محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا | قرآن و حدیث کی روشنی میں

محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا | از قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا

عشقِ مصطفیٰ ﷺ: دعوے سے اطاعت تک، عقیدت سے کردار تک
از قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، رحمۃً للعالمین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ أجمعین۔

دنیا میں محبت کے دعوے بہت ہیں، مگر سچی محبت کی پہچان ہمیشہ وفاداری، اطاعت اور اتباع سے ہوتی ہے۔ جس دل میں کسی کی حقیقی محبت اتر جاتی ہے، وہاں محبوب کی پسند اپنی پسند پر غالب آجاتی ہے، محبوب کا حکم خواہشِ نفس پر مقدم ہوجاتا ہے اور محبوب کا طریقہ زندگی کا دستور بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کو محض جذباتی وابستگی یا زبانی عقیدت قرار نہیں دیا، بلکہ اسے ایمان کی روح، اطاعت کی بنیاد اور نجات کا راستہ بنایا ہے۔ قرآنِ کریم نے محبتِ الٰہی کا معیار بھی اتباعِ رسول ﷺ کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اے محبوب! فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
سورۂ آلِ عمران: 31

غور کیجیے! بندہ اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، مگر قرآنِ کریم اس دعوے کی صداقت کے لیے اتباعِ مصطفیٰ ﷺ کو معیار بناتا ہے۔ گویا محبتِ رسول ﷺ وہ شاہراہ ہے جو بندے کو محبتِ الٰہی تک پہنچاتی ہے۔

لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے کتنی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کتنی بولتی ہے؟ ہماری زبان میں، ہمارے اخلاق میں، ہماری نماز میں، ہماری تجارت میں، ہماری معاشرت میں، ہماری ازدواجی زندگی میں، ہماری اولاد کی تربیت میں، ہمارے معاملات میں اور سب سے بڑھ کر ہماری خواہشات کے مقابلے میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی ترجیح میں؟

محبتِ رسول ﷺ ایمان کی جان ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 15

یہ حدیثِ پاک محبتِ رسول ﷺ کی عظمت کا ایسا اعلان ہے جس کے بعد کسی مسلمان کے لیے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو محض ایک جذباتی کیفیت سمجھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہاں محبت ایمان کے کمال سے وابستہ ہے، اور محبت کا حقیقی ثبوت اطاعت و اتباع ہے۔

ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ
تین خصلتیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پالیتا ہے: اللہ اور اس کے رسول اسے باقی سب سے زیادہ محبوب ہوں، کسی شخص سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے، اور کفر کی طرف لوٹنے کو ایسا ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 16؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان

محبتِ رسول ﷺ کا پہلا عملی تقاضا: اطاعت

اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول ﷺ کو اپنی اطاعت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَنْ تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو منہ پھیرے تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
سورۂ النساء: 80

رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ
جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
صحیح البخاری، کتاب الاحکام؛ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ

یہاں محبت کا راز کھل جاتا ہے: محبت کا دعویٰ زبان کرتی ہے، مگر اطاعت جسم و جان سے اس دعوے کی گواہی دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے حضور ﷺ سے بے پناہ محبت ہے، مگر نماز میں سستی کرے، حرام سے نہ بچے، جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، حقوق العباد پامال کرے اور سنتِ رسول ﷺ سے بے اعتنائی برتے تو اسے اپنے دعوائے محبت کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔

محبتِ رسول ﷺ کا دوسرا تقاضا: سنت کو زندگی کا دستور بنانا

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہو۔
سورۂ الأحزاب: 21

یہ آیت صرف سیرت پڑھنے کی دعوت نہیں، سیرت کو جینے کی دعوت ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہماری زندگی کے ہر شعبے کے لیے اسوہ ہیں: عبادت میں اسوہ، اخلاق میں اسوہ، معاشرت میں اسوہ، عدل میں اسوہ، رحمت میں اسوہ، صبر میں اسوہ، شجاعت میں اسوہ، عفو و درگزر میں اسوہ، تجارت میں اسوہ اور گھریلو زندگی میں اسوہ۔

اس لیے محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر موڑ پر یہ سوال کرے:

"اس موقع پر میرے آقا ﷺ کا طریقہ کیا تھا؟"

محبتِ رسول ﷺ کا تیسرا تقاضا: حکمِ رسول ﷺ کو ہر خواہش پر مقدم کرنا

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حَکَم نہ مانیں، پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح تسلیم نہ کرلیں۔
سورۂ النساء: 65

یہ آیت محبتِ رسول ﷺ کے باطن اور ظاہر دونوں کو واضح کرتی ہے: دل میں محبت، زبان پر تعظیم اور عمل میں تسلیم۔

