تاج الاصفیاء سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانیؒ | حیات و خدمات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تاجُ الاصفیاء ابوالمجتبیٰ
حضرت سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ

علم و عرفان کی تابانی، عشق و وفا کی ترجمانی اور رشد و ہدایت کی ایک درخشاں داستان

✍ قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
📍 مقام: سہرسہ، بہار
☎ رابطہ: 9341137638

تاریخِ انسانی کے افق پر بعض شخصیتیں ایسی طلوع ہوتی ہیں جن کا وجود محض ایک فرد کا وجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے عہد کی روح، اپنے ماحول کی روشنی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ پیغام بن جاتی ہیں۔ زمانہ اپنی رفتار سے گزرتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں قائم و زائل ہوتی رہتی ہیں، نام و نشان مٹتے رہتے ہیں؛ مگر کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار کو وقت کی گرد دھندلا نہیں سکتی۔

ان کی زندگی کا چراغ جسم کے بجھ جانے کے بعد بھی دلوں میں روشن رہتا ہے، ان کے الفاظ خاموش ہوجانے کے باوجود زمانے کی سماعتوں میں گونجتے رہتے ہیں، اور ان کی سیرت کے نقوش صدیوں کے فاصلے طے کرکے بھی طالبانِ حق کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں۔

یہ وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن کے سینے علم کے گنجینے، دل معرفت کے آئینے، نگاہیں شفقت کے چشمے اور کردار اخلاص و تقویٰ کے روشن مینار ہوتے ہیں۔ ان کی صحبت میں دنیا کا شور مدھم اور آخرت کی حقیقت نمایاں ہوجاتی ہے؛ ان کی مجلس میں الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے بلکہ نصیحت بن جاتے ہیں، خاموشی بھی درس دیتی ہے اور ایک نگاہ بھی زندگی کی سمت بدل دیتی ہے۔

برصغیر کی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بے شمار اولیائے کرام، علما و مشائخ اور اربابِ معرفت سے نوازا ہے جنہوں نے نہ صرف خانقاہوں کو آباد کیا بلکہ دلوں کو ایمان کی حرارت، کردار کو اخلاق کی لطافت اور معاشرے کو محبت و انسانیت کی روشنی عطا کی۔

انہی روشن ستاروں کے سلسلے کی ایک تابندہ کڑی، خانوادۂ اشرفیہ کے ایک عظیم فرزند، علم و عرفان کے امین، رشد و ہدایت کے رہبر اور اہلِ محبت کے محبوب پیشوا تاجُ الاصفیاء، ابوالمجتبیٰ، حضرت علامہ و مولانا سید محمد مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ ہیں۔

آپ کی شخصیت کا مطالعہ محض ایک بزرگ کی سوانح پڑھنا نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد، ایک ایسی روایت اور ایک ایسے روحانی دبستان سے آشنائی حاصل کرنا ہے جس کی بنیاد شریعت کی پاسداری، طریقت کی پاکیزگی، محبتِ رسول ﷺ، ذکرِ الٰہی، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق پر قائم ہے۔

خاندانِ اشرفیہ: علم، عمل اور عرفان کا گلشن

ہر عظیم شخصیت کے پس منظر میں ایک ماحول ضرور کارفرما ہوتا ہے، مگر بعض خوش نصیب ہستیاں ایسے خانوادوں میں آنکھ کھولتی ہیں جہاں نسلوں کی روحانی کمائی ان کی تربیت کا سرمایہ بن جاتی ہے۔ خانوادۂ اشرفیہ بھی انہی ممتاز روحانی خانوادوں میں شمار ہوتا ہے جس کی نسبت حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتی ہے اور جس کے علمی و روحانی فیوض نے صدیوں تک اہلِ دل کو سیراب کیا۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کو یہ سعادت حاصل تھی کہ آپ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں دین محض گفتگو کا موضوع نہ تھا بلکہ زندگی کا دستور تھا؛ جہاں ذکر و فکر صرف خانقاہی اصطلاحیں نہ تھیں بلکہ روز و شب کا سرمایہ تھیں؛ جہاں عشقِ رسول ﷺ محض دعویٰ نہ تھا بلکہ کردار کی صورت میں جلوہ گر تھا۔

