حضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ اور مخدوم اشرف مشن

حضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ اور مخدوم اشرف مشن

حضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ اور مخدوم اشرف مشن

تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

تمہید: ایک درخشاں چراغ، ایک جاوید تحریک

تاریخ کے وسیع و عریض افق پر جب نگاہ دوڑائی جاتی ہے تو کچھ نام ایسے نظر آتے ہیں جو محض افراد کے نام نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ شخصیات جن کی حیاتِ مبارکہ زمانے کے دھارے کو موڑ دیتی ہے، جو مردہ دلوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرتی ہیں، جو گم گشتہ قافلوں کو منزل کا شعور عطا کرتی ہیں—ایسے ہی نفوسِ قدسیہ میں ایک بلند و بالا، تابندہ و درخشاں نام حضور اشرف الاولیاء، بدر الفتح سید محمد مجتبیٰ اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز کا ہے۔

یہ وہ عظیم المرتبت ہستی ہے جس کی ذات والا صفات منبعِ فیوض و برکات، مجسمِ اخلاص و للّٰہیت، اور سرچشمۂ علم و عرفان تھی۔ آپ نہ صرف ایک ولیٔ کامل اور مرشدِ برحق تھے بلکہ ایک عہد ساز داعی، ایک بے مثال مصلح، اور ایک زندہ تحریک کے بانی بھی تھے۔ آپ کی حیات محض ذاتی کمالات کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ گیر جدوجہد کا عنوان ہے جس نے جہالت کے اندھیروں کو چیر کر علم و ہدایت کے چراغ روشن کیے۔

آپ حضور تاج الاصفیا، سید شاہ مصطفیٰ اشرف علیہ الرحمہ کے علمی و روحانی جانشین تھے، اور اسی نسبت نے آپ کی شخصیت کو وہ جلال و جمال عطا کیا جس نے آپ کو “اشرف الاولیاء” کے لقب سے سرفراز کیا۔

خاندانی وجاہت: علم و ولایت کا تسلسل

خاندانی اعتبار سے آپ کا تعلق اس عظیم خانوادۂ اشرفیہ سے ہے جس کی ہر شاخ علم و فضل، کشف و کرامت اور زہد و تقویٰ کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔

آپ کے والد محترم حضور تاج الاصفیا سید شاہ مصطفیٰ اشرف کچھوچھوی علیہ الرحمہ ایک ایسے صاحبِ فضل و کمال، فائق الاقران عالم اور روحانی پیشوا تھے جن کی علمی بصیرت اور روحانی رفعت نے انہیں اپنے عہد میں نمایاں مقام عطا کیا۔

آپ کے جد امجد، شیخ المشایخ سید شاہ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ ایک متبحر عالم دین، صاحبِ کشف و کرامت، خدا رسیدہ بزرگ اور مرجع خلائق تھے—جن کی ذات اہلِ دل کے لیے مرکزِ فیض تھی، اور جن کی نگاہ دلوں کی دنیا بدل دینے والی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کا پورا خانوادہ حق آگاہ، خدا ترس اور دینِ اسلام کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہنے والا تھا۔

ولادت باسعادت: نور کا ظہور

٢٦ ربیع الآخر ١٣٤٦ھ مطابق ٢٣ اکتوبر ١٩٢٧ء کو کچھوچھہ مقدسہ کی متبرک فضاؤں میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس نے آگے چل کر نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونِ ممالک تک ایمان و عرفان کی روشنی پھیلانی تھی۔

تعلیم و تربیت: علم کی منزلیں، فکر کی رفعتیں

خاندانی دستور کے مطابق جب آپ کی عمر چار سال چار ماہ چار دن ہوئی تو حضور تاج الاصفیا نے آپ کو مدرسہ اشرفیہ کچھوچھہ میں نابغۂ روزگار اساتذہ کے سپرد کیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب ایک عظیم علمی سفر کا آغاز ہوا—ایک ایسا سفر جو محض کتابوں کی حد تک محدود نہ تھا بلکہ فکر و شعور، باطن و ظاہر اور کردار و عمل کی مکمل تربیت کا آئینہ دار تھا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر شرح جامی تک کے تمام مراحل کچھوچھہ ہی میں نہایت انہماک اور شوق کے ساتھ مکمل کیے۔

