سمری بختیار پور میں ایک جامع دینی و عصری تعلیمی مرکز کی ضرورت
تعلیم، تہذیب، ہنر اور شخصیت سازی کے ایک نئے تصور کی جانب
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
تعلیم محض معلومات کی منتقلی یا امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی، تہذیبی اور عملی شخصیت کی تعمیر کا ایک ہمہ گیر عمل ہے۔ ایک کامیاب نظامِ تعلیم وہی ہوتا ہے جو نئی نسل کو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی تہذیبی شناخت، اخلاقی اقدار اور انسانی ذمہ داریوں سے بھی وابستہ رکھے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس کی روشنی میں آج ہمارے تعلیمی نظام اور اداروں پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
سمری بختیار پور اور اس کے اطراف کا وسیع علاقہ انسانی صلاحیتوں، علمی ذوق اور نوجوان آبادی کے اعتبار سے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں بے شمار ایسے بچے اور نوجوان موجود ہیں جن میں اعلیٰ صلاحیتیں پائی جاتی ہیں، لیکن ان صلاحیتوں کی مناسب رہنمائی، منظم تربیت اور جامع تعلیمی مواقع ہمیشہ یکساں طور پر میسر نہیں ہوتے۔
بہت سے خاندان چاہتے ہیں کہ ان کے بچے جدید علوم میں ترقی کریں، اعلیٰ پیشہ ورانہ میدانوں تک پہنچیں اور معاشی طور پر خود کفیل بنیں، مگر ساتھ ہی ان کی دینی، اخلاقی اور تہذیبی شناخت بھی محفوظ رہے۔ یہ خواہش محض کسی مخصوص طبقے کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک بڑے حصے کی حقیقی ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں یہ سوال سنجیدگی سے اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا سمری بختیار پور میں ایک ایسا جامع تعلیمی و تربیتی مرکز قائم نہیں ہونا چاہیے جہاں ابتدائی درجے سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک ایک مربوط نظام موجود ہو؛ جہاں دینی تعلیم اور عصری علوم کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک متوازن انسانی شخصیت کے دو اہم اجزا سمجھا جائے؛ جہاں علم کے ساتھ کردار، ڈگری کے ساتھ ہنر، پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ اخلاقی تربیت اور انفرادی کامیابی کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جائے؟
یہ سوال محض ایک نئے اسکول یا کالج کے قیام کا نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیمی تصور کا ہے جو آنے والی نسل کے مستقبل کو زیادہ جامع اور متوازن بنیادوں پر استوار کر سکے۔
دین اور دنیا: تصادم نہیں، تکمیل کا رشتہ
ہمارے معاشرے میں اکثر دینی تعلیم اور عصری تعلیم کو دو الگ راستوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ نظام ہے جو جدید سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات اور پیشہ ورانہ علوم پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف دینی علوم اور مذہبی تربیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کی ضروریات اتنی محدود نہیں کہ اسے صرف ایک دائرے میں مقید کر دیا جائے۔
ایک نوجوان کو اپنے خالق سے تعلق، اخلاقی ذمہ داری، انسانی اقدار اور تہذیبی شعور کی ضرورت بھی ہے، اور اسے جدید دنیا کے علمی، معاشی اور تکنیکی تقاضوں کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ وہ ڈاکٹر بنے، انجینئر، استاد، سائنس داں، وکیل، منتظم، تاجر یا محقق، ہر میدان میں اسے علم کے ساتھ کردار کی بھی ضرورت ہوگی۔
اس لیے ایک مثالی ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو نہ تو صرف ماضی میں محدود کر دیا جائے اور نہ ہی انہیں اپنی تہذیبی جڑوں سے کاٹ کر جدیدیت کے حوالے کر دیا جائے، بلکہ انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی شناخت کے ساتھ جدید دنیا میں اعتماد اور صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
ایک جامع کیمپس کا تصور
سمری بختیار پور میں اگر اس نوعیت کا کوئی ادارہ قائم کیا جائے تو اسے محض عمارتوں کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی کیمپس کے طور پر منصوبہ بند کیا جانا چاہیے۔
