حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ حیات و خدمات۔ علمی آثار اور یادگار نقوش

 خلیفۂ حضور اشرف الاولیاء

حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ

حیات و خدمات، علمی آثار اور یادگار نقوش
از قلم:
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638



بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

تمہید
ملتِ اسلامیہ کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ ہر عہد میں اللہ تعالیٰ نے ایسے رجالِ علم و عمل کو پیدا فرمایا جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، علومِ نبوت کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ، تربیتِ نسلِ نو، دعوت و تبلیغ اور فقہ و افتا کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ یہی وہ باکردار علماء ہیں جن کی زندگیاں خاموش انقلاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ اقتدار کے طلب گار ہوتے ہیں، نہ شہرت کے آرزو مند؛ بلکہ ان کی تمام تر جدوجہد رضائے الٰہی، اتباعِ سنتِ نبوی اور خدمتِ دین کے لیے ہوتی ہے۔ ایسے ہی علماء امت کے حقیقی سرمایہ، مدارس کے حسن، مساجد کی رونق، منابر کی زینت اور عوام و خواص کے لیے مشعلِ راہ ہوتے ہیں۔

برصغیر ہند کی علمی و دینی تاریخ میں ایسے بے شمار اکابر گزرے ہیں جنہوں نے اپنی شبانہ روز محنت، علمی انہماک، تقویٰ و للّٰہیت اور بے مثال اخلاص کے ذریعے دینِ اسلام کی آبیاری کی۔ انہی خوش نصیب اور بافیض شخصیات میں ایک ممتاز اور قابلِ احترام نام حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ کا بھی ہے، جو فقہِ اسلامی کے ماہر، حدیثِ نبوی کے خوشہ چین، صاحبِ نظر محقق، کہنہ مشق مفتی، باوقار مدرس، استاذ العلماء، خادمِ علومِ نبوت، مخلص داعیِ دین، خلیفۂ حضور اشرف الاولیاء، اور اہلِ سنت و جماعت کے ایک نہایت معتبر عالمِ دین تھے۔

حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ کی پوری زندگی علم و عمل، اخلاص و استقامت، تدریس و افتا، تحقیق و تصنیف اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ آپ نے جہاں بھی قیام فرمایا، وہاں علم و عرفان کے چراغ روشن ہوئے، طلبۂ علومِ دینیہ نے آپ کے چشمۂ فیض سے سیرابی حاصل کی، افتا کے میدان میں بے شمار شرعی مسائل کے مدلل جوابات دے کر عوام و خواص کی رہنمائی فرمائی، اور قلم کے ذریعے ایسے علمی نقوش چھوڑے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی سرمایۂ افتخار رہیں گے۔

آپ کی شخصیت میں ایک باوقار عالم کی سنجیدگی، ایک مشفق استاد کی شفقت، ایک محقق کی باریک بینی، ایک مفتی کی احتیاط، ایک داعی کی اخلاص مندی اور ایک صالح بزرگ کی سادگی یکجا نظر آتی تھی۔ آپ گفتگو میں متانت، تدریس میں وضاحت، تحقیق میں دیانت، افتا میں احتیاط اور اخلاق میں انکساری کا حسین نمونہ تھے۔ یہی اوصاف تھے جنہوں نے آپ کو اپنے معاصر علماء کے درمیان ایک ممتاز مقام عطا کیا۔

آپ نے نصف صدی سے زائد عرصہ تدریس، افتا، تصنیف و تالیف اور دعوت و اصلاح کی عظیم خدمات انجام دیں۔ آپ کے ہزاروں تلامذہ آج ملک کے مختلف مدارس، جامعات، مساجد اور دینی مراکز میں قرآن و حدیث کی تعلیم، فقہ و افتا کی خدمت اور اصلاحِ امت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یوں آپ کا علمی فیض صرف آپ کی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ شاگردوں، تصنیفات اور علمی ورثے کی صورت میں آج بھی جاری و ساری ہے۔