بعد ازاں ١٢ شوال المکرم ١٣٦٠ھ کو آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی دانشگاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا۔

یہاں آپ نے جن اساتذہ سے کسبِ فیض کیا وہ اپنے عہد کے ستونِ علم تھے: حضور حافظ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی، علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی، علامہ عبدالرؤف بلیاوی، اور مولانا سلیمان اشرف بھاگلپوری رحمہم اللہ تعالیٰ۔

آپ نے تمام مروجہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کی، یہاں تک کہ جامعہ اشرفیہ سے دستار و سند فضیلت حاصل کر کے بحیثیت معین المدرسین منتخب ہوئے—جو آپ کی علمی عظمت کا واضح اعلان تھا۔

بیعت و خلافت: روحانی فیضان کی تکمیل

جب آپ سنِ رشد کو پہنچے تو آپ کے باطنی کمالات کو دیکھتے ہوئے آپ کے جد امجد حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ نے آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ، نقشبندیہ، اشرفیہ میں بیعت فرمایا اور اجازت و خلافت سے سرفراز کیا۔

یہ خلافت محض ایک اعزاز نہ تھی بلکہ ایک عظیم ذمہ داری تھی—لوگوں کے قلوب کی اصلاح، ان کے عقائد کی درستگی اور انہیں راہِ حق پر گامزن کرنا۔

دعوت و تبلیغ: اندھیروں سے اجالوں تک

حضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ نے جامعہ اشرفیہ سے فراغت کے کچھ ہی عرصہ بعد دعوت و تبلیغ اور طریقت و ارشاد کے میدان کو اپنا میدانِ عمل بنایا۔

آپ نے ان علاقوں کا انتخاب کیا جو جہالت کے گھپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے—یوپی، بہار اور بنگال کے وہ خطے جہاں نہ علم کی روشنی تھی، نہ ہدایت کی آواز۔

وہاں کے لوگ عموماً علم و دولت سے تہی دامن تھے۔ باشعور طبقہ تک پیغام پہنچانا آسان ہوتا ہے، مگر ناخواندہ اور کم خواندہ افراد کو علم و فضل سے آراستہ کرنا نہایت دشوار مرحلہ ہوتا ہے—لیکن حضور اشرف الاولیاء نے اپنی مسلسل جدوجہد، پیہم کوشش اور بے مثال استقامت کے ذریعے ان بنجر علاقوں کو اسلام کی قدروں سے آشنا کر دیا۔

آپ نے اپنی پوری زندگی انہی علاقوں میں گزار دی— بدعقیدوں کو سنی صحیح العقیدہ بنایا، گمراہوں کو راہِ حق پر لایا، اور بے دین افراد کو دامنِ اسلام میں داخل کیا۔

آپ کی علمی لیاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مالدہ، کٹیہار اور بجنور میں باطل قوتوں کے ساتھ آپ نے کئی مناظرے کیے اور انہیں شکستِ فاش دے کر اہلِ سنت کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

آپ کے اخلاق و کردار کی دلکشی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی آپ سے ملتا، آپ کی شخصیت کا اسیر ہو جاتا، اور آپ کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔

تمہیدِ ثانی: ایک چراغ سے شہرِ علم تک

ہم نے ابھی اس مردِ درویش، اس ولیٔ کامل اور اس عہد ساز داعی کی شخصیت کا ایک اجمالی نقشہ دیکھا جس نے اپنی حیاتِ طیبہ سے جہالت کے اندھیروں کو چاک کر کے علم و ہدایت کی کرنیں بکھیر دیں۔ اب ہم اسی داستانِ نور کا وہ باب کھولتے ہیں جہاں ایک شخصیت اپنے فکر و درد کو ایک منظم ادارے کی صورت میں ڈھالتی ہے—جہاں اخلاص، محنت اور للّٰہیت اینٹوں میں ڈھل کر ایک ایسا قلعہ تعمیر کرتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے پناہ گاہ بن جاتا ہے۔

