عصرِ حاضر کی عالمی سیاست طاقت، مفاد اور حکمتِ عملی کے اس پیچیدہ نظام کے گرد گردش کر رہی ہے جس میں اخلاقی اقدار اکثر پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں اور قومی مفادات کو اوّلیت حاصل ہو جاتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اصولوں کی بجائے قوت کی زبان زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے، انصاف سے زیادہ اثر و رسوخ کارگر ہوتا ہے اور قانون کی تعبیر بھی طاقتور کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔ نتیجتاً کمزور اقوام کی آواز دب جاتی ہے جبکہ بااثر ریاستیں اپنی ترجیحات کو عالمی معیار بنا دیتی ہیں۔
اسی عالمی تناظر میں مسلمان اقوام کی اجتماعی حالت ایک سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ایک بڑا حصہ ہونے، بے شمار قدرتی وسائل رکھنے اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم خطوں پر مشتمل ہونے کے باوجود مسلم دنیا عالمی فیصلہ سازی میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔ یہ صورت حال محض بیرونی سازشوں یا عالمی طاقتوں کی چالاکیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں داخلی کمزوریاں، فکری انتشار، قیادت کا فقدان اور اجتماعی بے عملی جیسے عوامل بھی پوری قوت سے کارفرما ہیں۔
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے”
یہ قرآنی اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی قوم کا عروج و زوال حادثاتی نہیں بلکہ اس کے اپنے کردار، نظم اور اجتماعی مزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم علمی، اخلاقی اور عملی میدان میں مضبوط ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نظر انداز نہیں کر سکتی، لیکن اگر اندرونی انتشار اور کمزوری غالب ہو جائے تو بیرونی قوتیں آسانی سے اس پر اثر انداز ہو جاتی ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو مسلم دنیا کو سب سے پہلے اپنی داخلی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔
موجودہ عالمی نظام میں چند بڑی طاقتیں فیصلہ سازی کے مراکز پر قابض ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف کے بلند بانگ دعوے ضرور کیے جاتے ہیں، لیکن عملی سطح پر مفاد کو ہی معیار قرار دیا جاتا ہے۔ مسلم خطوں میں ہونے والی ناانصافیاں اس دوہرے معیار کا کھلا ثبوت ہیں۔ ایک طرف عالمی ضمیر خاموش دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف طاقتور قوتیں اپنی مرضی کے مطابق حالات کا رخ موڑ دیتی ہیں۔ یہ حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلمان اقوام محض شکووں اور بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنی قوت کو منظم کریں۔
اسلامی تعلیمات سیاست کو اخلاق سے جدا نہیں کرتیں بلکہ اسے امانت اور ذمہ داری قرار دیتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے قیادت کو خدمت اور جواب دہی کے ساتھ وابستہ فرمایا۔ اس تصور کے مطابق اقتدار کسی فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہے۔ جب یہ امانت دیانت کے ساتھ ادا کی جائے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے اور جب اسے ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا لیا جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج مسلم دنیا کی کمزوریوں میں یہی عنصر نمایاں نظر آتا ہے کہ اختیار تو موجود ہے مگر اس کے استعمال میں اخلاص اور عدل کی کمی پائی جاتی ہے۔
تاریخِ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت علم، تقویٰ اور عدل کی بنیاد پر قائم ہوئی تو مسلمان دنیا کی رہنمائی کا مرکز بنے۔ علمی ترقی، تہذیبی برتری اور سیاسی استحکام نے انہیں عالمی سطح پر ممتاز کر دیا۔ یہ سب کسی معجزے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مضبوط نظم و ضبط، اجتماعی اتحاد اور اخلاقی کردار کا ثمر تھا۔ اگر یہی اوصاف دوبارہ اختیار کر لیے جائیں تو کھوئی ہوئی عظمت کا حصول ناممکن نہیں۔
حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو آج مسلم دنیا کو تعلیمی پسماندگی، معاشی انحصار، باہمی اختلافات، بدعنوانی، سائنسی تحقیق سے دوری اور مشترکہ حکمت عملی کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ جب تک یہ داخلی امراض دور نہیں ہوں گے، عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنا ممکن نہیں۔ صرف جذباتی نعروں یا وقتی احتجاج سے حالات تبدیل نہیں ہوتے بلکہ دیرپا کامیابی کے لیے مسلسل منصوبہ بندی اور عملی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اقوام تعلیم و تحقیق کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، معاشی خود کفالت حاصل کریں، دیانت دار قیادت کو فروغ دیں اور باہمی اتحاد کو مضبوط کریں۔ سفارتی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور فکری خود مختاری کے بغیر عالمی نظام میں وقار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاست کو عبادت کا درجہ دیا جائے، اختیار کو امانت سمجھا جائے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھا جائے تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔
اسلام مایوسی کا درس نہیں دیتا بلکہ امید، اصلاح اور جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔ اگر ایمان، کردار اور عمل میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو کمزور سے کمزور قوم بھی طاقتور بن سکتی ہے۔ یہی پیغام آج کی عالمی سیاست میں مسلمان اقوام کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ وہ شکایت کے بجائے اصلاح، انتشار کے بجائے اتحاد اور جذبات کے بجائے حکمت کو اختیار کریں۔ اسی میں عزت ہے، اسی میں وقار ہے اور اسی میں مستقبل کی کامیابی پوشیدہ ہے۔

Post a Comment