تعلیم اور تہذیب کیوں ضروری ہیں؟ قومی عروج کا تاریخی تجزیہ

تعلیم، تہذیب اور قومی عروج: تاریخ کے آئینے میں ہمارا مستقبل

از قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638

قوموں کی زندگی میں بعض اصول ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ تاریخ کے بدلتے ہوئے ادوار، حکومتوں کی تبدیلیاں اور سیاسی اتار چڑھاؤ ان اصولوں کو متاثر نہیں کر پاتے۔ انہی اٹل حقیقتوں میں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کا عروج و زوال اس کے تعلیمی نظام، فکری بالیدگی اور اخلاقی معیار سے وابستہ ہوتا ہے۔ جس قوم نے علم و تہذیب کو اپنایا، وہ سربلند ہوئی، اور جس نے جہالت اور اخلاقی انحطاط کو اختیار کیا، وہ تاریخ کے حاشیے پر چلی گئی۔

تاریخ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ قدیم یونان، مصر اور ہندوستان کی تہذیبیں علم و حکمت کے باعث دنیا میں ممتاز رہیں۔ بعد ازاں جب مسلمانوں نے علم کو اپنا شعار بنایا تو دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ آئی۔ بغداد، قرطبہ اور سمرقند کے علمی مراکز نے ایسے رجالِ علم پیدا کیے جنہوں نے فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات میں نئی راہیں ہموار کیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا کہ علم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ ذریعۂ حیات سمجھا گیا۔

مشہور مؤرخ ابن خلدون نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب مقدمہ ابن خلدون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ قوموں کی طاقت کا دارومدار ان کے علمی و تمدنی شعور پر ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں علم اور اخلاق کمزور پڑ جاتے ہیں تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ گویا تعلیم اور تہذیب محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ بقا کی شرط ہیں۔

اسلامی تاریخ بھی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ ابتدائی اسلامی عہد میں مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ درسگاہیں بھی تھیں۔ تعلیم اور تربیت ایک ساتھ دی جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں سے نکلنے والے افراد عالم بھی تھے اور باکردار بھی۔ بعد کے ادوار میں جب تعلیم رسمی اور روحانیت سے خالی ہونے لگی تو معاشرہ بتدریج کمزور ہوتا گیا۔

برصغیر کی تاریخ میں بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ جب مسلمانوں میں علمی شعور زندہ تھا تو وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے مؤثر تھے، لیکن جوں ہی تعلیمی پسماندگی نے جگہ لی، زوال نے دستک دے دی۔ جدید دور میں سر سید احمد خان نے اسی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے جدید تعلیم کی تحریک چلائی اور قوم کو یہ باور کرایا کہ زمانے کے ساتھ قدم ملائے بغیر بقا ممکن نہیں۔ ان کی کوششوں نے ایک نئی فکری بیداری کو جنم دیا۔

موجودہ دور میں ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو اس کے حقیقی مقصد سے جدا کر دیا ہے۔ ڈگریوں کی دوڑ تو ہے مگر کردار سازی کا فقدان ہے۔ معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل ٹیکنالوجی سے تو آشنا ہے مگر تہذیبی قدروں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس عدم توازن نے معاشرے میں بے چینی، بدعنوانی اور عدم برداشت کو فروغ دیا ہے۔

اس سلسلے میں ہمارے مفکر شاعر علامہ محمد اقبال کی فکر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اقبال نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ایسی تعلیم بے سود ہے جو خودی، کردار اور اخلاق پیدا نہ کر سکے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باطن کی قوت عطا کرنا ہے، نہ کہ صرف معاشی آسائشیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے زیادہ تر امتحان اور ملازمت کے گرد گھومتے ہیں۔ نصاب میں اخلاقیات، سماجی ذمہ داری اور قومی شعور کو وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔ گھر اور معاشرہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نظر آتے ہیں۔ حالانکہ بچے کی پہلی درسگاہ گھر ہے اور پہلی تربیت گاہ ماں کی گود۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو عمارت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو ہمہ جہت بنائیں۔ عصری علوم، سائنسی تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، تہذیبی شعور اور انسانی قدروں کو بھی لازمی قرار دیا جائے۔ اساتذہ کو محض ملازم نہیں بلکہ معمارِ قوم سمجھا جائے، اور تعلیمی اداروں کو محض امتحانی مراکز کے بجائے کردار سازی کی تجربہ گاہ بنایا جائے۔

اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ کیونکہ قومیں وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ فکر کی کمی سے زوال پذیر ہوتی ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ علم اور اخلاق کا امتزاج ہی حقیقی ترقی کی ضمانت ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قوموں کی تقدیر پارلیمنٹوں سے زیادہ درسگاہوں میں لکھی جاتی ہے۔ جب قلم کی روشنی دلوں کو منور کرتی ہے تو معاشرے خود بخود سنور جاتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں تعلیم کو محض ضرورت نہیں بلکہ اپنی تہذیبی بقا کا سوال سمجھنا ہوگا۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ
علم جب تہذیب سے جڑ جائے تو تاریخ بدل دیتا ہے، اور جب جدا ہو جائے تو معاشرے بکھر جاتے ہیں۔

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post