آپ کے والدِ بزرگوار مخدوم الاولیاء، امام العارفین، اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی المعروف اشرفی میاں قدس سرہ اپنے عہد کی عظیم روحانی شخصیت تھے۔ ایسے عظیم باپ کی آغوشِ تربیت میں پرورش پانا یقیناً ایک بڑی سعادت تھی، لیکن اس سعادت کا اصل حسن یہ ہے کہ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ نے اس روحانی وراثت کو صرف نام و نسب کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی ذات کے ذریعے اسے آگے بڑھایا۔

نسب انسان کو شرف عطا کرسکتا ہے، مگر عظمتِ کردار عطا نہیں کرسکتا؛ خاندان انسان کو پہچان دے سکتا ہے، مگر مقامِ عمل انسان کو خود حاصل کرنا پڑتا ہے۔ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آپ نے اپنے بزرگوں کے فیضان کو اپنی علمی بصیرت، عملی استقامت اور روحانی کمال سے نئی تابندگی عطا کی۔

ولادت و تربیت: ایک روشن صبح کا آغاز

تذکروں کے مطابق حضرت سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ولادتِ باسعادت 7 ذیقعدہ 1311ھ، بروز پیر کچھوچھہ مقدسہ میں ہوئی۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں روحانی روایت صرف تاریخ کا حصہ نہ تھی بلکہ زندگی کی سانسوں میں رچی بسی ہوئی تھی۔

انسان کا بچپن اس کی آئندہ زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو زندگی کے طوفان بھی عمارت کو آسانی سے متزلزل نہیں کرسکتے۔ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی تربیت بھی ایسے پاکیزہ ماحول میں ہوئی جہاں بزرگوں کی صحبت، علما کی مجالس، ذکر و عبادت کی فضا اور اہلِ بیت و مشائخ کی محبت نے آپ کی طبیعت کو جلا بخشی۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت میں سنجیدگی تھی مگر خشکی نہیں، جلال تھا مگر تکبر نہیں، وقار تھا مگر تصنع نہیں، اور عاجزی تھی مگر کمزوری نہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر رنگ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ آپ نے علم کو سینے میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کردار میں بھی منتقل کیا۔

علم کی روشنی اور عمل کی خوشبو

علم اگر صرف زبان کی زینت بن جائے تو اس کی چمک عارضی ہوتی ہے، لیکن جب علم کردار میں ڈھل جائے تو وہ انسان کے لیے بھی روشنی بنتا ہے اور معاشرے کے لیے بھی۔ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ اسی دوسرے وصف کے حامل تھے۔ آپ کو صرف عالم کہنا آپ کی شخصیت کے ایک پہلو کو بیان کرنا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ آپ عالمِ باعمل تھے۔

علم کی قدر اس وقت بڑھتی ہے جب وہ انسان کو عاجزی سکھائے، تقویٰ پیدا کرے، اخلاق سنوارے اور بندوں کو خالق کے قریب لے جائے۔ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی علمی عظمت کا حسن بھی یہی تھا کہ اس میں عمل کی روح موجود تھی۔

آپ کے نزدیک دین محض چند رسمی اعمال کا نام نہ تھا بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی تھا۔ عبادت کا تعلق مسجد سے تھا، مگر اخلاق کا تعلق بازار سے بھی تھا؛ ذکر کا تعلق تسبیح سے تھا، مگر حقوق العباد کی ادائیگی بھی اسی دین کا حصہ تھی؛ محبتِ رسول ﷺ کا تعلق زبان سے تھا، مگر اتباعِ سنت کا تعلق پورے کردار سے تھا۔

یہی جامعیت آپ کی شخصیت کا بنیادی وصف تھی۔

شریعت و طریقت: دو راستے نہیں، ایک حقیقت

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی زندگی کا ایک نہایت نمایاں پہلو شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج ہے۔ بعض لوگ شریعت کو صرف ظاہری احکام تک محدود کردیتے ہیں اور بعض طریقت کے نام پر شریعت سے بے نیازی کا تصور پیدا کرنے لگتے ہیں؛ مگر اہلِ حق کے نزدیک دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

