استاد: علم کا چراغ، کردار کا معمار
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ انسان پڑھتا، شخصیت تراشتا اور نسلوں کے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔
دنیا میں کچھ رشتے ہمیں پیدائش کے ساتھ عطا ہوتے ہیں اور کچھ رشتے ہماری شخصیت کی تعمیر کے دوران وجود میں آتے ہیں۔ والدین ہمیں زندگی عطا کرتے ہیں، مگر استاد اسی زندگی کو مقصد، سمت اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ ماں کی گود انسان کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے تو استاد کی درس گاہ اس کی شخصیت کی تعمیر کا وہ مرحلہ ہے جہاں منتشر صلاحیتیں ترتیب پاتی ہیں، خوابوں کو تعبیر کی سمت ملتی ہے اور ایک خام ذہن شعور کی روشنی سے آشنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا رشتہ محض تعلیم دینے والے اور تعلیم حاصل کرنے والے کا رشتہ نہیں، بلکہ یہ ایک نسل اور اس کے مستقبل کے درمیان قائم ہونے والا وہ مقدس رشتہ ہے جس کے اثرات ایک فرد سے نکل کر پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
تعلیم کو اگر ہم تاجِ محل لکھیں گے تو اس پیکرِ تدریس کو محراب لکھیں گے؛ کیونکہ عمارتیں اینٹ، پتھر اور سنگِ مرمر سے تعمیر ہوتی ہیں، مگر قوموں کی تعمیر علم، کردار اور تربیت سے ہوتی ہے، اور اس عظیم تعمیر کا سب سے اہم معمار استاد ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ میں صرف کتاب نہیں دیتا، کتاب کو سمجھنے کی بصیرت دیتا ہے؛ وہ قلم صرف پکڑنا نہیں سکھاتا، قلم کی حرمت اور اس کے استعمال کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ وہ الفاظ سے جملے بنانا سکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی کردار سے زندگی کی عبارت لکھنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔
استاد وہ معمار ہے جو اینٹ اور پتھر نہیں، انسان تراشتا ہے؛ وہ ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔
استاد دراصل وہ معمار ہے جو اینٹ اور پتھر نہیں، انسان تراشتا ہے۔ وہ ایسا باغبان ہے جو ننھے پودوں میں مستقبل کے شجر دیکھتا ہے؛ ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے؛ ایسا رہبر ہے جو منزل سے پہلے سمت درست کرتا ہے؛ اور ایسا آئینہ ہے جو طالب علم کو صرف اس کا چہرہ نہیں دکھاتا بلکہ اس کی شخصیت کے وہ پہلو بھی دکھاتا ہے جنہیں وہ خود دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو اس وقت بھی پہچان لیتا ہے جب خود شاگرد کو اپنی قابلیت پر یقین نہیں ہوتا۔
طالب علمی کے زمانے میں استاد کی بہت سی باتیں ہمیں محض نصیحت محسوس ہوتی ہیں۔ کبھی اس کی ڈانٹ ناگوار گزرتی ہے، کبھی اس کی پابندی سخت معلوم ہوتی ہے اور کبھی اس کا اصرار بے جا محسوس ہوتا ہے؛ لیکن وقت جب انسان کو زندگی کی دھوپ میں لے آتا ہے تو وہی ڈانٹ سایۂ رحمت محسوس ہونے لگتی ہے، وہی پابندی نظم و ضبط کا سبق بن جاتی ہے اور وہی نصیحت زندگی کے کسی نازک موڑ پر چراغِ راہ بن کر سامنے آجاتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ استاد کی سختی میں بھی شفقت تھی، اس کی ڈانٹ میں بھی دعا تھی اور اس کی تنبیہ میں بھی مستقبل کی فکر پوشیدہ تھی۔
استاد کی عظمت کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے کتنے اسباق پڑھائے، کتنے امتحان پاس کرائے یا کتنے طلبہ کو ڈگریاں دلوائیں؛ استاد کی اصل عظمت تو اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا شاگرد کتاب سے نکل کر زندگی کے میدان میں قدم رکھتا ہے اور وہاں اپنے علم کے ساتھ اپنے کردار کی روشنی بھی لے کر چلتا ہے۔ استاد کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ اس کا شاگرد کسی بڑے عہدے پر فائز ہوگیا، اس کا نام شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گیا یا اس کے پاس دولت کے انبار جمع ہوگئے؛ استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کا شاگرد بڑا بن کر بھی اچھا انسان رہا، کامیاب ہوکر بھی متواضع رہا، اختیار پا کر بھی انصاف سے وابستہ رہا اور بلند مقام حاصل کرکے بھی اپنے محسنوں کو یاد رکھتا رہا۔
استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کا شاگرد بڑا بن کر بھی اچھا انسان رہے۔
دنیا کسی کامیاب انسان کا نام پڑھتی ہے، مگر اس نام کے پیچھے چھپی ہوئی استاد کی خاموش محنت کو اکثر نہیں دیکھ پاتی۔ لوگ ایک ڈاکٹر کی کامیابی دیکھتے ہیں، مگر اس کے ہاتھ میں قلم رکھنے والے استاد کو بھول جاتے ہیں؛ ایک انجینئر کی تعمیر دیکھتے ہیں، مگر اس کے ذہن میں تعمیر کا خواب جگانے والے معلم کا ذکر نہیں کرتے؛ ایک ادیب کے الفاظ پڑھتے ہیں، مگر اسے لفظوں کی دنیا سے روشناس کرانے والے استاد کی محنت نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی انگلیوں کے نشان ضرور موجود ہوتے ہیں۔ شاگرد جب آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہے تو استاد شاید زمین ہی پر کھڑا رہتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ اس کی محنت نے کسی کی پرواز کو ممکن بنایا۔
استاد وہ ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد نہیں، خوشی محسوس کرتا ہے۔ دنیا کے بہت سے شعبوں میں کامیابی کا مطلب دوسروں سے آگے نکلنا ہوتا ہے، مگر تدریس وہ میدان ہے جہاں استاد کی کامیابی کا ایک خوب صورت معیار یہ بھی ہے کہ اس کا شاگرد ایک دن اس سے آگے نکل جائے۔ ایک شفیق استاد اپنے شاگرد کی بلندی کو اپنی شکست نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی محنت کا ثمر سمجھتا ہے۔ وہ خود چراغ رہ کر بھی اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے روشن ہونے والا چراغ ایک دن کئی اور چراغوں کو روشن کرنے کے قابل ہوگیا۔
اسی لیے استاد کا مقام محض ایک پیشہ ورانہ منصب کا نام نہیں۔ تدریس اگر صرف روزگار بن جائے تو وہ ملازمت ہوسکتی ہے، مگر جب اس میں اخلاص، احساسِ ذمہ داری، تربیت، خیرخواہی اور نسلِ نو کے مستقبل کی فکر شامل ہوجائے تو یہی تدریس عبادت کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔ ایک حقیقی استاد کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا؛ اس کی باتیں طالب علم کے ذہن میں، اس کی نصیحتیں کردار میں اور اس کی تربیت آنے والی زندگی میں سانس لیتی رہتی ہے۔
آج جب ہم عالمی یومِ اساتذہ، یعنی Teachers’ Day، کے موقع پر اپنے اساتذۂ کرام کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف انہیں مبارک باد دینے یا چند رسمی الفاظ کہنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ ہمارے اساتذہ نے ہمیں جو علم، وقت، توجہ، تربیت اور محبت دی، ہم نے اسے اپنی زندگی میں کس حد تک اتارا؟ کیونکہ استاد کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں کہ اس کا شاگرد اس کی تعلیم کو اپنے کردار میں زندہ کردے۔
استاد کے لیے پھول خوب صورت تحفہ ہوسکتے ہیں، کتاب ایک قیمتی تحفہ ہوسکتی ہے، چند تعریفی کلمات خوشی کا سبب بن سکتے ہیں، مگر استاد کے لیے سب سے قیمتی تحفہ اس کا وہ شاگرد ہے جس کے اخلاق میں اس کی تربیت جھلکے، جس کے کردار میں اس کی محنت بولے اور جس کی کامیابی میں اس کے استاد کی تعلیم کی خوشبو محسوس ہو۔ استاد کی اصل یادگار کوئی عمارت نہیں، اس کے شاگردوں کی زندگیاں ہیں؛ اس کی اصل میراث کوئی دولت نہیں، وہ علم اور کردار ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
کچھ استاد کلاس روم سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ہماری زندگی سے کبھی رخصت نہیں ہوتے۔