زیرِ نظر سوانح اسی عظیم المرتبت عالمِ دین، باعمل مفتی، ممتاز مدرس اور صاحبِ قلم شخصیت کی حیات و خدمات کا ایک جامع تعارف ہے، جس میں حتی الامکان ان کی علمی، تدریسی، تحقیقی اور دعوتی زندگی کے مختلف گوشوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ نئی نسل ان کے کردار، اخلاص، علمی عظمت اور دینی خدمات سے واقف ہو سکے اور ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنا سکے۔
---

نام و نسب
ہر انسان کا حسب و نسب اس کی خاندانی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے، تاہم اہلِ علم کی اصل پہچان ان کا علم، کردار، تقویٰ، اخلاص اور خدمتِ دین ہوتی ہے۔ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ بھی ان خوش نصیب علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنے عمدہ اخلاق، بے مثال علمی خدمات اور خلوصِ نیت سے اپنی ایسی شناخت قائم کی جو نسلوں تک باقی رہے گی۔

آپ کا نام عبد القدوس ہے اور نسب نامہ یوں ہے: عبد القدوس بن عبد الرؤف بن شیخ ریاض الدین بن شیخ محمد اشرف بن شیخ محمد وزیرالدین۔

یہ وہ علمی و دینی خانوادہ تھا جس میں دیانت، مذہبی مزاج، سادگی اور دین سے وابستگی کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی۔ اسی پاکیزہ ماحول نے حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کی ابتدائی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا اور بچپن ہی سے ان کے اندر دین سے محبت، علم کے حصول کا شوق اور علماء کی صحبت اختیار کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، جو آگے چل کر ایک عظیم علمی زندگی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

ولادت
قدرت اپنے بعض بندوں کو ایسے ماحول میں پروان چڑھاتی ہے جہاں سادگی، دیانت، محنت اور دینی مزاج ان کی شخصیت کا بنیادی سرمایہ بن جاتا ہے۔ بعد کے زمانوں میں یہی اوصاف ان کے کردار، گفتار اور خدمات میں نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ کی حیاتِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کا روشن نمونہ تھی۔

ولادت : ۱۲ ذی قعدہ ١٣٦٣ھ مطابق 1944 ضلع سہرسہ ( جو پہلے مونگیر میں تھا ) کے ایک چھوٹے سے گاؤں ”ہتھمنڈل“ میں آپ کی ولادت ہوئی۔

اس دور میں دیہی علاقوں میں نہ تعلیمی سہولتیں وافر تھیں اور نہ ہی وہ وسائل میسر تھے جو آج بآسانی دستیاب ہیں، لیکن ایسے ہی پُرخلوص ماحول میں پرورش پانے والی شخصیات عموماً عزم و استقلال، صبر و قناعت اور محنت و ریاضت کا پیکر بن کر ابھرتی ہیں۔ حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ کی ابتدائی زندگی بھی سادگی، دینی ماحول اور پاکیزہ تربیت سے عبارت تھی۔

بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں سنجیدگی، وقار، خاموش مزاجی، دیانت داری اور علم سے غیر معمولی شغف نمایاں تھا۔ اہلِ خاندان اور مقامی علماء نے بھی آپ کی ذہانت اور دینی ذوق کو محسوس کیا، چنانچہ کم عمری ہی سے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یہی ابتدائی توجہ آگے چل کر آپ کی علمی عظمت اور دینی خدمات کا مضبوط مقدمہ ثابت ہوئی۔

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ عظمت کا معیار دولت و شہرت نہیں بلکہ علم، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین ہے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے اٹھنے والا یہ طالبِ علم آگے چل کر ملک کے متعدد عظیم مدارس میں شیخ الحدیث، صدر المدرسین، صدر شعبۂ افتا اور مرجعِ فتاویٰ کی حیثیت سے پہچانا گیا، اور ہزاروں تشنگانِ علم کے لیے فیض رسانی کا ذریعہ بنا۔
---

تعلیم و تربیت
علم ہی وہ دولت ہے جسے انبیائے کرام علیہم السلام کی حقیقی وراثت قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے امت کے اکابر علماء نے ہمیشہ حصولِ علم کو عبادت اور خدمتِ دین کا بنیادی وسیلہ سمجھا۔ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ بھی انہی سعادت مند اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے جوانی کا بہترین حصہ علومِ اسلامیہ کے حصول میں صرف کیا۔

