حجاب کے لیے احتجاج سے آگے:
کیا اب اپنی بیٹیوں کے لیے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا وقت نہیں آگیا؟
ہندوستان میں حجاب کے مسئلے نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جس شدت کے ساتھ قومی سطح پر بحث، اختلاف، احتجاج اور قانونی کشمکش کو جنم دیا ہے، اس نے مسلم معاشرے کے سامنے صرف مذہبی آزادی کا سوال نہیں رکھا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور بنیادی سوال پیدا کردیا ہے۔ کبھی کسی اسکول کے دروازے پر کسی طالبہ کو اس کے لباس کی وجہ سے روکے جانے کی خبر سامنے آتی ہے، کبھی کسی کالج کے ضابطۂ لباس کو لے کر تنازع کھڑا ہوجاتا ہے، کبھی طالبات احتجاج کرتی ہیں، کبھی سماجی تنظیمیں میدان میں آتی ہیں اور کبھی معاملہ عدالتوں تک پہنچ جاتا ہے۔
ان تمام واقعات کے درمیان ایک ایسا سوال ہے جس پر شاید ہماری اجتماعی گفتگو نسبتاً کم ہوئی ہے، اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ دوسروں کے تعلیمی اداروں کے دروازوں پر اپنی مذہبی شناخت کے احترام کی درخواست کرتے رہیں گے، یا کبھی اس سنجیدگی سے بھی غور کریں گے کہ ہم اپنی مسلم بچیوں کے لیے خود ایسے معیاری اسکول، کالج اور اعلیٰ تعلیمی مراکز کیوں نہ قائم کریں جہاں ان کی دینی شناخت، ان کی عزت، ان کی تعلیمی آزادی اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں؟
احتجاج ایک آواز ہے، ادارہ ایک نظام ہے۔
تقریر ایک لمحے کا اثر پیدا کرتی ہے، ادارہ نسلوں کی تربیت کرتا ہے۔
حقوق کی جدوجہد ضروری، مگر تعمیر بھی ضروری
یہ سوال ہرگز اس معنی میں نہیں کہ جہاں کسی شہری یا طالبہ کے ساتھ ناانصافی ہو وہاں وہ خاموش رہے، یا قانونی راستہ اختیار نہ کرے۔ ایک جمہوری ملک میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا، پرامن احتجاج کرنا اور قانون کے دائرے میں عدالت سے رجوع کرنا شہری حق ہے۔
اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے یا اس کی مذہبی آزادی اور تعلیمی حق کے درمیان غیر ضروری کشمکش پیدا کردی گئی ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن ایک سنجیدہ قوم صرف وقتی مسائل کا حل نہیں سوچتی؛ وہ آنے والی نسلوں کے لیے مستقل راستے بھی بناتی ہے۔
عدالت کسی تنازع کا فیصلہ کرسکتی ہے، مگر عدالت قوم کے لیے اسکول تعمیر نہیں کرتی۔ احتجاج کسی مسئلے کی طرف حکومت اور معاشرے کی توجہ مبذول کرسکتا ہے، مگر احتجاج کسی طالبہ کے لیے سائنس لیبارٹری، لائبریری، ہاسٹل اور اعلیٰ معیار کے اساتذہ فراہم نہیں کرتا۔
ردعمل سے آگے بڑھ کر تعمیر کی طرف
یہاں ہمیں اپنے اجتماعی مزاج کا بے لاگ محاسبہ کرنا ہوگا۔ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ہماری اجتماعی توانائی ردعمل میں زیادہ اور تعمیر میں کم صرف ہوتی ہے۔
کوئی تنازع پیدا ہوا تو جلسہ، کوئی پابندی سامنے آئی تو احتجاج، کوئی فیصلہ آیا تو بحث و مباحثہ، کوئی واقعہ پیش آیا تو سوشل میڈیا پر طوفان، مگر جب چند دن گزر جاتے ہیں تو ہم ایک بنیادی سوال کو بھول جاتے ہیں کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہے؟
کیا ہر آنے والی نسل کو انہی مسائل کے لیے دوبارہ سڑکوں پر آنا ہوگا؟ کیا ہر چند برس بعد ہماری بچیوں کو اپنی تعلیم اور اپنی مذہبی شناخت کے درمیان کسی نئی کشمکش کا سامنا کرنا پڑے گا؟
نعرہ جذبات کو بیدار کرتا ہے، مگر اسکول ذہنوں کو بیدار کرتا ہے۔ جلسہ چند گھنٹوں میں ختم ہوجاتا ہے، لیکن ایک معیاری کالج کئی دہائیوں تک ہزاروں خاندانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