یہ باب ہے مخدوم اشرف مشن کا—وہ ادارہ جو محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک روحانی درسگاہ اور ایک ہمہ جہت نظامِ حیات ہے، جو حضور اشرف الاولیاء قدس سرہ العزیز کے خونِ جگر، ان کے اخلاص اور ان کی بے مثال جدوجہد کا عملی مظہر ہے۔

پنڈوہ شریف: ماضی کی عظمت، حال کی آزمائش

دنیاۓ سنیت کا یہ عظیم دینی و ملی قلعہ صوبہ بنگال کے ضلع مالدہ سے شمال کی جانب تقریباً بیس کلو میٹر کی مسافت پر واقع معروف و مقدس خطہ پنڈوہ شریف کی سرزمین پر قائم ہے۔

یہ وہی متبرک و مقدس سرزمین ہے جہاں کبھی علم و معرفت کے چشمے پھوٹتے تھے، جہاں رشد و ہدایت کی کرنیں پھیلتی تھیں، جہاں ولایت کے خزانے تقسیم ہوتے تھے۔

یہ وہی خطہ ہے جسے سراج الدین اخی، گنجِ نبات حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی اور مخدوم اشرف جہانگیر جیسے عظیم اولیاء نے اپنے قدموں سے لالہ زار بنایا تھا۔ ان مقدس ہستیوں نے یہاں کے باشندگان کے دلوں میں ایمان و اسلام کی شمع روشن کر کے کفر و شرک اور ضلالت و گمراہی کی تاریکیوں کو کافور کر دیا تھا۔

یہ سرزمین اپنے سینے میں درجنوں اولیائے کاملین کو سموئے ہوئے تھی—گویا یہ ایک زندہ روحانی تاریخ تھی۔

مگر امتدادِ زمانہ کے ساتھ حالات نے کروٹ لی— وہی سرزمین جو کبھی مرکزِ علم تھی، جہالت کا گہوارہ بن گئی، وہی لوگ جو کبھی اہلِ ایمان تھے، رسوماتِ کفر و شرک میں مبتلا ہو گئے، اور عقائدِ حقہ کی روشنی مدھم پڑنے لگی۔

مخدوم اشرف مشن کا قیام: ایک مردِ قلندر کا فیصلہ

ایسے نازک اور ناہموار حالات میں ایک مردِ قلندر، خانوادۂ اشرفیہ کی قدآور شخصیت—حضور اشرف الاولیاء رحمہ اللہ—نے اس سرزمین کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا۔

آپ نے حالات کا گہرا جائزہ لیا، امت کی گمراہی پر دل کڑھا، اور ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

چنانچہ مخدوم علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کے جوارِ کرم میں ۱۲؍ شوال المکرم ۱۹۹۳ء کو آپ نے بے پناہ محنت، عظیم قربانی اور خونِ جگر کی آبیاری کے ساتھ “الجامعۃ الجلالیۃ العلائیۃ الاشرفیۃ” کی بنیاد رکھی، جو بعد میں مخدوم اشرف مشن کے نام سے معروف ہوا۔

سنگِ بنیاد کے تاریخی کلمات: ایک مکمل وژن

“یہ ادارہ ایک منفرد المثال ادارہ ہوگا۔ اس کے تحت دارالعلوم کے ساتھ اسکول اور کالج بھی چلیں گے۔ دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جائے گا تاکہ یہاں کے فارغین ہر میدان میں دین کی خدمت انجام دیں۔ طبی سہولیات فراہم ہوں گی، گاؤں گاؤں مریضوں کی خدمت ہوگی، بیت المال قائم ہوگا، ریسرچ سینٹر ہوگا جہاں علما تحقیق و جستجو کریں گے۔ جو یہاں سے نکلے گا کامیاب ہوگا—مخدومی فیضان اس کے ساتھ رہے گا۔”

خواب سے حقیقت تک: ایک شہرِ علم کی تعمیر

آج اگر پنڈوہ شریف کی سرزمین پر نگاہ ڈالی جائے تو مخدوم اشرف مشن کی عالی شان، دیدہ زیب اور دلکش عمارتیں اپنی شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں—ہر آنے جانے والے کو دعوتِ نظارہ دیتی ہوئی۔

یہاں علم و فضل کا ایک شہر آباد ہے، یہاں روحانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے، یہاں فکر و تحقیق کی محفلیں سجی ہوئی ہیں۔