مفتی صاحب نے اپنے گاؤں کے مقامی مکتب میں ناظرہ قرآن شریف، اردو اور حساب کی تعلیم حاصل کی اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں دار العلوم اہل سنت مدرسہ قادریہ انوار العلوم سر بیلہ ضلع سہرسا میں پڑھیں، ۱۹۵۷ء میں علوم اسلامیہ کی عظیم دانش گاہ دار العلوم اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ میں داخلہ کرایا، جہاں آپ نے حافظ ملت قدس سرہ العزیز کے زیر تربیت رہ کر آٹھ سال تک بڑی محنت، عرق ریزی اور جہاں سوزی کے ساتھ درس نظامی کی کتبِ متداولہ، منقولہ و معقولہ پڑھیں اور وہیں سے ۱۹۶۴ء میں علوم اسلامیہ کی تکمیل کے بعد سندِ فراغت حاصل کی۔

یہ عبارت اگرچہ مختصر ہے، مگر اس کے پس منظر میں برسوں کی شبانہ روز محنت، علمی ریاضت، مسلسل مطالعہ، اساتذۂ کرام کی خدمت، سبق کی پابندی اور علمی انہماک کی ایک پوری داستان پوشیدہ ہے۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے حصولِ علم کو محض ایک رسمی مرحلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی پوری زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔

جامعہ اشرفیہ مبارک پور اس دور میں برصغیر کی ممتاز علمی درس گاہوں میں شمار ہوتا تھا، جہاں داخلہ حاصل کرنا ہی ایک سعادت تصور کیا جاتا تھا۔ وہاں حضرت حافظِ ملت رحمہ اللہ جیسے عظیم استاد کی سرپرستی میں رہ کر درسِ نظامی کی تکمیل کرنا، کسی طالبِ علم کے لیے غیر معمولی اعزاز تھا۔ حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور تمام علومِ دینیہ میں گہری مہارت حاصل کی۔

آپ کی علمی استعداد صرف حفظِ عبارت تک محدود نہ تھی بلکہ درس کے دوران ہی مسائل کی تہہ تک پہنچنے، دلائل کا تقابلی مطالعہ کرنے، فقہی جزئیات کو سمجھنے، احادیث کے معانی پر غور کرنے اور علمی تحقیق کی عادت آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ فراغت کے بعد جہاں بھی آپ نے تدریس یا افتا کی ذمہ داری سنبھالی، وہاں آپ کی علمی گہرائی کو ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

آپ کے تعلیمی سفر میں صبر، استقامت، توکل، قناعت اور مسلسل محنت کی ایسی روشن مثالیں ملتی ہیں جو آج کے طلبۂ علومِ دینیہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود بلند حوصلہ، مضبوط ارادہ اور اخلاصِ نیت نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا جہاں آپ خود آنے والی نسلوں کے استاد اور رہنما بن گئے۔
---

اساتذۂ کرام
اسلامی علمی روایت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ علم ہمیشہ استاد سے شاگرد تک منتقل ہوتا آیا ہے۔ ایک قابل شاگرد کی علمی عظمت میں اس کے اساتذۂ کرام کی تربیت، توجہ، دعائیں اور فیضانِ علم بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ کو بھی اپنے عہد کے ایسے جلیل القدر اساتذہ کی شاگردی نصیب ہوئی جن کے نام علمی دنیا میں ہمیشہ عزت و احترام سے لیے جاتے رہیں گے۔

جلالۃ العلم حافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبد العزیز شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارک پور، جامع معقول و منقول حضرت علامہ حافظ عبدالرؤف بلیاوی، نائب شیخ الحدیث دار العلوم اہل سنت اشرفیہ مبارک پور، شیخ الادب حضرت علامہ محمد شفیع عظمی، بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی، شیخ التجوید حضرت علامہ قاری محمد یحییٰ مبارک پوری، اشرف العلماء حضرت علامہ سید حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی۔