اس کی بنیاد ابتدائی تعلیم سے رکھی جا سکتی ہے۔ بچوں کو معیاری اسکولی تعلیم دی جائے جس میں زبانوں، ریاضی، سائنس، سماجی علوم اور کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی مناسب جگہ حاصل ہو۔
اردو، ہندی اور انگریزی جیسی زبانوں پر اچھی گرفت بچوں کے فکری اور عملی مستقبل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی سے ابتدائی واقفیت انہیں بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرے گی۔
اس کے ساتھ دینی تعلیم کو بھی ایک منظم اور علمی انداز میں نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ قرآن فہمی، سیرت، اسلامی اخلاق، بنیادی دینی معلومات اور عربی زبان کی مناسب تعلیم بچوں کی فکری اور تہذیبی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
جو طلبہ دینی علوم میں مزید تخصص حاصل کرنا چاہیں، ان کے لیے اعلیٰ درجے کے الگ پروگرام مرتب کیے جا سکتے ہیں۔
اس پورے نظام کی روح یہ ہونی چاہیے کہ دین انسان کے کردار کو روشن کرے اور عصری علم اس کی عملی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ اور باوقار تعلیمی انتظام
ہمارے معاشرتی اور تہذیبی پس منظر میں ایک اہم مسئلہ تعلیمی ماحول کی نوعیت بھی ہے۔ بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا ماحول بھی چاہتے ہیں جہاں ان کے مذہبی اور تہذیبی تصورات کا احترام کیا جائے۔
اس لیے اگر ایسا جامع ادارہ قائم ہو تو لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ اور مکمل تعلیمی انتظام پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔
جہاں ممکن ہو وہاں درج ذیل انتظامات کیے جائیں:
- الگ تعلیمی بلاک یا کیمپس
- الگ داخلی و انتظامی نظام
- الگ لائبریری اور مطالعہ گاہیں
- الگ کھیلوں کے انتظامات
- الگ ہوسٹل
- خواتین کے لیے مناسب تدریسی اور انتظامی عملہ
اس کا مقصد کسی کی تعلیمی ترقی کو محدود کرنا نہیں بلکہ دونوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ پوری یکسوئی، تحفظ اور وقار کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے سکیں۔
خصوصاً طالبات کے لیے ایک محفوظ، معیاری اور اعلیٰ تعلیمی ادارہ علاقے کی سماجی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بیٹی نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے خاندان اور پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے سرمایہ ثابت ہوتی ہے۔
مسجد اور روحانی تربیت
ایسے کیمپس میں مسجد کا وجود محض ایک تعمیراتی ضرورت نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی مرکز کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔
مسجد طلبہ اور اساتذہ کو عبادت، نظم و ضبط، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری سے جوڑنے کا ذریعہ بنے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے کا پورا ماحول اعتدال، علم، حکمت اور حسنِ اخلاق کی بنیاد پر استوار ہو۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف ذہن کو معلومات سے بھر دینا نہیں بلکہ شخصیت کو سنوارنا بھی ہے۔ اگر ایک طالب علم اعلیٰ ڈگری حاصل کر لے لیکن اس میں دیانت، ذمہ داری، سچائی، احترامِ انسانیت اور خدمت کا جذبہ پیدا نہ ہو تو اس کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔
جدید علوم اور پیشہ ورانہ تعلیم
آج کی دنیا میں نوجوانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ تعلیم کے بعد باوقار اور مستحکم مستقبل حاصل کرنا بھی ہے۔
اس لیے مجوزہ ادارے میں بتدریج ایسے شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں جو عصرِ حاضر کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہوں۔
- کمپیوٹر سائنس
- انفارمیشن ٹیکنالوجی
- مصنوعی ذہانت
- ڈیجیٹل مہارتیں
- اکاؤنٹنگ
- بزنس مینجمنٹ
- زبانوں کی تعلیم
- مختلف پیشہ ورانہ کورسز
