اسلام امن و محبت کا مذہب ہے، دہشت گردی کا نہیں | قرآن و سنت کی روشنی میں

اسلامی فکر و تعلیمات

اسلام امن و محبت کا مذہب ہے، دہشت گردی کا نہیں

قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے پیغامِ امن، رحمت، عدل اور انسانیت کا مطالعہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلام امن، سلامتی، رحمت، عدل، احسان اور انسانیت کا دین ہے۔

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، سیدنا ومولانا محمد ﷺ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾

بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔

آل عمران: 19

آج کا انسان بظاہر ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، مگر اس کے باوجود دنیا امن کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کہیں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے، کہیں نفرت کے شعلے بلند ہیں، کہیں انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے، کہیں بستیاں اجڑ رہی ہیں، کہیں ماؤں کی گودیں خالی ہورہی ہیں اور کہیں معصوم بچے خوف و بے یقینی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ایسے پُرآشوب ماحول میں ایک سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے:

کیا اسلام تشدد اور دہشت گردی کا مذہب ہے؟

کیا اسلام خونریزی اور خوف پھیلانے کی تعلیم دیتا ہے؟

اس سوال کا جواب اسلام کی اصل تعلیمات، قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ میں تلاش کیا جائے تو جواب نہایت واضح ہے:

نہیں! اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں؛ اسلام امن، سلامتی، رحمت، عدل، احسان اور انسانیت کا دین ہے۔

اسلام: سلامتی اور امن کا پیغام

لفظ اسلام ہی سلامتی اور تسلیم و اطاعت کے مفہوم سے جڑا ہوا ہے۔ مسلمان جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ان کے درمیان پہلا تحفہ کیا ہوتا ہے؟

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!

تم پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔

یہ محض ایک رسمی جملہ نہیں بلکہ اسلامی معاشرت کا بنیادی مزاج ہے۔ مسلمان کی زبان سے نکلنے والا پہلا کلمہ ہی دوسرے انسان کے لیے سلامتی کی دعا ہے۔

﴿وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ﴾

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔

یونس: 25

اسلام انسان کو فساد، ظلم اور نفرت کی طرف نہیں بلکہ دارالسلام کی طرف بلاتا ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً﴾

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔

البقرۃ: 208

اسلام کا مطلوب امن صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں۔ اسلام گھر کے اندر امن چاہتا ہے، خاندان میں امن چاہتا ہے، بازار میں امن چاہتا ہے، پڑوسیوں کے درمیان امن چاہتا ہے اور پورے معاشرے میں عدل و سلامتی کا ماحول چاہتا ہے۔

انسانی جان کی حرمت: قرآن کا عظیم اصول

اسلام کی نگاہ میں انسانی جان انتہائی محترم ہے۔ قرآنِ کریم نے ناحق قتل کو اس قدر سنگین جرم قرار دیا کہ ایک جان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا۔

﴿مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ۖ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾

جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی عطا کی۔

المائدۃ: 32

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیت کا سیاق بنی اسرائیل کے لیے مقرر کیے گئے اس اصول کا ذکر کرتا ہے، لیکن قرآن اسے انسان کی جان کی حرمت کے عظیم اخلاقی اصول کے طور پر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔

﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾

اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔

الإسراء: 33

لہٰذا بے گناہوں کو نشانہ بنانا، خوف پھیلانا، انسانی جانوں کو بلاجواز نقصان پہنچانا اور فساد برپا کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

رحمتِ عالم ﷺ: اسلام کا عملی نمونہ

اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے روشن مثال رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾

اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

الانبیاء: 107

غور کیجیے: رحمة للعالمین!