یہ وہ درخشاں علمی کہکشاں تھی جس کی ہر شخصیت اپنے فن میں ایک مستقل ادارے کی حیثیت رکھتی تھی۔ حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ نے ان اکابر کی خدمت میں رہ کر صرف کتابوں کا علم ہی حاصل نہیں کیا بلکہ اخلاص، علمی دیانت، تحقیق کا ذوق، تدریس کا اسلوب، افتا کی احتیاط، اخلاق کی پاکیزگی اور خدمتِ دین کا جذبہ بھی انہی بزرگوں سے سیکھا۔

آپ ہمیشہ اپنے اساتذۂ کرام کا نہایت ادب و احترام فرماتے تھے اور ان کے علمی فیضان کو اپنی سب سے بڑی دولت قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب آپ خود منصبِ تدریس پر فائز ہوئے تو اپنے اساتذہ کی علمی روایت، اندازِ تدریس اور تحقیقی مزاج کو پوری امانت داری کے ساتھ آگے منتقل کیا۔

یوں حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ کی علمی شخصیت درحقیقت اپنے اساتذۂ کرام کی محنت، توجہ، دعاؤں اور علمی فیضان کا حسین امتزاج تھی، جس کا فیض بعد میں ہزاروں طلبہ تک پہنچا اور آج بھی ان کے علمی آثار کی صورت میں جاری ہے۔

تدریسی خدمات
علمِ دین کی اشاعت، افکارِ اسلامیہ کی حفاظت اور نسلِ نو کی علمی و عملی تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ درس و تدریس ہے۔ یہی وہ مقدس فریضہ ہے جسے انبیائے کرام علیہم السلام کی نیابت اور علماءِ حق کی سب سے نمایاں ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن علماء نے اپنی زندگیاں تدریس کے لیے وقف کر دیں، وہ اپنی ظاہری زندگی کے بعد بھی اپنے شاگردوں، علمی نقوش اور دینی خدمات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے۔ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ بھی انہی باعمل اور مخلص علماء میں سے تھے جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ علومِ نبوت کی خدمت، درس و تدریس، افتا اور تربیتِ طلبہ میں گزارا۔

آپ کے نزدیک تدریس صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہ تھا، بلکہ ایک طالبِ علم کے کردار، فکر، اخلاق، دینی مزاج اور علمی بصیرت کی تعمیر بھی اسی مقدس فریضے کا حصہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے درس میں صرف عبارت کی تشریح نہیں ہوتی تھی بلکہ دلائل کی تحقیق، فقہی جزئیات کی وضاحت، ائمۂ مجتہدین کے اقوال کا تقابلی جائزہ، اسلاف کے منہج کی تشریح اور مسائلِ حاضرہ پر علمی گفتگو بھی ہوتی تھی۔ آپ طلبہ کو غور و فکر، تحقیق اور مطالعے کی عادت ڈالتے تھے اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ عالم کی اصل زینت وسعتِ مطالعہ، تحقیق اور تقویٰ ہے۔

آپ کی تدریس میں سادگی، روانی، استدلال اور حسنِ تفہیم کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ مشکل سے مشکل علمی بحث بھی طلبہ کے لیے آسان ہو جاتی تھی۔ آپ عبارت کے ظاہری مفہوم پر اکتفا نہ کرتے بلکہ اس کے پس منظر، فقہی تطبیقات، اصولی مباحث اور عملی نتائج کو بھی واضح فرماتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے تلامذہ صرف کتابوں کے حافظ نہیں بلکہ صاحبِ فہم، صاحبِ ذوق اور تحقیق پسند علماء بن کر نکلے۔

آپ اپنے شاگردوں سے بے حد شفقت فرماتے تھے۔ ان کی تعلیمی ضروریات، اخلاقی اصلاح اور دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے۔ اگر کسی طالبِ علم سے لغزش ہوتی تو سختی کے بجائے حکمت، محبت اور خیر خواہی سے اس کی اصلاح فرماتے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے شاگرد نہ صرف آپ کے علم کے معترف تھے بلکہ آپ کے اخلاق، شفقت اور حسنِ سلوک کے بھی گرویدہ تھے۔

