مواقع تو وسیع کر دیے ہیں، مگر زبان کی شائستگی اور ذمہ داری کمزور پڑ گئی ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے واضح ہدایت فرمائی کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خیر کی بات کرے یا خاموش رہے۔
اخلاقی زوال کسی ایک طبقے یا ادارے کی کوتاہی نہیں بلکہ اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک متوازن اور پُرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی اخلاقی تعلیمات کو فرد، خاندان اور معاشرے کی سطح پر دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

Post a Comment