کیسے ہوں ہماری بیٹیوں کے تعلیمی ادارے؟
اگر آج کسی مسلمان طالبہ کو اپنے حجاب کے ساتھ کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسلسل کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کا ایک فوری حل قانونی اور سماجی جدوجہد ہوسکتا ہے، لیکن اس مسئلے کا ایک طویل المدت حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ اپنی بچیوں کے لیے ایسے معیاری ادارے قائم کرے جہاں تعلیم اور دینی شناخت کو ایک دوسرے کا مخالف نہ سمجھا جائے۔
لیکن اپنے ادارے قائم کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم کم معیار کے، محدود سوچ کے یا صرف نام کے تعلیمی ادارے کھڑے کردیں۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت نہیں جو صرف مذہبی شناخت کی علامت ہوں مگر علمی اعتبار سے کمزور ہوں۔
ہمیں ایسے ادارے چاہییں جو علمی معیار میں ملک کے بہترین اداروں کے مقابلے میں کھڑے ہوسکیں۔
ہمیں ایسے اسکول چاہییں جہاں قرآن و اخلاق کی تعلیم بھی ہو اور جدید سائنس کی تعلیم بھی۔ جہاں حجاب کا احترام بھی ہو اور شخصیت کی تعمیر بھی۔ جہاں اردو اور عربی سے تعلق بھی قائم رہے اور انگریزی، کمپیوٹر، سائنس اور نئی ٹیکنالوجی میں بھی طالبات پیچھے نہ ہوں۔
جہاں ایک لڑکی ڈاکٹر بننے کا خواب بھی دیکھ سکے، انجینئر بھی بن سکے، وکیل بھی، پروفیسر بھی، سائنس داں بھی، محقق بھی، صحافی بھی، منتظم بھی اور سول سروس میں جانے کی صلاحیت بھی حاصل کرسکے۔
وسائل موجود ہیں، ضرورت تنظیم کی ہے
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم معاشرہ اس عظیم کام کے لیے اپنے وسائل کو منظم کرنے کے لیے تیار ہے؟ ہمارے پاس اہلِ خیر موجود ہیں، تاجر موجود ہیں، سماجی تنظیمیں موجود ہیں، دینی ادارے موجود ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں، وکلاء اور اساتذہ موجود ہیں اور مختلف شہروں میں بااثر شخصیات بھی موجود ہیں۔
لیکن کیا یہ تمام قوتیں کسی ایک بڑے تعلیمی منصوبے کے لیے ایک میز پر جمع ہوتی ہیں؟
ہم نے کتنے اضلاع میں معیاری گرلز کالج قائم کیے؟ کتنے شہروں میں مسلم طالبات کے لیے محفوظ اور جدید ہاسٹل بنائے؟ کتنی بچیوں کے لیے مستقل اسکالرشپ فنڈ قائم کیے؟ کتنے اداروں میں میڈیکل، انجینئرنگ، سول سروس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی منظم تیاری کا انتظام کیا؟
تعلیمی ٹرسٹ اور مستقل اینڈومنٹ فنڈ کی ضرورت
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑے مسلم علاقے میں ایک تعلیمی ٹرسٹ یا اینڈومنٹ فنڈ قائم ہو، جس کا مقصد محض چندہ جمع کرنا نہ ہو بلکہ واضح اور قابلِ پیمائش تعلیمی منصوبہ بندی ہو۔
ایک ضلع میں زمین خریدی جائے، دوسرے مرحلے میں اسکول قائم ہو، پھر کالج، پھر ہاسٹل، پھر پروفیشنل کورسز اور پھر مسابقتی امتحانات کی اکیڈمی۔
یہ کام ایک دن میں نہیں ہوگا، مگر کوئی بھی عظیم ادارہ ایک دن میں وجود میں نہیں آیا۔ اگر ہمارے بزرگوں نے مدارس، مکاتب، مساجد اور فلاحی ادارے قائم کرنے کے لیے صبر اور قربانی سے کام لیا تو ہم اپنی بیٹیوں کے جدید تعلیمی مستقبل کے لیے اسی جذبے کے ساتھ منصوبہ بندی کیوں نہیں کرسکتے؟
مسلم لڑکیوں کی تعلیم، پوری قوم کا مستقبل
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مسلم لڑکیوں کی تعلیم صرف مسلم خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ ایک پورے خاندان کے علمی ماحول کو تبدیل کرتی ہے۔
