سلطانُ الہند، خواجۂ خواجگاں حضرت خواجہ معینُ الدین حسن چشتی اجمیریؒ
احوال، آثار، تعلیمات، دعوتی منہج اور برِّصغیر پر ہمہ گیر اثرات
سرزمینِ ہند کو جس مردِ کامل نے اپنے قدومِ مبارک سے مستفیض و مستنیر فرمایا، جس کے دمِ قدم سے دلوں کے ویرانے گلزار بنے، جس نے کفرستان میں توحید و رسالت کی شمع فروزاں کی، جس نے تشنگانِ حقیقت کو جامِ وحدت پلایا، جس نے عشقِ رسول ﷺ کی ایسی قندیل ہندوستان میں روشن کی کہ صدیوں بعد بھی اس کی لو مدھم نہیں پڑی—وہ ہستی بلا شبہ سلطانُ الہند، مولائے ہند، امامُ الہند، شہنشاہِ ولایت، تاجدارِ اولیاء، قطبُ المشائخ، خواجۂ خواجگاں، خواجۂ اعظم، داعیِ اعظم، قائدِ اعظمِ روحانیت، حضرت خواجہ معینُ الدین حسن چشتی سنجری ثم اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
آپ محض ایک صوفی یا صاحبِ کرامت بزرگ نہیں، بلکہ ایک مکمل دعوتی نظام، ایک ہمہ گیر اصلاحی تحریک اور ایک روحانی تہذیب کے معمار ہیں۔ برِّصغیر میں اسلام کی اشاعت، استحکام اور بقا کے جو اسباب نظر آتے ہیں، ان سب کی جڑیں کسی نہ کسی درجے میں خواجۂ غریب نوازؒ کی ذاتِ فیض آیات سے وابستہ ہیں۔ تاریخ اگرچہ ظاہری اسباب کے تحت فتوحات کو سلاطین کے نام سے یاد کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دلوں کی فتح، ذہنوں کی تبدیلی اور معاشرتی اصلاح کا جو کام یہاں ہوا، وہ خواجۂ غریب نوازؒ کی خاموش مگر فیصلہ کن قیادت کا نتیجہ تھا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 537ھ مطابق 1142ء میں سجستان (سنجَر) کے ایک پاکیزہ، علمی اور سادات گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا اسمِ گرامی حسن ہے اور آپ نجیبُ الطرفین سید ہیں۔ پدری نسبت سے آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ تک، اور مادری نسبت سے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ اس طرح آپ حسنی و حسینی دونوں نورانی سلاسل کے جامع ہیں، جو آپ کی تعلیمات میں بھی توازن، اعتدال اور جامعیت کی صورت میں جلوہ گر ہے۔
آپ کی پرورش خراسان میں ہوئی۔ والدِ گرامی حضرت غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم تھے۔ نو برس کی عمر میں قرآنِ کریم حفظ فرمایا، پھر تفسیر، حدیث اور فقہ میں مہارت حاصل کی۔ خداداد ذہانت، غیر معمولی قوتِ حافظہ اور فہمِ دقیق کی بدولت قلیل مدت میں علمی پختگی حاصل کرلی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں عالمِ شریعت کی بنیاد پڑی—اور یہی بنیاد آگے چل کر ولیِ کامل کی عمارت بنی۔
حضرت ابراہیم قندوزی کے واقعے نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ دنیاوی آسائشیں، معاشی سہولتیں اور آرام دہ زندگی—سب کچھ ایک لمحے میں بے معنی ہوگیا۔ آپ نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ تصوف ترکِ دنیا کا نہیں بلکہ ترکِ دُنیا داری کا نام ہے۔ باغ، پن چکی اور مال و اسباب کو فقراء میں تقسیم کرکے آپ نے خدمتِ خلق کو اپنا پہلا زینہ بنایا۔
حضرت خواجہؒ نے سمرقند و بخارا میں شریعت کی تکمیل کی اور پھر روحانی تربیت کے لیے حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی بارگاہ میں پہنچے۔ یہاں جو بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ آپ کی طریقت شریعت کے تابع رہی۔ یہی وجہ ہے کہ چشتیہ سلسلہ بعد میں بدعات، غلو اور افراط و تفریط سے محفوظ رہا۔