شریعت راستہ ہے اور طریقت اس راستے پر اخلاص کے ساتھ چلنے کا نام؛
شریعت ظاہر کی اصلاح ہے اور طریقت باطن کی تطہیر۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی ترجمان تھی کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ رسولِ اکرم ﷺ کی سنت سے ہو کر گزرتا ہے۔ آپ کے یہاں تصوف کوئی بے عملی، گوشہ نشینی یا دنیا سے فرار کا نام نہیں تھا، بلکہ نفس کی اصلاح، دل کی پاکیزگی، اخلاق کی بلندی اور اللہ کی رضا کے لیے زندگی گزارنے کا نام تھا۔

آپ کی ذات اہلِ علم کے لیے درس، اہلِ طریقت کے لیے رہنمائی اور عام لوگوں کے لیے محبت و شفقت کا مرکز تھی۔

ایک شخصیت نہیں، ایک انجمن

بعض انسان اپنے وجود میں محدود رہتے ہیں، مگر بعض کی شخصیت اپنے وجود سے کہیں وسیع ہوتی ہے۔ وہ جہاں بیٹھتے ہیں وہاں ایک دنیا آباد ہوجاتی ہے۔ ان کی گفتگو علم کی محفل، ان کی خاموشی فکر کی مجلس، ان کی نگاہ تربیت کا ذریعہ اور ان کی زندگی اصلاح کا درس بن جاتی ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ آپ تنہا ایک انجمن تھے۔

آپ کے اندر عالم کی بصیرت تھی، صوفی کی لطافت تھی، مرشد کی شفقت تھی، مربی کی حکمت تھی اور عاشقِ رسول ﷺ کا جذبہ تھا۔ یہی صفات مل کر ایک ایسی شخصیت بناتی ہیں جس کے گرد صرف افراد جمع نہیں ہوتے بلکہ دلوں کا ایک کارواں آباد ہوجاتا ہے۔

آپ کے پاس آنے والے صرف عقیدت کے پھول لے کر نہیں آتے تھے بلکہ اپنی پریشانیاں، الجھنیں اور روحانی تشنگیاں بھی لاتے تھے۔ کوئی دعا کا طالب ہوتا، کوئی نصیحت کا؛ کوئی دل کے سکون کے لیے آتا اور کوئی زندگی کے کسی مشکل موڑ پر رہنمائی چاہتا۔ آپ کی مجلس سے اٹھنے والا صرف ایک ملاقات کی یاد لے کر نہیں جاتا بلکہ اکثر اپنے اندر تبدیلی کی ایک نئی کیفیت محسوس کرتا۔

جلال میں عظمت، جمال میں رحمت

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی شخصیت جلال و جمال کا ایک دل کش مرقع تھی۔ اہلِ اللہ کی زندگیوں میں یہ دونوں رنگ مختلف انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ کہیں شفقت و محبت کی بارش ہے، کہیں حق کی عظمت کا جلال؛ کہیں تبسم سے دل فتح ہوتے ہیں اور کہیں ایک نگاہ سے نفس کے غرور کی دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں۔

آپ کے اندر روحانی جلال کی کیفیت بھی تھی، جس کا تذکرہ آپ کے حالات میں ملتا ہے، لیکن اس جلال کے پسِ پردہ نفس کی سختی نہیں بلکہ دین کی عظمت اور روحانی کیفیت کارفرما تھی۔

ساتھ ہی آپ کی شخصیت کا دوسرا رخ شفقت، محبت اور دل جوئی کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ہیبت سے دل ادب سیکھتے اور آپ کی محبت سے قربت پاتے تھے۔

کرامت اور حقیقتِ ولایت

اولیائے کرام کے حالات میں کرامات اور روحانی تصرفات کے واقعات صدیوں سے بیان ہوتے آئے ہیں۔ حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ سے متعلق بھی مختلف تذکروں میں بعض غیر معمولی واقعات اور تصرفات کا ذکر ملتا ہے۔