جن درس گاہوں کی مسندِ تدریس و افتا پر جلوہ افروز ہو کر آپ نے علم و حکمت کے گوہرِ آب دار لٹائے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

مدرسہ فیض العلوم، جمشید پور، جھارکھنڈ۔
یہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی ابتدائی تدریسی خدمات میں شامل اہم ادارہ تھا۔ یہاں آپ نے نہایت محنت، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ علومِ اسلامیہ کی تدریس انجام دی۔ آپ کی علمی قابلیت، سادہ اسلوبِ تدریس اور طلبہ کی تربیت کے منفرد انداز نے بہت جلد آپ کو اہلِ علم کے درمیان ممتاز کر دیا۔ اس ادارے میں آپ نے بے شمار طلبہ کے اندر علم سے محبت، مطالعے کا ذوق اور دینی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔

انجمن اسلامیہ، گورکھپور، اتر پردیش (بہ عہدہ صدر المدرسین)
آپ کی علمی صلاحیتوں اور تدریسی مہارت کے اعتراف میں آپ کو صدر المدرسین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ منصب محض ایک انتظامی عہدہ نہ تھا بلکہ علمی قیادت کی علامت بھی تھا۔ آپ نے اس منصب پر رہتے ہوئے نہ صرف تدریسی نظام کو مضبوط کیا بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان علمی ماحول پیدا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی نگرانی میں درسِ نظامی کی تعلیم مزید منظم، مؤثر اور معیاری ہوئی۔

دار العلوم اسحاقیہ، جودھ پور، راجستھان (بہ عہدہ نائب شیخ الحدیث و ناظمِ تعلیمات)
یہاں آپ کو بیک وقت دو نہایت اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں؛ نائب شیخ الحدیث اور ناظمِ تعلیمات۔ یہ دونوں عہدے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آپ اپنے زمانے کے قابلِ اعتماد، صاحبِ علم اور صاحبِ انتظام عالم تھے۔ حدیثِ نبوی کی تدریس میں آپ کا انداز نہایت مدلل، تحقیقی اور عام فہم تھا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات کی حیثیت سے آپ نے تعلیمی نظم و نسق کو بہتر بنانے، نصاب کی نگرانی، امتحانات کی ترتیب اور تدریسی معیار کو بلند کرنے میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

دار العلوم قادریہ انوار العلوم، سر بیلہ، ضلع سہرسا، بہار (خدمتِ تدریس و افتا)
یہ ادارہ آپ کی ابتدائی علمی تربیت سے بھی وابستہ تھا، اور بعد میں آپ نے اسی ادارے میں استاذ اور مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے کر اپنے اساتذہ کے فیضان کو آگے منتقل کیا۔ یہاں آپ کی تدریس اور افتا دونوں میدانوں میں خدمات نمایاں رہیں۔ مقامی علماء، ائمہ اور عوام الناس علمی مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے اور آپ نہایت احتیاط، تحقیق اور فقہی بصیرت کے ساتھ رہنمائی فرماتے۔

دار العلوم شیخ احمد کھٹو سرخیز، احمد آباد، گجرات (بہ عہدہ صدر المدرسین، شیخ الحدیث اور صدر شعبۂ افتا)
یہ حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا نہایت درخشاں باب ہے۔ اس ادارے میں آپ کو بیک وقت تین عظیم ذمہ داریاں عطا کی گئیں: صدر المدرسین، شیخ الحدیث اور صدر شعبۂ افتا۔ یہ اعزاز ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے غیر معمولی علمی قابلیت، فقہی مہارت، حدیث میں گہرا رسوخ اور انتظامی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

شیخ الحدیث کی حیثیت سے آپ نے صحیح بخاری، حدیث اور دیگر کتبِ حدیث کی تدریس نہایت تحقیقی انداز میں فرمائی۔ آپ حدیث کے متن کے ساتھ اس کی شرح، فقہی استنباط، ائمہ کے اقوال اور عملی تطبیقات بھی بیان فرماتے تھے، جس سے طلبہ کے اندر تحقیق کا ذوق پیدا ہوتا تھا۔