آپ ﷺ کی رحمت کسی ایک قوم، قبیلے یا خطے تک محدود نہیں تھی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے انسان کو انسان کی حیثیت سے عزت دی اور معاشرے کے کمزور طبقات، یتیموں، مسکینوں، عورتوں، غلاموں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کے حقوق پر زور دیا۔

«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ»

رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے؛ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔

طائف: ظلم کے مقابل رحمت کی تصویر

سیرتِ طیبہ کا واقعۂ طائف اسلام کے اخلاقی مزاج کو سمجھنے کے لیے ایک غیر معمولی مثال ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو طائف میں اذیت دی گئی، پتھر مارے گئے اور آپ ﷺ کے جسمِ اطہر کو زخمی کیا گیا۔ بظاہر یہ ایسا موقع تھا جہاں انتقام کی خواہش انسانی طبیعت پر غالب آسکتی تھی، مگر رحمتِ عالم ﷺ کی فکر انتقام سے زیادہ ہدایت اور خیر خواہی کی تھی۔

ظلم کا شکار ہونا انسان کو خود ظالم بننے کی اجازت نہیں دیتا۔

فتحِ مکہ: طاقت کے باوجود معافی

فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس میں اقتدار اور اخلاق ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

وہی مکہ جس کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیتیں دیں، مسلمانوں کو ستایا اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا، ایک دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے مغلوب حالت میں تھا۔

اب اختیار مسلمانوں کے پاس تھا، مگر اس موقع پر اسلامی اخلاق کا ایک عظیم پہلو سامنے آیا: طاقت کا استعمال انتقام کے لیے نہیں، اصلاح اور امن کے لیے کیا گیا۔

مسلمان کی پہچان: لوگوں کا محفوظ ہونا

«المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده»

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

اس مختصر مگر جامع ارشاد میں اسلامی معاشرت کا پورا اخلاقی فلسفہ سمٹ آتا ہے۔

زبان سے گالی نہ دی جائے۔ بہتان نہ لگایا جائے۔ کسی کی عزت پامال نہ کی جائے۔ نفرت نہ پھیلائی جائے۔ اور ہاتھ سے ظلم نہ کیا جائے۔

«المؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم»

مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں امن محسوس کریں۔

اسلام جنگ کا نہیں، عدل کا دین ہے

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلام نے جنگ کے وجود کو تسلیم کیا ہے، لیکن جنگ کو مقصدِ حیات نہیں بنایا۔ اسلام نے جنگ کے لیے بھی اخلاقی حدود مقرر کیں اور صلح کے دروازے کو بند نہیں کیا۔

﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔

الأنفال: 61

اسلام میں عدل: دشمن کے ساتھ بھی

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾

بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔

النحل: 90
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾

کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

المائدۃ: 8

برائی کا جواب بہترین طریقے سے

﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتیں۔ برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو۔

﴿فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾

تو اچانک وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہوجائے گا گویا وہ گہرا دوست ہے۔

فصلت: 34

یہ قرآن کا نسخۂ محبت ہے۔ نفرت کا جواب ہر بار نفرت نہیں۔ دشمنی کا جواب ہر حال میں دشمنی نہیں۔ کبھی ایک نرم لفظ برسوں کی دوری ختم کردیتا ہے، کبھی ایک معافی دل کا بوجھ اتار دیتی ہے اور کبھی اچھا کردار ایسی دعوت بن جاتا ہے جس کے سامنے لمبی تقریریں بھی بے اثر ہوجاتی ہیں۔

حقیقی طاقت غصے پر قابو پانا ہے

«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ»

طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔

﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ﴾

وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔

آل عمران: 134

محبت: ایمان کا حصہ

«لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه»

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہ اصول ہمیں خود غرضی سے نکال کر خیر خواہی کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ میں اپنے لیے عزت چاہتا ہوں تو دوسروں کی عزت بھی کروں۔ میں اپنے لیے امن چاہتا ہوں تو دوسروں کا امن بھی محفوظ رکھوں۔ میں اپنے لیے آسانی چاہتا ہوں تو دوسروں کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا نہ کروں۔

اسلام کا امن گھر سے شروع ہوتا ہے

اسلام کے امن و محبت کے پیغام کو صرف بڑے عالمی مسائل تک محدود کرنا درست نہیں۔ اسلام کا امن ہمارے گھروں سے شروع ہوتا ہے۔

میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ والدین اولاد کے ساتھ شفقت کریں۔ اولاد والدین کا احترام کرے۔ بھائی بھائی کے حقوق ادا کریں۔ پڑوسی ایک دوسرے کے لیے باعثِ اطمینان بنیں۔ زبانیں دوسروں کی عزت کی محافظ بنیں۔

محبت صرف تقریر کا موضوع نہیں؛ محبت ایک طرزِ زندگی ہے۔

اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کا جواب کیسے دیا جائے؟

آج اسلام کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان کا جواب جذباتی نعروں سے زیادہ مؤثر طریقے سے علم، کردار اور اخلاق کے ذریعے دیا جاسکتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کو امن کا مذہب سمجھے تو ہمارے کردار میں امن ہونا چاہیے۔

اگر چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کو محبت کا مذہب سمجھے تو ہمارے دلوں میں محبت ہونی چاہیے۔

اگر چاہتے ہیں کہ اسلام کو عدل کا مذہب سمجھا جائے تو ہمارے معاملات میں انصاف نظر آنا چاہیے۔

اگر چاہتے ہیں کہ اسلام کو رحمت کا مذہب سمجھا جائے تو ہماری گفتگو اور رویوں میں رحمت دکھائی دینی چاہیے۔

دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا درست نہیں

دہشت گردی، بے گناہوں کو نشانہ بنانا، خوف پھیلانا، ظلم کرنا اور فساد برپا کرنا کسی بھی مذہب کے حقیقی اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔

کسی فرد یا گروہ کے مسلمان نام رکھنے سے اس کا ہر عمل اسلامی نہیں ہوجاتا۔

اسلام کا معیار قرآن و سنت ہیں۔

قرآن کیا کہتا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے کیا تعلیم دی؟

سیرتِ طیبہ کیا دکھاتی ہے؟

آج ہمیں کس اسلام کی ضرورت ہے؟

آج دنیا کو ایسے مسلمان کی ضرورت ہے جس کی زبان سے سلام نکلے، ہاتھ سے امن ملے، دل سے خیر خواہی پھوٹے، کردار سے رحمت ظاہر ہو اور معاملات سے انصاف جھلکے۔

دنیا کو ایسے مسلمان کی ضرورت ہے جو اختلاف کے باوجود اخلاق نہ چھوڑے، طاقت کے باوجود ظلم نہ کرے، غصے کے باوجود زبان کو قابو میں رکھے اور دشمنی کے باوجود عدل کا دامن نہ چھوڑے۔

اسلام امن ہے۔

اسلام محبت ہے۔

اسلام رحمت ہے۔

اسلام عدل ہے۔

اسلام انسانیت کی حفاظت کا نام ہے۔

اختتامیہ

اسلام انسان کو نفرت سے محبت کی طرف، ظلم سے عدل کی طرف، فساد سے اصلاح کی طرف اور خوف سے امن کی طرف لے جانے والا دین ہے۔

اس کا پیغام صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں؛ یہ گھر سے معاشرے تک، فرد سے قوم تک اور قوم سے پوری انسانیت تک پھیلتا ہے۔

لہٰذا اگر ہم واقعی دنیا کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں کو اس دین کے اخلاق سے مزین کرنا ہوگا۔

ہمارا عہد

ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے، محبت بانٹیں گے۔

ہم فساد نہیں کریں گے، اصلاح کی کوشش کریں گے۔

ہم ظلم نہیں کریں گے، عدل کا ساتھ دیں گے۔

ہم دل نہیں توڑیں گے، دل جوڑنے کی کوشش کریں گے۔

ہم غصے کو اپنی طاقت نہیں سمجھیں گے بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے کو قوت سمجھیں گے۔

ہم رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں؛ اس لیے اپنی زندگی میں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو پیدا کریں گے۔

اسلام امن کا مذہب ہے۔

اسلام محبت کا مذہب ہے۔

اسلام رحمت کا مذہب ہے۔

اسلام عدل و احسان کا مذہب ہے۔

اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔

اور بلاشبہ:

اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کے پیغامِ امن و محبت کو صحیح طور پر سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے اور اپنے کردار کے ذریعے اسلام کی حقیقی خوب صورتی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post