مگر اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ کسی ولی کی اصل عظمت کرامت میں نہیں بلکہ استقامت میں ہوتی ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی زندگی کی اصل کرامت یہی تھی کہ آپ علم و عمل، ذکر و عبادت اور شریعت و طریقت کے راستے پر ثابت قدم رہے۔

کرامت اگر کسی ولی سے ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کی منزل نہیں، بلکہ اللہ کی عطا ہوتی ہے؛ ولی کی اصل پہچان اس کا کردار، تقویٰ اور اتباعِ رسول ﷺ ہے۔

ذکرِ الٰہی: زندگی کی سانس

انسان کی زبان خاموش ہوسکتی ہے، مگر دل اگر اپنے رب کی یاد سے آباد ہو تو زندگی کے اندھیرے بھی روشنی میں بدل جاتے ہیں۔ ذکرِ الٰہی اہلِ دل کا سرمایہ، اہلِ معرفت کا سہارا اور اولیائے کرام کی زندگی کی روح ہوتا ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ بھی ذکر و فکر سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی زندگی میں عبادت محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ محبت کی ایک صورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی روحانی زندگی کا محور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور حضورِ اکرم ﷺ سے محبت تھی۔

دنیا انسان کو بہت کچھ دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی؛ مال سہولت دے سکتا ہے مگر قلبی اطمینان نہیں؛ شہرت انسان کا نام بلند کرسکتی ہے مگر روح کو بلند نہیں کرسکتی۔

روح کی بلندی صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو۔

عشقِ رسول ﷺ: روحانی زندگی کی بنیاد

محبتِ رسول ﷺ ایمان کی روح اور اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے۔ مگر محبت صرف جذبات کا نام نہیں؛ محبت کا تقاضا اتباع ہے، وفا ہے، اطاعت ہے اور قربانی ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی شخصیت میں عشقِ رسول ﷺ ایک نمایاں اور بنیادی وصف تھا۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی ترجمان تھی کہ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کرنے والا انسان اپنے اخلاق کو بھی رسول ﷺ کے اخلاق کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

درود کی کثرت، سنت کی پابندی، محبتِ اہلِ بیت و صحابہ اور دین کی خدمت—یہ سب محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی مختلف شکلیں ہیں۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی سیرت کا یہی پیغام ہے کہ عشق صرف نعرہ نہیں، بلکہ زندگی کی تبدیلی کا نام ہے۔

مرشدِ کامل اور تربیتِ انسان

ایک حقیقی مرشد صرف اپنے مریدوں کو مخصوص اذکار نہیں بتاتا بلکہ ان کے اندر انسانیت، اخلاص، صبر، تواضع اور خوفِ خدا پیدا کرتا ہے۔ وہ مرید کو اپنے گرد جمع کرنے کے بجائے اسے اللہ سے وابستہ کرتا ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ بھی اسی روحانی روایت کے امین تھے۔

آپ کی شفقت میں تربیت تھی، آپ کی نصیحت میں حکمت تھی، آپ کی خاموشی میں معنی تھے اور آپ کے جلال میں بھی اصلاح کا پہلو موجود تھا۔

ایک اچھا معلم کتاب پڑھاتا ہے،
ایک بہترین مربی انسان کو پڑھتا ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ لوگوں کے ظاہر سے آگے بڑھ کر ان کے باطن کی اصلاح چاہتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ جب دل درست ہوجاتا ہے تو زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔

خلقِ خدا سے محبت اور اخلاق کی عظمت

دین کا حسن اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر عبادت بہت ہو مگر اخلاق تلخ ہوں تو انسان اپنی روحانی تربیت کے مقصد سے دور رہ جاتا ہے۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو آپ کی خلقِ خدا سے محبت اور متعلقین کی خیر خواہی تھی۔ آپ کی زندگی میں لوگوں کے لیے آسانی، شفقت اور دل جوئی کا عنصر نمایاں تھا۔