صدر شعبۂ افتا کی حیثیت سے آپ نے بے شمار شرعی مسائل کے جوابات تحریر فرمائے۔ آپ کا ہر فتویٰ قرآن، حدیث، فقہِ حنفی اور اکابر اہلِ سنت کی تحقیقات کی روشنی میں نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مرتب ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے فتاویٰ کو اہلِ علم میں اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

الجامعة الجلالیہ العلائیہ الاشرفیہ (مخدوم اشرف مشن)، پنڈوہ شریف، ضلع مالدہ، ویسٹ بنگال (بہ عہدہ شیخ الحدیث و صدر شعبۂ افتا)
اپنی علمی زندگی کے آخری دور میں بھی حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ پوری توانائی، اخلاص اور انہماک کے ساتھ تدریس و افتا میں مصروف رہے۔ جامعہ جلالیہ علائیہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث اور صدر شعبۂ افتا کی حیثیت سے آپ نے درسِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور افتا کے میدان میں ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جن سے اس ادارے کی علمی شناخت مزید مستحکم ہوئی۔

آپ کے درس میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ شریک ہوتے تھے۔ آپ نہایت تحمل، وقار اور تحقیق کے ساتھ سبق پڑھاتے، ہر سوال کا مدلل جواب دیتے اور طلبہ کی علمی تربیت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے۔ آپ کی خواہش تھی کہ ہر طالبِ علم صرف سند یافتہ نہ ہو بلکہ دین کا مخلص خادم، صاحبِ عمل عالم، بااخلاق داعی اور ذمہ دار مفتی بنے۔

الغرض حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ کی تدریسی زندگی صرف مختلف مدارس میں ملازمت کا نام نہیں تھی بلکہ یہ علمِ نبوی کی خدمت، کردار سازی، ذہن سازی، فقہی بصیرت کی آبیاری، حدیث کی اشاعت اور دینی قیادت کی تیاری کا ایک روشن باب تھی۔ آپ کے ہزاروں تلامذہ آج مختلف ریاستوں اور علاقوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور یہی آپ کے لیے صدقۂ جاریہ اور بہترین علمی ورثہ ہے۔

تصنیف و تالیف
علماءِ ربانیین کی زندگی کا ایک نہایت روشن، تابندہ اور دیرپا باب ان کی تصنیفی و تالیفی خدمات ہوتی ہیں۔ تدریس سے جہاں افراد تیار ہوتے ہیں، وہیں تصنیف کے ذریعے نسلیں مستفید ہوتی ہیں۔ ایک مدرس اپنے طلبہ تک محدود رہ سکتا ہے، مگر ایک صاحبِ قلم عالم اپنی تحریروں کے ذریعے زمانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں جن اکابر علماء نے قلم کو اپنا رفیق بنایا، ان کے علمی آثار آج بھی مدارس، جامعات، کتب خانوں اور اہلِ علم کی مجالس کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ بھی انہی جلیل القدر اہلِ قلم علماء میں سے تھے جنہوں نے درس و تدریس، افتا اور دعوتی مصروفیات کے باوجود قلم کی ذمہ داری کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ آپ کے نزدیک قلم محض تحریر کا ذریعہ نہیں بلکہ دینِ اسلام کی خدمت، حق کی ترجمانی، علمی امانت کی حفاظت اور آئندہ نسلوں تک صحیح دینی فکر پہنچانے کا ایک مقدس وسیلہ تھا۔

آپ کی تحریروں میں نہ غیر ضروری طوالت ہوتی تھی اور نہ اختصارِ مخل، بلکہ ہر سطر میں تحقیق، ہر جملے میں استدلال، ہر عبارت میں وقار اور ہر صفحے میں اخلاص کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ آپ ہمیشہ مدلل، متوازن اور علمی اسلوب اختیار فرماتے تھے، جس کی وجہ سے آپ کی تصانیف خواص و عوام دونوں کے لیے یکساں مفید ثابت ہوئیں۔