محبتِ رسول ﷺ کا چوتھا تقاضا: تعظیم و توقیر

لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، رسول کی مدد کرو اور ان کی تعظیم و توقیر بجا لاؤ، اور اللہ کی صبح و شام پاکی بیان کرو۔
سورۂ الفتح: 9

اور بارگاہِ رسالت کے ادب کا یہ عالم ہے کہ قرآنِ کریم نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور ان کے ساتھ اس طرح بلند آواز سے بات نہ کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز میں بات کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
سورۂ الحجرات: 2

یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ادبِ رسالت کا دائمی منشور ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ مسلمان آپ ﷺ کا ذکر انتہائی ادب، محبت اور تعظیم سے کرے، آپ ﷺ کا نام آئے تو درود و سلام بھیجے، آپ ﷺ کی سنت کا ذکر ہو تو اسے معمولی نہ سمجھے اور آپ ﷺ کے ارشاد کے مقابلے میں اپنی رائے کو معیار نہ بنائے۔

درود و سلام: محبت کی زبان

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں؛ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔
سورۂ الأحزاب: 56
مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ

درود زبان کا وظیفہ ہے، جبکہ سنت زندگی کا وظیفہ ہے۔ زبان پر درود ہو اور ہاتھ سے ظلم، زبان پر نعت ہو اور معاملات میں خیانت، زبان پر عشق ہو اور دل میں کینہ؛ تو انسان کو اپنے باطن کا احتساب ضرور کرنا چاہیے۔

محبتِ رسول ﷺ کا پانچواں تقاضا: اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ اپنانا

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔
سورۂ القلم: 4
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے۔
مسند احمد، الموطأ للإمام مالک — معنی و روایت کے اعتبار سے مشہور حدیث

رسول اللہ ﷺ کی زندگی اخلاقِ حسنہ کا مکمل صحیفہ تھی۔ آپ ﷺ نے ظلم کے جواب میں عدل کیا، سختی کے مقابلے میں نرمی دکھائی، بدسلوکی کے جواب میں حسنِ سلوک فرمایا، غلاموں کے ساتھ شفقت کی، یتیموں کی خبرگیری فرمائی، مساکین کو قریب کیا، بچوں سے محبت فرمائی اور عورتوں کے حقوق کی تاکید فرمائی۔

اگر کوئی شخص محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت اس کا اخلاق ہے۔ وہ غصے میں کیسا ہے؟ اختلاف میں کیسا ہے؟ کمزور کے ساتھ کیسا ہے؟ اپنے ماتحت کے ساتھ کیسا ہے؟ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا ہے؟ جس سے اسے کوئی فائدہ نہیں مل سکتا، اس کے ساتھ کیسا ہے؟ یہی وہ مقامات ہیں جہاں عشقِ رسول ﷺ کے دعوے کی حقیقت سامنے آتی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا چھٹا تقاضا: رحم و شفقت

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
سورۂ الأنبیاء: 107
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
صحیح البخاری، کتاب الأدب؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل

جو شخص رحمت للعالمین ﷺ سے محبت کرتا ہے، اس کے دل میں مخلوقِ خدا کے لیے رحمت ہونی چاہیے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، پریشان حال کی مدد کرنا، مظلوم کا ساتھ دینا، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا، بوڑھوں کا احترام کرنا، بچوں سے محبت کرنا اور غریب کو حقیر نہ سمجھنا محبتِ رسول ﷺ کے عملی پھول ہیں۔

محبتِ رسول ﷺ کا ساتواں تقاضا: صدق و امانت

عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ
تم پر سچ لازم ہے، کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔
صحیح البخاری، کتاب الأدب؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب

جس دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہو، وہاں جھوٹ کیسے بسیرا کرسکتا ہے؟ جس زبان پر محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام ہو، وہ زبان کسی مسلمان کی عزت کیوں پامال کرے؟ جس ہاتھ میں سنت کا دعویٰ ہو، وہ ہاتھ کسی کا حق کیسے مارے؟ جس دل میں امینِ اعظم ﷺ کی محبت ہو، وہ امانت میں خیانت کیسے کرے؟

محبتِ رسول ﷺ کا آٹھواں تقاضا: والدین، اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کے حقوق

اسلام نے عبادت کو معاشرت سے جدا نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں والدین کے حقوق، صلۂ رحمی، حسنِ معاشرت، پڑوسیوں کے حقوق، یتیموں کی کفالت اور کمزوروں کی مدد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔
جامع الترمذی، کتاب المناقب
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔
صحیح البخاری، کتاب الأدب؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان

محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی مظہر یہ ہے کہ انسان اپنے گھر کو سنت کا گہوارہ بنائے۔ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک، اولاد کے ساتھ شفقت، والدین کے ساتھ ادب، رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرے۔

محبتِ رسول ﷺ کا نواں تقاضا: حلال و حرام کی پابندی

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اور رسول تمہیں جو عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
سورۂ الحشر: 7

محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان محبوب کی پسند اور ناپسند کو اہمیت دے۔ رسول اللہ ﷺ نے جس چیز سے روکا، اس سے رک جانا محبت ہے؛ جس چیز کا حکم دیا، اسے اختیار کرنا محبت ہے؛ جس چیز کو پسند فرمایا، اسے محبوب سمجھنا محبت ہے؛ اور جس چیز کو ناپسند فرمایا، اس سے بچنا محبت ہے۔

محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت

فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔
صحیح البخاری، کتاب النکاح؛ صحیح مسلم، کتاب النکاح

سنت صرف ظاہری حلیے کا نام نہیں؛ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی ظاہری سنتوں سے محبت بھی ایمان کی خوب صورتی ہے، مگر سنت کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ سنتِ مصطفیٰ ﷺ میں عبادات بھی ہیں اور معاملات بھی؛ ظاہری آداب بھی ہیں اور باطنی پاکیزگی بھی؛ لباس بھی ہے اور اخلاق بھی؛ مسجد بھی ہے اور بازار بھی؛ محراب بھی ہے اور معاشرہ بھی۔

سنت وہ آئینہ ہے جس میں مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا دسواں تقاضا: اختلاف میں ادب

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی، اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
سورۂ الأنفال: 46

آج امت کو محبتِ رسول ﷺ کے نام پر سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ ہم محبت کے نام پر دل توڑنے کے بجائے دل جوڑیں، اختلاف کے باوجود ادب باقی رکھیں، علم کے باوجود عاجزی اختیار کریں اور عشق کے نام پر ایسا طرزِ گفتگو نہ اپنائیں جو خود اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے خلاف ہو۔

محبتِ رسول ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں محبتِ رسول ﷺ کے عملی نمونے ہیں۔ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ صرف ایک محترم شخصیت نہیں تھے؛ آپ ﷺ ان کی زندگی کا مرکز تھے۔ وہ آپ ﷺ کے فرمان کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتے، آپ ﷺ کی سنت کو حرزِ جان بناتے، آپ ﷺ کے اشارے پر اپنی جان و مال قربان کرنے کو سعادت سمجھتے اور آپ ﷺ کی جدائی کو دنیا کی سب سے بڑی محرومی تصور کرتے تھے۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
صحیح البخاری، کتاب الایمان — حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے متعلق روایت

محبتِ رسول ﷺ اور جان و مال کی قربانی

قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
فرما دیجیے: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، وہ تجارت جس کے مندا پڑنے کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔
سورۂ التوبہ: 24

محبت کا ایک کڑا امتحان یہ ہے کہ جب دین اور دنیا آمنے سامنے آجائیں تو انسان کس کو ترجیح دیتا ہے؟ جب سنت اور خواہش میں انتخاب کرنا پڑے تو کیا چنتا ہے؟ جب حلال کم منافع دے اور حرام زیادہ فائدہ دے تو کیا کرتا ہے؟ جب حق بات کہنا نقصان کا باعث ہو تو کیا پھر بھی حق کہتا ہے؟ جب سنت پر چلنے میں نفس کو تکلیف ہو تو کیا نفس کو قربان کرتا ہے؟ یہیں محبت کی حقیقت سامنے آتی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ اور قرآنِ کریم

رسول اللہ ﷺ قرآنِ کریم کے سب سے کامل معلّم اور عملی ترجمان تھے۔ قرآن کتاب ہے اور سیرت اس کی عملی تفسیر۔ قرآن ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے، مصطفیٰ ﷺ عدل کرکے دکھاتے ہیں۔ قرآن رحمت کی تعلیم دیتا ہے، مصطفیٰ ﷺ رحمت بن کر دکھاتے ہیں۔ قرآن صبر سکھاتا ہے، مصطفیٰ ﷺ مصائب میں صبر کا پیکر بن کر دکھاتے ہیں۔ قرآن عفو کا درس دیتا ہے، مصطفیٰ ﷺ عفو و درگزر کے عظیم نمونے پیش فرماتے ہیں۔

كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔
صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین

اسی لیے محبتِ رسول ﷺ کا لازمی تقاضا قرآن سے محبت اور قرآن کے مطابق زندگی بھی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ اور نماز

رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو نماز کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ اسے اپنی زندگی میں قائم فرمایا۔ آپ ﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔

وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
سنن النسائی، کتاب عشرۃ النساء؛ مسند احمد

محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ اذان کی آواز سن کر دل مسجد کی طرف مائل ہو، نماز کو بوجھ نہیں بلکہ محبوب کی یاد کا ذریعہ سمجھا جائے اور عبادت کو زندگی کی ترجیح بنایا جائے۔ محبت اگر دل میں ہے تو سجدہ اس محبت کی زبان بننا چاہیے۔

محبتِ رسول ﷺ اور توبہ

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
فرما دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
سورۂ الزمر: 53

رسول اللہ ﷺ رحمت کے پیکر تھے۔ آپ ﷺ نے گناہ گاروں کو مایوسی نہیں سکھائی بلکہ اللہ کی طرف رجوع کا راستہ دکھایا۔ اس لیے محبتِ رسول ﷺ کا ایک عظیم تقاضا یہ بھی ہے کہ گناہ پر اصرار کے بجائے توبہ کی جائے۔ گناہ ہوجائے تو توبہ کریں، لغزش ہو تو پلٹیں، دل سخت ہوجائے تو درود و ذکر سے اسے زندہ کریں اور ہر روز اپنے کردار کو سنت کے آئینے میں دیکھیں۔

محبتِ رسول ﷺ اور امت کی خیرخواہی

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غم سے اپنی جان ہی گھلا ڈالیں۔
سورۂ الشعراء: 3

یہ نبوی شفقت تھی۔ آپ ﷺ لوگوں کی ہدایت کے لیے بے قرار رہتے تھے۔ لہٰذا عاشقِ رسول ﷺ وہ ہے جو لوگوں کی اصلاح چاہے، ان کے لیے خیر چاہے، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھائے، گناہ گار کو حقارت سے نہیں بلکہ خیرخواہی سے دیکھے اور معاشرے میں فساد کے بجائے اصلاح کا چراغ جلائے۔

محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا: زبان کی حفاظت

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔
صحیح البخاری، کتاب الأدب؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان

آج محبتِ رسول ﷺ کا ایک نہایت اہم عملی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی زبان کو غیبت، بہتان، بدکلامی، جھوٹ، طعن و تشنیع، تہمت اور دل آزاری سے محفوظ رکھے۔

جس نبی ﷺ نے ہمیں حسنِ اخلاق سکھایا، ہم ان کے نام پر بد اخلاق کیوں ہوجائیں؟

محبتِ رسول ﷺ اور جدید ذرائع ابلاغ

آج محبت کے اظہار کے ذرائع بدل گئے ہیں۔ ایک زمانے میں محبت کا اظہار خطوں، محفلوں اور اشعار سے ہوتا تھا؛ آج چند سیکنڈ میں ایک پیغام ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ دور محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا عظیم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔

اگر ہم نعت، سیرت، درود، اخلاق اور سنت کی تعلیم عام کریں تو یہ نعمت ہے؛ لیکن اگر اسی وسیلے سے جھوٹ، اشتعال، تحقیر، بدزبانی اور بے تحقیق باتیں پھیلائیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ محبتِ رسول ﷺ کا نام استعمال کرنا اور اخلاقِ رسول ﷺ اپنانا دو الگ چیزیں ہیں۔

محبتِ رسول ﷺ اور علمِ سیرت

جس سے محبت ہو، انسان اس کی زندگی جاننا چاہتا ہے۔ اس لیے محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ مسلمان سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرے۔

آپ ﷺ کیسے چلتے تھے؟ کیسے گفتگو فرماتے تھے؟ کیسے مسکراتے تھے؟ بچوں سے کیسے ملتے تھے؟ گھر والوں کے ساتھ کیسا برتاؤ فرماتے تھے؟ غریبوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتے تھے؟ دشمنوں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے؟ عبادت کیسے کرتے تھے؟ راتیں کیسے گزارتے تھے؟ مصیبت میں کیا کرتے تھے؟ فتح کے وقت کیا کرتے تھے؟

جب سیرت کا مطالعہ دل میں اترتا ہے تو محبت محض تصور نہیں رہتی؛ کردار کی تعمیر بن جاتی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا عملی آئینہ