- نرسنگ اور پیرامیڈیکل شعبے
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان صرف ڈگری لے کر روزگار کے دروازوں پر دستک دینے والے نہ رہیں، بلکہ انہیں عملی مہارتیں بھی حاصل ہوں۔ ہر طالب علم کو کم از کم ایک ایسا ہنر ضرور سکھایا جا سکتا ہے جس کی بنیاد پر وہ مستقبل میں خود روزگار حاصل کرنے یا دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے قابل ہو۔
کھیل: شخصیت سازی کا لازمی حصہ
ہمارے ہاں کھیلوں کو اکثر تعلیم کے مقابلے میں ایک ثانوی سرگرمی سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ جسمانی صحت، نظم و ضبط، قیادت، برداشت اور اجتماعی مزاج کی تربیت میں کھیلوں کا بڑا کردار ہے۔
ایک مثالی تعلیمی کیمپس میں مناسب کھیلوں کی سہولتیں بھی ہونی چاہئیں۔
- کرکٹ
- فٹ بال
- والی بال
- بیڈمنٹن
- ایتھلیٹکس
- دیگر مقامی اور مفید کھیل
ضروری نہیں کہ ہر بچہ ایک ہی طرح کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کوئی طالب علم ریاضی میں ممتاز ہو سکتا ہے، کوئی کھیل میں، کوئی ادب میں، کوئی سائنس میں اور کوئی فن یا ٹیکنالوجی میں۔ ایک اچھے ادارے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کے بجائے ان کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانے اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دے۔
تحقیق، مطالعہ اور علمی ماحول
ایک بڑے ادارے کی پہچان صرف اس کی عمارت یا طلبہ کی تعداد سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علمی ماحول سے ہوتی ہے۔
اس لیے ایک جدید مرکزی کتب خانہ، ڈیجیٹل لائبریری، مطالعہ گاہیں اور مستقبل میں ریسرچ سینٹر کا قیام بھی اس منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔
خصوصاً مقامی مسائل پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ شمالی بہار کے مختلف علاقوں کو جن معاشی، تعلیمی، ماحولیاتی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کے لیے مقامی سطح پر تحقیق اور علمی مکالمے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی ادارے اگر اپنے معاشرے سے جڑے رہیں تو وہ محض ڈگریاں تقسیم کرنے والے مراکز نہیں رہتے بلکہ سماجی ترقی کے محرک بن جاتے ہیں۔
غریب اور باصلاحیت طلبہ کا حق
ایسا ادارہ صرف خوش حال طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
اگر واقعی یہ منصوبہ علاقے کی ترقی کے لیے ہو تو اس میں غریب اور باصلاحیت بچوں کے لیے ایک مضبوط اسکالرشپ اور مالی معاونت کا نظام ہونا چاہیے۔
مخیر حضرات، تاجروں، بیرونِ ملک مقیم اہلِ علاقہ اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے ایک مستقل تعلیمی فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے ضرورت مند اور ذہین طلبہ کی مدد کی جائے۔
مضبوط انتظامیہ اور مکمل شفافیت
ایسے کسی منصوبے کی کامیابی کا سب سے اہم پہلو اس کا انتظامی ڈھانچہ ہوگا۔
یہ ادارہ کسی فرد کی ذاتی شہرت یا کسی محدود گروہ کے مفادات کا مرکز نہیں بننا چاہیے، بلکہ اسے ایک منظم، قانونی اور شفاف ادارہ ہونا چاہیے۔
اس کے لیے ایک باوقار تعلیمی ٹرسٹ یا سوسائٹی تشکیل دی جا سکتی ہے جس میں مختلف شعبوں کے اہل اور تجربہ کار افراد شامل ہوں۔
- ماہرینِ تعلیم
- علما و دانش ور
- انتظامی ماہرین
- قانون داں
- مالیاتی ماہرین
- سماجی کارکن
- نوجوان نمائندگان
آمدنی اور اخراجات میں شفافیت، باقاعدہ آڈٹ، انتظامی جواب دہی اور تعلیمی معیار کی نگرانی اس منصوبے کی بنیادی شرائط ہونی چاہئیں، کیونکہ ادارے صرف نیک خواہشات سے نہیں بلکہ مضبوط نظام سے چلتے ہیں۔
ایک دن میں نہیں، مرحلہ وار تعمیر
یہ خیال بھی درست نہیں کہ ایسا عظیم منصوبہ صرف اس وقت شروع کیا جائے جب تمام وسائل یکجا ہو جائیں۔ بڑے ادارے مرحلہ وار تعمیر کیے جاتے ہیں۔
پہلا مرحلہ
زمین، قانونی ڈھانچہ، ابتدائی اسکول اور بنیادی دینی و اخلاقی تربیت کا نظام قائم کیا جائے۔
دوسرا مرحلہ
ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم، لائبریری، کھیلوں کی سہولتیں اور ہنر مندی کے مراکز قائم کیے جائیں۔