قرطاس و قلم کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے، حضرت مفتی صاحب تدریس و افتا کی گراں قدر مصروفیات کے ساتھ قرطاس و قلم کا بھی حق ادا کرتے رہے ہیں۔ علمی سطح پر آپ کی تحریریں، علمی و تحقیقی اور ایجاز و اختصار کا خوب صورت رنگ لیے رہتی ہیں۔ باتیں نپی تلی اور پر معنی جملوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کی متعدد تصنیفات مختلف عنوانات پر معرضِ وجود میں آئیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

رسالہ مصطلحات احادیث: اس کتاب میں حدیث ، اصول حدیث کی بعض اصطلاحات کی تعریف وتفہیم پیش کی گئی ہے جو دینی و عصری اداروں کے طلبہ واسکالرس کے لیے یکساں مفید ہے ۔ 

رسول اللہ صلی قرآن وحدیث میں: سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔ 

مجموع فتاوی: حضرت مفتی صاحب قبلہ ایک ماہر تجربہ کار ، کہنہ مشق فقیہ اور مفتی ہیں ۔ مدریسی و تبلیغی مصروفیات کے باوجود فقہ وافتا کا مقدس فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ آپ نے مختلف مدارس میں دوران ملازمت یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ۔ آپ کے تمام فتاوی کی نقول دست یاب نہیں ہیں ، تاہم تتبع و تلاش کے بعد تقریبا ٤٠٠ وقیع فتاوی کی نقل مل سکی ہے جو کہ فقہ وفتاوی کے باب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔ 

فروغ رضویات میں آپ کا کردار: مفتی صاحب قبلہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود ہر لمحہ و ترجمہ قرآن پاک تحقیق کے اجالے میں: اس کتاب میں اعلی حضرت امام اہل سنت محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے ترجمہ قرآن\" کنزالایان “ پر دیوبندی مکتب فکر کے مولوی اخلاق حسین قاسمی کے مہمل اور لایعنی اعتراضات کے مدلل و مفصل اور تحقیقی جوابات ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی وسعت مطالعہ ، قوت استدلال ، جودت بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ارباب فکر و نظر سے داد تحقیق وصول کر چکی ہے ۔ ہر لحظہ فروغ رضویات کے حوالے سے کوشاں و سر گرداں رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصنیف و تالیف بھی فروغ رضویات سے خالی نہیں ۔ آپ نے اس حوالے سے دو اہم کتابیں تصنیف فرمائیں جو کہ درج ذیل ہیں:
ترجمہ قرآن پاک تحقیق کے اجالے میں: اس کتاب میں اعلی حضرت امام اہل سنت محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے ترجمہ قرآن" کنزالایان “ پر دیوبندی مکتب فکر کے مولوی اخلاق حسین قاسمی کے مہمل اور لایعنی اعتراضات کے مدلل و مفصل اور تحقیقی جوابات ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی وسعت مطالعہ ، قوت استدلال ، جودت بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ارباب فکر و نظر سے داد تحقیق وصول کر چکی ہے ۔ 

ترجمہ صحیح البہاری جلد دوم، جز اول (کتاب الطهارة): شرح معانی الآثار معروف بہ طحاوی شریف کے بعد صحیح البھاری ایسی کتاب ہے جو ابواب فقہ کی ترتیب پر فقہ حنفی کی تائید میں پیش کی جانے والی احادیث کریمہ کاحسین گلستاں ہے ۔افادۂ عام کے پیش نظر کتاب کا سلیس عام فہم ترجمہ فرمایا ہے ۔ 
ترجمہ صحیح البہاری جلد دوم ، جز دوم ، کتاب الصلاۃ: صحیح البہاری جلد اول کے بعد آپ نے صحیح البہاری جلد دوم کا بھی عام فہم ترجمہ کیا اور علماے اہل سنت وامت مسلمہ کے لیے استفادہ وافادہ کی راہ کو آسان کیا۔ 