بزرگی کا اصل حسن یہی ہے کہ انسان جتنا اللہ کے قریب ہو، اتنا ہی اللہ کے بندوں کے لیے نرم دل ہو۔

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ روحانیت کا سفر انسان کو لوگوں سے دور نہیں بلکہ ان کے دکھ درد سے قریب کرتا ہے۔

پہلام کی روایت اور روحانی نسبت

آپ کے حالات سے متعلق تذکروں میں موضع پہلام، سمری بختیار پور، ضلع سہرسہ سے وابستہ ایک مشہور روایت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس روایت میں حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی ایک مرید سے نسبت، ایک نیم کے درخت اور مستقبل کے ایک واقعے کا بیان آتا ہے۔

اس قسم کے واقعات اہلِ عقیدت کے ہاں بزرگوں کے روحانی فیوض اور ان سے وابستہ یادوں کے طور پر محفوظ رہتے ہیں۔ تاہم ان واقعات سے قطع نظر، اس روایت کی سب سے اہم معنوی جہت یہ ہے کہ اہلِ دل کے تعلقات محض رسمی ملاقاتوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ محبت، دعا اور روحانی وابستگی ان کے درمیان ایک مضبوط رشتہ پیدا کرتی ہے۔

شبِ وصال: ذکر سے ملاقات تک

انسان کی زندگی کا اختتام اس کے پورے سفر کا ایک آخری باب ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کی موت دنیا کے لیے ایک خبر ہوتی ہے، مگر اہلِ اللہ کا وصال اہلِ محبت کے لیے ایک یادگار اور اہلِ ایمان کے لیے ایک سبق بن جاتا ہے۔

تذکروں کے مطابق حضرت تاج الاصفیاء سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا وصال 17 ربیع الاول 1386ھ کو ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نمازِ تہجد ادا فرمانے کے بعد ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوئے اور اسی کیفیت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔

کیا ہی حسین انجام ہے!

وہ زندگی جس کی صبحیں عبادت سے روشن ہوں، جس کے دن دین کی خدمت میں گزریں، جس کی شامیں ذکر و فکر سے معطر ہوں، اور جس کی راتیں اپنے رب کی یاد میں بسر ہوں—اس زندگی کا اختتام بھی اگر ذکر کے سائے میں ہو تو اہلِ دل کے لیے اس سے بڑھ کر سبق اور کیا ہوسکتا ہے؟

وہ زبان جو عمر بھر اللہ کو یاد کرتی رہی،
وہ دل جو زندگی بھر محبتِ الٰہی سے دھڑکتا رہا،
اور وہ روح جو اپنے رب کی رضا میں سرشار رہی،
آخرکار اسی محبوبِ حقیقی کی طرف لوٹ گئی۔

آپ کا مزارِ پُرانوار کچھوچھہ مقدسہ میں اپنے والدِ بزرگوار اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے مزار کے قرب میں واقع ہے اور اہلِ محبت و عقیدت کے لیے مرکزِ توجہ ہے۔

عصرِ حاضر اور سیرتِ تاج الاصفیاء

آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلندیوں پر پہنچ چکا ہے، مگر اس کے باوجود اس کا باطن بے سکونی کا شکار ہے۔ ہاتھ میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں، مگر دل حکمت سے خالی ہے؛ رہنے کے لیے عالی شان مکانات ہیں، مگر دلوں میں سکون نہیں؛ رابطوں کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر انسان تنہائی کا شکار ہے۔

ایسے زمانے میں حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ جیسی شخصیات کی سیرت صرف تاریخی دلچسپی کا موضوع نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے۔

ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ:
  • علم حاصل کرو، مگر علم کے ساتھ عمل بھی پیدا کرو۔
  • عبادت کرو، مگر عبادت کے ساتھ اخلاص بھی پیدا کرو۔
  • محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرو، مگر اس محبت کو سنت اور کردار میں بھی ظاہر کرو۔
  • دنیا میں رہو، مگر دنیا کو دل میں نہ بساؤ۔
  • لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ بندوں کی خدمت بھی اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
  • اپنے بزرگوں سے محبت رکھو، مگر ان کی محبت کا اصل حق یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل کرو۔