وہی بنجر زمین جو کبھی خشک اور سنسان تھی، آج علم و حکمت، معرفت و بصیرت اور ایمان و یقین کی شادابی سے لہلہا رہی ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں: علم و عمل کا حسین امتزاج

مخدوم اشرف مشن میں درجۂ اعدادیہ سے لے کر فضیلت تک جامعہ اشرفیہ کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ پانچ سو سے زائد طلبہ قیام و طعام کے بہترین انتظام کے ساتھ زیر تعلیم ہیں تقریباً دو درجن اساتذہ شب و روز ان کی علمی و فکری تربیت میں مصروف ہیں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم جیسے انگریزی، کمپیوٹر اور دیگر فنون بھی سکھائے جاتے ہیں بنگال مدرسہ بورڈ کے تحت دسویں کا امتحان بھی دیا جاتا ہے یہاں تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی خاص اہتمام ہے: روزانہ بعدِ مغرب حلقۂ ذکر موبائل پر سخت پابندی سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات مسابقہ جات: حفظ حدیث، تقریر، قرأت، نعت، محادثہ نمایاں طلبہ کو انعامات سے نوازا جاتا ہے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔

شعبہ جات: ایک مکمل نظام

الحمد للہ! اس ادارے میں مختلف شعبہ جات قائم ہیں: سراج المجتبیٰ دارالحفظ (تقریباً 300 طلبہ) قادری دارالافتاء اشرف الاولیاء لائبریری تاج الاصفیا دارالمطالعہ اشرف الاولیاء انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نورین ایجوکیشنل سینٹر عربی و اسپیشل اسٹڈی سینٹر ہائی اسکول ہومیوپیتھک ریسرچ و چیرٹی سینٹر شعبۂ نشر و اشاعت تحریک ابناء مخدوم اشرف مشن یہ سب مل کر ایک مکمل تعلیمی، تحقیقی، سماجی اور رفاہی نظام تشکیل دیتے ہیں۔

ترقی کا سفر: فیضان کی وسعت

آج مخدوم اشرف مشن بنگال و بہار کے نونہالوں کے لیے ایک مرکزی تعلیمی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اس کا فیضان اب صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے مختلف صوبوں تک پھیل چکا ہے۔ علم کے تشنگان پروانوں کی طرح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں، اور علاء الحق پنڈوی کے فیضان میں رہ کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

قیادت و تسلسل: مشن کی بقا

حضور اشرف الاولیاء کے وصال کے بعد ان کے جانشین مرشدی سید جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی المعروف قادری میاں کی قیادت میں یہ ادارہ سیلِ رواں کی مانند ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اس ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر دی ہے۔

عرس اور تاج علائی: فیضان کی تقسیم

ہر سال عرس کے موقع پر سو سے زائد مفتیان ،علما، فضلا اور حفاظ کو “تاجِ علائی” سے نوازا جاتا ہے، جو ملک بھر میں علم و دین کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔

اختتامیہ: ایک لازوال داستان

مخدوم اشرف مشن دراصل حضور اشرف الاولیاء کے اخلاص، ان کی محنت، ان کے خونِ جگر اور ان کی روحانیت کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کی ہر اینٹ میں للّٰہیت کی خوشبو ہے، جس کے ہر در و دیوار پر فیضانِ مخدومی سایہ فگن ہے، اور جس کے ہر گوشے میں علم و عمل کی روشنی ہے۔ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے: “یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم— جہادِ زندگانی میں یہی ہیں مردوں کی شمشیریں” اللہ تعالیٰ اس ادارے کو تا قیامت قائم و دائم رکھے اور ہمیں اس کے فیوض سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وصال

اپنی پوری زندگی دینی و ملی، تبلیغی و تعلیمی خدمات میں گزارنے کے بعد، خانوادہء اشرفیہ کا یہ چشم و چراغ دنیاے سنیت کو سوگوار کر کے بروز جمعہ ٢١/ذی القعدہ ١٤١٨ھ مطابق ٢٠/مارچ ١٩٩٨ء کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے... إنا لله وإنا إليه راجعون

ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post