تیسرا مرحلہ
پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیمی شعبوں کی طرف پیش رفت کی جائے۔
یہ منصوبہ اگر ایک واضح نقشۂ کار، ماہرین کی رہنمائی اور عوامی اعتماد کے ساتھ شروع ہو تو آنے والے برسوں میں ایک بڑی تعلیمی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اب سوال اہلِ علاقہ کے سامنے ہے
یہ تحریر کسی تیار شدہ منصوبے کے اعلان سے زیادہ ایک سنجیدہ فکری دعوت ہے۔
سمری بختیار پور کے اہلِ علم، علما، اساتذہ، تاجروں، صنعت کاروں، سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور بیرونِ ملک مقیم اہلِ علاقہ سے یہ سوال ہے:
- کیا ہمارے علاقے کو ایک ایسے جامع ادارے کی ضرورت نہیں جس میں دین اور دنیا کی تعلیم ایک متوازن نظام کے تحت فراہم کی جائے؟
- کیا ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے ایسا تعلیمی ماحول قائم نہیں کر سکتے جہاں جدید علوم کے ساتھ اخلاق اور تہذیب کی تربیت بھی ہو؟
- کیا ہم ایک ایسا مرکز نہیں بنا سکتے جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ، محفوظ اور معیاری نظام ہو؟
- کیا ہمارے درمیان ایسے اہلِ خیر، صاحبِ فکر اور باصلاحیت افراد موجود ہیں جو اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے آگے آئیں؟
کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی رائے دے۔ کسی کے پاس تعلیمی تجربہ ہو تو وہ رہنمائی کرے۔ کوئی قانونی و انتظامی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ منصوبہ بندی میں شریک ہو۔ کوئی مالی تعاون کر سکتا ہو تو وہ اس خواب میں اپنا حصہ شامل کرے۔ کوئی نوجوان تنظیم سازی اور عملی کام کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ آگے بڑھے۔
ایک خواب سے پہلے ایک مکالمہ ضروری ہے
بڑے ادارے صرف سرمایہ سے نہیں بنتے؛ ان کی بنیاد ایک اجتماعی سوچ، واضح مقصد، علمی منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی پر ہوتی ہے۔
اس لیے ضرورت ہے کہ سمری بختیار پور میں اس موضوع پر اہلِ علم اور اہلِ علاقہ کی ایک ابتدائی مشاورتی نشست منعقد ہو، جہاں جذبات سے زیادہ حقائق اور خواہشات سے زیادہ منصوبہ بندی پر گفتگو کی جائے۔
- زمین کہاں ہوگی؟
- ادارہ کس قانونی ڈھانچے کے تحت قائم ہوگا؟
- نصاب کی نوعیت کیا ہوگی؟
- فنڈنگ کا شفاف نظام کیسے بنے گا؟
- دینی اور عصری تعلیم میں عملی توازن کس طرح پیدا کیا جائے گا؟
- لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ نظام کی منصوبہ بندی کیسے ہوگی؟
- ابتدائی مرحلے میں کون سے شعبے شروع کیے جائیں گے؟
یہ تمام سوالات ماہرین اور اہلِ علاقہ کی اجتماعی مشاورت سے طے کیے جانے چاہئیں۔
اگر نیت اجتماعی ہو، منصوبہ حقیقت پسندانہ ہو اور نظام شفاف ہو تو آج جو بات ایک خیال محسوس ہو رہی ہے، وہ کل ایک ایسے ادارے کی بنیاد بن سکتی ہے جس سے پورا علاقہ فائدہ اٹھائے۔
سمری بختیار پور کو صرف ایک اور عمارت کی نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیمی تصور کی ضرورت ہے جو نئی نسل کو علم بھی دے، ہنر بھی دے، کردار بھی دے اور مستقبل میں آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی عطا کرے۔
اب یہ سوال ہم سب کے سامنے ہے: کیا ہم اس خیال پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہیں؟
کون لوگ اس موضوع پر ابتدائی مشاورت کے لیے آگے آئیں گے؟
کون اس عظیم کام کی بنیاد رکھنے میں اپنا علمی، عملی، مالی یا انتظامی تعاون پیش کرے گا؟
ممکن ہے ایک مخلصانہ مشورہ ایک منصوبہ بن جائے، ایک منصوبہ ایک ادارہ بن جائے، اور ایک ادارہ آنے والی نسلوں کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ ثابت ہو۔
فیصلہ آج نہیں تو کل کرنا ہی ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو صرف موجودہ سہولتوں کے حوالے کر دیں، یا ان کے لیے ایک بہتر اور زیادہ جامع تعلیمی مستقبل کی بنیاد رکھنے کی کوشش کریں۔

Post a Comment