یہی وہ پیغام ہے جو آج کے انتشار زدہ انسان کو پھر سے اپنے مرکز کی طرف لوٹا سکتا ہے۔

تاج الاصفیاء: ایک عہد، ایک روایت، ایک پیغام

حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی شخصیت کو اگر چند الفاظ میں بیان کرنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ آپ:

علم کی روشنی،
عمل کی خوشبو،
ذکر کی حلاوت،
عشقِ رسول ﷺ کی حرارت،
طریقت کی لطافت،
شریعت کی استقامت،
اخلاق کی شیرینی
اور روحانیت کی تابانی کا حسین امتزاج تھے۔

آپ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اصل بزرگی بلند لباس میں نہیں بلکہ بلند کردار میں ہے؛ اصل کرامت غیر معمولی واقعات میں نہیں بلکہ گناہوں سے بچنے اور نیکی پر قائم رہنے میں ہے؛ اصل تصوف دنیا سے بھاگنے میں نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دل کو اللہ سے وابستہ رکھنے میں ہے۔

آپ کے تذکرے سے دل میں عقیدت ضرور پیدا ہوتی ہے، مگر اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ بزرگوں سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت ان کے ناموں کے چرچے نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کی پیروی ہے۔

اگر ہم حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی زندگی سے اخلاص سیکھ لیں، اگر ہم ان کی سیرت سے حسنِ اخلاق حاصل کرلیں، اگر ہم ان کے طرزِ زندگی سے ذکر و فکر کی رغبت پیدا کرلیں، اگر ہم ان کی نسبتِ مصطفوی ﷺ سے محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی مفہوم سمجھ لیں، تو یہی ان کے تذکرے کا سب سے بڑا ثمر ہوگا۔

اختتامی کلمات

حضرت تاجُ الاصفیاء ابوالمجتبیٰ سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا نام خانوادۂ اشرفیہ کے اس روشن سلسلے کا ایک تابندہ باب ہے جس کی روشنی صرف ماضی تک محدود نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

آپ کی شخصیت میں علم تھا مگر غرور نہیں، معرفت تھی مگر دعویٰ نہیں، جلال تھا مگر ظلم نہیں، محبت تھی مگر کمزوری نہیں، بزرگی تھی مگر تکبر نہیں۔

آپ نے اپنے اسلاف کی روحانی میراث کو اپنے کردار سے زندہ رکھا اور اہلِ محبت کو یہ پیغام دیا کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ اخلاص، اطاعت، محبت، تقویٰ اور خدمتِ خلق سے ہو کر گزرتا ہے۔

آج جب دنیا مادیت کے شور میں اپنے دل کی آواز کھوتی جارہی ہے، جب اخلاق کی جگہ مفاد، محبت کی جگہ نفرت اور اخلاص کی جگہ نمود و نمائش بڑھتی جارہی ہے، ایسے وقت میں حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ جیسے نفوسِ قدسیہ کی سیرت ہمارے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

دل کو ذکر سے زندہ کرو،
کردار کو سنت سے سنوارو،
علم کو عمل سے آراستہ کرو،
محبت کو اخلاق میں ڈھالو،
اور زندگی کو اللہ و رسول ﷺ کی رضا کے لیے وقف کردو۔

یہی اہلِ اللہ کی زندگیوں کا حاصل ہے، یہی بزرگانِ دین کی تعلیمات کا جوہر ہے، اور یہی حضرت تاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کی یاد کا حقیقی حق بھی۔

دعا

اللہ تعالیٰ حضرت تاج الاصفیاء ابوالمجتبیٰ سید مصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے اہلِ محبت کے قلوب کو منور فرمائے، اور ہمیں بھی علمِ نافع، عملِ صالح، اخلاصِ کامل، محبتِ رسول ﷺ اور حسنِ کردار کی دولت عطا فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
✍ تحریر:
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post