تصانیف کے علاوہ تقاریر و دیگر ذرائع سے فروغ رضویات کا کام انجام دیا۔

---
وصال
ہر ذی روح کو ایک دن اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ اہلِ علم بھی اس اٹل حقیقت سے مستثنیٰ نہیں، البتہ ان کے وصال سے صرف ایک فرد دنیا سے رخصت نہیں ہوتا بلکہ علم و فضل کا ایک روشن چراغ، تدریس و افتا کا ایک معتبر مرکز اور اخلاص و دیانت کا ایک باوقار نمونہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ نے عمر بھر علمِ دین کی خدمت، تدریس، افتا، تحقیق، تصنیف اور اصلاحِ امت میں اپنی توانائیاں صرف کیں۔ بالآخر 25 July 2026 (Saturday) کو یہ مردِ درویش، یہ باوقار شیخ الحدیث، یہ صاحبِ تدریس و افتا، یہ مخلص خادمِ دین اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملا۔
آپ کے وصال کی خبر نے اہلِ علم، تلامذہ، متعلقین، عقیدت مندوں اور دینی حلقوں کو رنج و ملال میں مبتلا کر دیا۔ ایک ایسی علمی شخصیت، جس نے نصف صدی سے زائد عرصہ علومِ نبوت کی خدمت میں گزارا، جب دنیا سے رخصت ہوئی تو یقیناً ایک علمی خلا پیدا ہوا، جسے مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔
اگرچہ آج حضرت مفتی عبد القدوس اشرفی رحمہ اللہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے پڑھائے ہوئے ہزاروں شاگرد، ان کے تحریر کردہ فتاویٰ، ان کی علمی تصنیفات، ان کے تراجم، ان کے دروس اور ان کی دینی خدمات ہمیشہ ان کی یاد تازہ کرتے رہیں گے۔ یہی وہ صدقۂ جاریہ ہے جو ایک عالمِ دین کے لیے دنیا و آخرت کی سب سے قیمتی متاع ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت علامہ مفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو انوارِ رحمت سے بھر دے، درجات کو بلند فرمائے، ان کی علمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ہمیں بھی انہی کے اخلاص، علم، تقویٰ اور خدمتِ دین کے جذبے سے بہرہ مند فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔


❁ تعزیتی کلام ❁
حضرت علامہ مفتی عبدالقدوس مصباحی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت
✒️ از قلم:
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

❁ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ❁
مینارِ علم، فخرِ سہرسہ نہیں رہے
شیخُ الحدیث، شہرِ نگینہ نہیں رہے
امت کے واسطے ہے خسارہ وصال یہ
دریائے علم کے یہ سفینہ نہیں رہے
خالی ہیں آج درس گہِ علم کی صفیں
وہ رونقِ بساطِ قرینہ نہیں رہے
فتویٰ میں احتیاط تھی، گفتار میں اثر
حق گوئیوں کے ایسے خزینہ نہیں رہے
ہر سمت چھا گئی ہے اداسی کی اک فضا
محفل کے وہ چراغِ امینہ نہیں رہے
اللہ نے بلایا جو اپنے جوار میں
دنیا میں اب وہ نور کا سینہ نہیں رہے
قدوس اشرفیؔ کا یہ فیضان تھا عجب
علم و عمل کے ایسے دفینہ نہیں رہے
منبر اداس، درس گہِ علم نوحہ خواں
محفل کے آج شمع و سفینہ نہیں رہے
تفسیر، فقہ، علمِ حدیث اور افتا میں
ایسے بلند پایہ خزینہ نہیں رہے
افلاک اشکبار، زمیں سوگوار ہے
وہ سایۂ کرم، وہ یگانہ نہیں رہے
اشرف کے آستاں سے وفا عمر بھر رہی
اب درمیاں ہمارے وہ شیدا نہیں رہے
ہیں قادری میاں بھی کیے آنکھ اپنے نام
والد کا ایک مخلص و شیدا نہیں رہے
فردوس ہو مقام ، عطاؔ کی دعا ہے یہ
دنیا کے اب وہ زینتِ سینہ نہیں رہے
❁ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ❁

اللّٰہ تعالیٰ حضرت علامہ مفتی عبدالقدوس مصباحی علیہ الرحمہ کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام 
عطا فرمائے، اور پسماندگان، متعلقین، تلامذہ و محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
✍️ غلام مزمل عطاؔ اشرفی

سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post