  • آپ ﷺ پر کامل ایمان رکھا جائے۔
  • آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے۔
  • کثرت سے درود و سلام پڑھا جائے۔
  • آپ ﷺ کے فرامین کو سچا مانا جائے۔
  • آپ ﷺ کے احکام کی اطاعت کی جائے۔
  • آپ ﷺ کی سنت کو زندگی میں نافذ کیا جائے۔
  • آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنانے کی کوشش کی جائے۔
  • آپ ﷺ کی پسند کو اپنی خواہش پر ترجیح دی جائے۔
  • آپ ﷺ کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جائے۔
  • آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔
  • قرآنِ کریم کو سمجھ کر اس پر عمل کیا جائے۔
  • نماز اور دیگر فرائض کی پابندی کی جائے۔
  • حلال و حرام کا لحاظ رکھا جائے۔
  • والدین، اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کیے جائیں۔
  • صدق، امانت، عفو، صبر، رحمت اور عدل کو اختیار کیا جائے۔
  • زبان کو جھوٹ، غیبت، بہتان اور بدکلامی سے محفوظ رکھا جائے۔
  • اختلاف میں بھی ادب کا دامن نہ چھوڑا جائے۔
  • امت کی خیرخواہی اور اصلاح کی فکر کی جائے۔
  • اپنی پوری زندگی کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور کرنے کی کوشش کی جائے۔

محبت کا آخری امتحان

محبتِ رسول ﷺ کوئی معمولی نسبت نہیں۔ یہ وہ محبت ہے جس نے غلاموں کو آقا بنا دیا، کمزوروں کو تاریخ کا معمار بنا دیا، بے سروسامان انسانوں کو دنیا کے عظیم اخلاقی انقلاب کا علم بردار بنا دیا۔

مگر اس محبت کا راز صرف جذبات میں نہیں تھا؛ اس کا راز اتباع میں تھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے محبت کو عمل بنایا، اطاعت بنایا، قربانی بنایا، کردار بنایا اور زندگی بنایا۔

آج ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم حضور ﷺ کا نام کتنی محبت سے لیتے ہیں؟ یہ اہم ہے۔ ہم آپ ﷺ پر کتنا درود بھیجتے ہیں؟ یہ بھی اہم ہے۔ ہم آپ ﷺ کی سیرت کتنی پڑھتے ہیں؟ یہ بھی اہم ہے۔

مگر اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے:

ہماری زندگی میں حضور ﷺ کی سنت کتنی زندہ ہے؟

ہماری تجارت میں؟ ہماری گفتگو میں؟ ہماری عبادت میں؟ ہماری معاشرت میں؟ ہماری ازدواجی زندگی میں؟ ہماری اولاد کی تربیت میں؟ ہمارے اخلاق میں؟ ہماری تنہائی میں؟ ہماری محفل میں؟ اور اس وقت جب ہماری خواہش ایک طرف ہو اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ دوسری طرف؟

وہیں فیصلہ ہوگا کہ ہماری محبت محض لفظ ہے یا حقیقت۔

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا
اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ اور یہ کتنے اچھے رفیق ہیں۔
سورۂ النساء: 69

یہی محبت کا انعام ہے۔ یہی اطاعت کا صلہ ہے۔ یہی سنت کی برکت ہے۔ اور یہی عاشقِ رسول ﷺ کی سب سے بڑی آرزو ہونی چاہیے کہ قیامت کے دن اسے اپنے محبوبِ مکرم، رحمتِ عالم ﷺ کی قربت نصیب ہو۔

پس محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم حضور ﷺ کو چاہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہماری زندگی بھی حضور ﷺ کی پسندیدہ زندگی کے قریب ہوجائے۔

محبت زبان سے شروع ہوسکتی ہے، مگر اس کی تکمیل کردار پر ہوتی ہے۔ درود زبان سے نکلتا ہے، مگر اس کی خوشبو عمل سے آتی ہے۔ عشق دل میں پیدا ہوتا ہے، مگر اس کی گواہی زندگی دیتی ہے۔

جس دن کسی مسلمان کی خواہش، اس کی عادت، اس کا اخلاق، اس کا معاملہ، اس کی عبادت اور اس کی پوری زندگی یہ اعلان کرنے لگے کہ:

"میرے لیے میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا طریقہ ہی سب سے محبوب طریقہ ہے۔"

تو سمجھ لیجیے کہ محبت نے لفظوں کی حد پار کرکے زندگی کا روپ اختیار کرلیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ عطا فرمائے، آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر، اطاعت و اتباع، سنت و سیرت سے حقیقی وابستگی نصیب فرمائے، ہمارے ظاہر و باطن کو اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور فرمائے، کثرت سے درود و سلام پڑھنے کی توفیق دے اور روزِ قیامت اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کی شفاعت و قرب نصیب فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا ومولانا محمد وآلہٖ واصحابہٖ أجمعین۔
تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post