بیعت کے وقت جو مجاہدات، اذکار اور روحانی مشاہدات بیان ہوئے، وہ اس بات کا اعلان تھے کہ حضرت خواجہؒ کو ذاتی ولایت نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری دی جا رہی ہے۔ اٹھارہ ہزار عوالم کا مشاہدہ دراصل اس امر کی علامت ہے کہ آپ کی دعوت کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہ رہے گی۔
حضرت عثمان ہارونیؒ نے آپ کو خلیفہ بناکر مختلف علاقوں کی سیر کا حکم دیا۔ بغداد، جیلان، اصفہان، مکہ اور مدینہ—یہ سب مقامات آپ کی فکری و روحانی تشکیل میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی دعوت میں عرب کی روحانیت، عجم کی حکمت اور ہند کی مزاج شناسی تینوں جمع ہوگئیں۔
مدینہ منورہ میں ہندوستان کی ولایت کی بشارت دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ برِّصغیر میں اسلام کا پھیلاؤ محض تاریخی اتفاق نہیں بلکہ نبوی منصوبہ تھا، جس کے نفاذ کے لیے خواجۂ غریب نوازؒ کا انتخاب ہوا۔
اجمیر پہنچ کر حضرت خواجہؒ نے سب سے پہلے خانقاہی نظام قائم کیا۔ یہ خانقاہ صرف ذکر و عبادت کا مرکز نہیں تھی بلکہ: غریبوں کی پناہ گاہ بھوکوں کے لیے لنگر مظلوموں کے لیے عدالت جاہلوں کے لیے مدرسہ اور شکستہ دلوں کے لیے دارالشفا تھی یہی خانقاہی ماڈل بعد میں پورے ہندوستان میں پھیلا۔
حضرت خواجہؒ نے: ذات پات کے نظام کو توڑا امیر و غریب کو ایک صف میں بٹھایا لنگر کو مساوات کی علامت بنایا سماع کو عشقِ الٰہی کی تربیت کا ذریعہ بنایا (شریعت کے دائرے میں) یہ سب اقدامات اس وقت کے ہندوستانی معاشرے میں ایک خاموش سماجی انقلاب تھے۔
حضرت خواجہؒ کے خلفاء—خصوصاً: حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی حضرت بابا فرید الدین گنج شکر حضرت نظام الدین اولیاء حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی نے اس دعوت کو پورے برِّصغیر میں پھیلا دیا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ چشتیہ سلسلہ دراصل خواجۂ غریب نوازؒ کی توسیع ہے۔
پرتھوی راج کے خلاف موقف یہ ثابت کرتا ہے کہ خواجہؒ: محض خانقاہ کے بزرگ نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں حق کی آواز بھی تھے مگر ان کا طریقہ تلوار نہیں، اخلاقی و روحانی دباؤ تھا۔
آپ کی کرامات: دعوت کی صداقت کی دلیل منکرین کے لیے تنبیہ اور کمزور دلوں کے لیے سہارا تھیں نہ کہ نمائش یا دعویٰ۔
6 رجب 633ھ کو وصال فرمایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ: خواجہ معین الدین چشتیؒ نے موت کو زندگی میں بدل دیا آج بھی آپ کی درگاہ: ایمان کی تجدید روح کی غذا اور امت کی وحدت کا مرکز ہے
خواجہ غریب نوازؒ کی تعلیمات کا خلاصہ تین نکات میں ہے: خدمتِ خلق عشقِ رسول ﷺ اتباعِ شریعت کے ساتھ تصوف
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ برِّصغیر کی تاریخ میں صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک روحانی عہد ہیں۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ: اسلام دلوں کو جوڑتا ہے ولایت خدمت سے جنم لیتی ہے اور اصل انقلاب خاموشی سے آتا ہے

Post a Comment