وہ ڈاکٹر بن کر ہزاروں خواتین کی خدمت کرسکتی ہے، استاد بن کر نئی نسل کو تعلیم دے سکتی ہے، وکیل بن کر قانونی میدان میں خدمات انجام دے سکتی ہے، سائنس داں بن کر تحقیق کرسکتی ہے، صحافی بن کر معاشرتی مسائل کو اجاگر کرسکتی ہے اور ایک کامیاب پیشہ ور بن کر معاشی طور پر خود مختار بھی ہوسکتی ہے۔
روایت اور جدیدیت کا متوازن امتزاج
ہمیں صرف لڑکیوں کے لیے الگ ادارے قائم کرنے کے نعرے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس معیار کا ادارہ چاہتے ہیں۔
اگر ادارے میں صرف مذہبی ماحول ہو لیکن سائنس کی لیبارٹری کمزور ہو، اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہوں، لائبریری نہ ہو، کیریئر گائیڈنس نہ ہو، جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم نہ ہو اور طالبات مسابقتی دنیا میں پیچھے رہ جائیں تو پھر ایسا ادارہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا۔
جہاں دین ہو مگر جمود نہ ہو،
اخلاق ہو مگر علمی وسعت بھی ہو،
حجاب ہو مگر اعتماد اور صلاحیت میں کمی نہ ہو۔
مستقبل کی دنیا کے لیے تیاری
آنے والا زمانہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور عالمی معیشت کا زمانہ ہے۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو صرف پرانے تعلیمی سانچوں میں محدود رکھیں گے تو ہم ان کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔
ہمیں ایسے ادارے قائم کرنے ہوں گے جہاں وہ اپنی اسلامی شناخت کے ساتھ مستقبل کی دنیا کے لیے بھی تیار ہوں۔ ایک مسلمان لڑکی صرف ایک مخصوص شعبے تک محدود نہ رہے بلکہ وہ ہر اس میدان میں آگے بڑھ سکے جہاں اس کی صلاحیت اور دلچسپی ہو۔
تنہائی نہیں، تعلیمی خود اعتمادی
اس بحث کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان عام اسکولوں اور کالجوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا معاشرے سے الگ تھلگ ہوجائیں۔ ہندوستان ایک متنوع ملک ہے اور مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کے لوگوں کے ساتھ رہنا ہماری اجتماعی حقیقت ہے۔
قانونی حقوق کے لیے جدوجہد اور معاشرے میں مثبت شرکت بھی ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر قوم کو اپنی تعلیمی بنیادیں بھی مضبوط کرنی ہوتی ہیں۔ اپنی شناخت کے ساتھ اعلیٰ معیار کے ادارے قائم کرنا تنہائی نہیں بلکہ خود اعتمادی ہے، بشرطیکہ ان اداروں کے دروازے علم، تحقیق، مکالمے اور جدید دنیا کے لیے کھلے ہوں۔
عملی منصوبہ بندی کی ضرورت
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دانش ور، علما، ماہرین تعلیم، صنعت کار، سماجی کارکن، نوجوان اور خواتین مل کر ایک وسیع تعلیمی منصوبہ تیار کریں۔
ہر علاقے میں سروے کیا جائے کہ کتنی مسلم لڑکیاں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں اور کیوں؟ کیا وجہ مالی مشکلات ہیں؟ کیا مسئلہ محفوظ سفر کا ہے؟ کیا مناسب کالج دور ہے؟ کیا ہاسٹل موجود نہیں؟ کیا والدین کی معاشی حالت کمزور ہے؟ کیا کیریئر رہنمائی کا فقدان ہے؟
جب تک مسئلے کی صحیح تشخیص نہیں ہوگی، اس کا صحیح علاج ممکن نہیں ہوگا۔
ہر علاقے کے لیے الگ تعلیمی حکمت عملی
ہر ضلع اور ہر بڑے شہر کے لیے ایک واضح منصوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ کہیں اسکالرشپ کی ضرورت ہوگی، کہیں ہاسٹل کی، کہیں ٹرانسپورٹ کی، کہیں جدید اسکول کی، کہیں کالج کی اور کہیں صرف ایک بہترین کوچنگ اور کیریئر گائیڈنس سینٹر کی۔
ضروری نہیں کہ ہر جگہ ایک ہی قسم کا منصوبہ نافذ کیا جائے؛ اصل ضرورت مقامی حالات کے مطابق منصوبہ بندی کی ہے۔