آج ہمیں اپنے ان اساتذہ کو بھی یاد کرنا چاہیے جو ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان کو بھی جنہوں نے اس دنیا سے رخصت ہوکر اپنی یادوں کو ہمارے دلوں میں چھوڑ دیا ہے۔ کچھ استاد کلاس روم سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ہماری زندگی سے کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ ان کی آواز برسوں بعد بھی کسی مشکل گھڑی میں اندر سے سنائی دیتی ہے، ان کی نصیحت کسی موڑ پر راستہ دکھاتی ہے اور ان کا چہرہ کسی کامیابی کے لمحے میں اچانک یاد آجاتا ہے۔ ایسے اساتذہ جسمانی طور پر ہم سے دور ہوسکتے ہیں، مگر ان کا علم، ان کی تربیت اور ان کی دعائیں ہماری شخصیت میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
ہم اپنے اساتذہ کا حق چند جملوں میں ادا نہیں کرسکتے، کیونکہ استاد نے ہمیں صرف کتاب کے ابواب نہیں پڑھائے، اس نے زندگی کے ابواب پڑھنے کا شعور دیا ہے۔ اس نے صرف سوالوں کے جواب نہیں بتائے، بلکہ صحیح سوال کرنا سکھایا ہے۔ اس نے صرف منزل کا نام نہیں بتایا، بلکہ سفر کا سلیقہ عطا کیا ہے۔ اس نے صرف کامیابی کا خواب نہیں دکھایا، بلکہ ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دیا ہے۔
آپ نے جو دیا، وہ صرف سبق نہیں تھا؛
وہ زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ تھا۔
آپ نے جو سکھایا، وہ صرف کتاب کے صفحات پر نہیں تھا؛
وہ ہماری زندگی کے صفحات پر آج بھی زندہ ہے۔
آج اساتذۂ کرام کی خدمت میں سرِ عقیدت خم کرتے ہوئے دل یہی کہتا ہے کہ آپ نے جو دیا، وہ صرف سبق نہیں تھا؛ وہ زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ تھا۔ آپ نے جو سکھایا، وہ صرف کتاب کے صفحات پر نہیں تھا؛ وہ ہماری زندگی کے صفحات پر آج بھی زندہ ہے۔ آپ نے ہمارے ہاتھ میں قلم دیا تو الفاظ ہمارے ہوگئے، مگر ان الفاظ میں معنی پیدا کرنے کا شعور آپ نے عطا کیا۔ آپ نے ہمارے ذہن میں علم کا چراغ جلایا تو شاید ہمیں معلوم نہ تھا کہ اس کی روشنی زندگی کے کتنے اندھیروں کو دور کرے گی۔
قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے استاد کو عزت دی، انہوں نے علم کو عزت دی؛ اور جن معاشروں نے علم کو عزت دی، زمانے نے انہیں عزت دی۔ اس لیے کسی بھی قوم کے مستقبل کا اندازہ اس کے بلند و بالا ایوانوں سے نہیں، اس کے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے مقام سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر استاد باوقار ہوگا تو تعلیم باوقار ہوگی، تعلیم باوقار ہوگی تو طالب علم باکردار ہوگا، اور طالب علم باکردار ہوگا تو معاشرہ مضبوط ہوگا۔
آئیے، اس عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ہم صرف اپنے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش نہ کریں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد بھی کریں۔ ان کے ادب کو اپنا زیور، ان کی نصیحت کو اپنا سرمایہ اور ان کی محنت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ کیونکہ استاد کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ہم سال میں ایک دن اس کا شکریہ ادا کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی اس کے علم کی گواہی بن جائیں۔
اللہ رب العزت ہمارے تمام اساتذۂ کرام کو صحت، سلامتی، عزت، عافیت اور خوشیوں سے نوازے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو شرفِ قبول بخشے، ان کے ذریعے پروان چڑھنے والی نسلوں کو ملک و ملت اور انسانیت کے لیے باعثِ خیر بنائے، اور جو اساتذۂ کرام ہم سے رخصت ہوچکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علم و تعلیم کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنادے۔
آمین یا رب العالمین
استاد واقعی صرف پڑھاتا نہیں؛ وہ نسلوں کے ذہن روشن کرتا ہے، کردار سنوارتا ہے، خوابوں کو سمت دیتا ہے اور انسان کو انسان بناتا ہے۔ شاید اسی لیے استاد کا دیا ہوا سبق امتحان کی کاپی پر ختم نہیں ہوتا؛ وہ زندگی کی کتاب میں آخری سانس تک لکھا رہتا ہے۔
تمام اساتذۂ کرام کی خدمت میں سلامِ عقیدت،
خراجِ تشکر اور دل کی گہرائیوں سے نذرانۂ محبت۔

Post a Comment