لیکن مجموعی سمت ایک ہونی چاہیے: مسلم بچیوں کو اعلیٰ، محفوظ، باوقار اور جدید تعلیم فراہم کرنا۔
حقوق بھی، ادارے بھی
حجاب کے مسئلے پر سب سے دانش مندانہ رویہ شاید یہی ہوسکتا ہے کہ ہم حقوق کی قانونی اور آئینی جدوجہد کو بھی جاری رکھیں، مگر اس کے ساتھ اپنی تعلیمی کمزوریوں کو بھی دور کریں۔
جہاں ناانصافی ہو وہاں آواز اٹھائی جائے، جہاں قانون کی مدد درکار ہو وہاں عدالت کا راستہ اختیار کیا جائے، لیکن قوم کی پوری توانائی صرف ردعمل میں خرچ نہ ہو۔ ہمیں اپنی تعمیر کی طاقت بھی پیدا کرنی ہوگی۔
ہمیں عدالتوں سے انصاف مانگنے کا حق ہے، مگر ہمیں اپنی نسلوں کے لیے علم کے قلعے بھی تعمیر کرنے ہیں۔
آج ضرورت صرف یہ پوچھنے کی نہیں کہ فلاں اسکول یا کالج میں حجاب کی اجازت کیوں نہیں ملی؛ اس سے بھی زیادہ ضروری سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کے لیے کتنے اعلیٰ معیار کے اسکول اور کالج قائم کیے ہیں؟
ہم نے ان کے لیے کتنے ہاسٹل بنائے ہیں؟ کتنی اسکالرشپ قائم کی ہیں؟ کتنی طالبات کو جدید علوم میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں؟ کتنی بچیوں کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پروفیسر اور سائنس داں بنانے کے لیے منظم منصوبے تیار کیے ہیں؟
یہ سوال شاید تلخ ہو، مگر قوموں کی اصلاح تلخ سوالوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔
ہمیں احتجاج کے حق سے دست بردار ہونے کی ضرورت نہیں، لیکن احتجاج کو اپنی واحد حکمت عملی سمجھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف مانگنے کا حق ہے، لیکن ہمیں اپنی نسلوں کے لیے علم کے قلعے بھی تعمیر کرنے ہیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم معاشرہ ردعمل کی سیاست سے آگے بڑھ کر تعمیر کی سیاست اختیار کرے۔ جذبات کے ساتھ حکمت کو، غیرت کے ساتھ منصوبہ بندی کو اور حقوق کے مطالبے کے ساتھ ذمہ داری کو بھی جوڑے۔
اگر آج ہم نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے سنجیدہ اور پائیدار ادارے قائم کیے تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں صرف احتجاج کرنے والوں کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل تعمیر کرنے والوں کے طور پر یاد رکھیں گی۔
کیونکہ احتجاج کسی مسئلے کی خبر دیتا ہے، مگر ادارہ اس مسئلے کے مستقل حل کی بنیاد رکھتا ہے۔
مقدمہ ایک معاملہ طے کرسکتا ہے، مگر تعلیم ایک پوری نسل کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
قوموں کی اصل طاقت صرف بلند نعروں میں نہیں ہوتی بلکہ مضبوط اداروں میں ہوتی ہے۔ ان کی حفاظت صرف قوانین سے نہیں بلکہ علم سے ہوتی ہے۔ اور کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی وہ نسل ہوتی ہے جو علم، کردار، اعتماد اور صلاحیت کے ساتھ زمانے کا مقابلہ کرسکے۔
اس لیے شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہر تنازع کے بعد صرف یہ نہ کہیں کہ ہمیں اپنے حقوق چاہیے، بلکہ یہ بھی کہیں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسے تعلیمی ادارے خود قائم کریں گے جہاں ہماری بیٹیاں اپنی شناخت کے ساتھ، اپنے حجاب کے ساتھ، اپنے وقار کے ساتھ اور اعلیٰ ترین علمی معیار کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم دوسروں کے دروازوں پر دستک دینے کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کے لیے علم، وقار اور ترقی کے نئے دروازے خود بھی تعمیر کریں۔

Post a Comment