مجموعۂ غزلیں — نورِ ادب
غلام مزمل عطا اشرفی — خصوصی شعری مجموعہ
یہ انتخاب عطا کے فکری و عارفانہ احساسات کی جھلک ہے — جہاں دل کی
خاموشی، روح کی ضیا اور الفاظ کی تاثیر ایک ہی صفحے پر ہم آہنگی سے بولتے
ہیں۔
رازِ اُلفت — احساس کی تہہ میں چھپا ہوا سکوت
غزل ۱محبت جب خموشی کا پیرہن اوڑھ لے تو وہ دل کے موسموں میں بولتی ہے۔
میں نے دل کا ہر گلہ تجھ سے چھپا کر رکھ لیا
زخم جو باقی تھے دل میں، مسکرا کر رکھ لیا
وقت کے دریا نے سب یادیں بہا دیں دور تک
اک ترا چہرہ مگر میں نے بچا کر رکھ لیا
چاند بھی آتا رہا خوابوں کے زینے پر مگر
میں نے آنکھوں میں اندھیرا سجا کر رکھ لیا
کتنی آوازیں بلاتی رہ گئیں دنیا میں اب
میں نے سننے کا ارادہ بھلا کر رکھ لیا
پھر ترا ذکر آیا تو دل نے کہا خاموش رہ
رازِ اُلفت کو میں نے بھی خدا کر رکھ لیا
اب “عطا” خواب بھی باتوں میں بدل جاتے ہیں
میں نے احساس کو لفظوں میں چھپا کر رکھ لیا 💫
سچ کی سزا — وقت کا نیا معیار
غزل ۲یہ غزل اس عہد کی عکاس ہے جہاں سچ بولنا جرم اور خموشی بھی جرم سمجھی جاتی ہے۔
خواب دیکھو تو حقیقت میں سزا کہتے ہیں
جو ہنسی لب پہ ہو، اس کو بھی خطا کہتے ہیں
دل کے بازار میں سب شے کا حساب ہوتا ہے
پیار کو لوگ یہاں سود و زیا کہتے ہیں
میں نے مانا کہ وہ الفاظ خموشی بن کر
دل میں رہ جائیں تو ان کو دعا کہتے ہیں
کس کو معلوم کہ دنیائے نظر میں آخر
کون مجرم ہے، کسے اہلِ وفا کہتے ہیں
ہم وہ بچے ہیں جنہیں بھول گیا ہے منظر
جو فقط روتے ہیں، ان کو بھی بڑا کہتے ہیں
اب “عطا” لوگ سچائی کو کہانی سمجھے
وقت بدلا ہے تو معیار نیا کہتے ہیں 🌹
وقت کی راکھ — یاد کے موسموں کی بازگشت
غزل ۳یہ غزل وقت کے تھکے قدموں اور ماضی کی ٹوٹی خوشبوؤں کی کہانی ہے۔
شہر میں شور بہت تھا، میں اکیلا رہ گیا
وقت کا بوجھ اٹھاتے ہوئے رستہ رہ گیا
لوگ جاتے گئے سب خواب لیے آنکھوں میں
میں فقط خواب کے معنی میں تکیہ رہ گیا
درد سے دوستی ایسی کہ سکوں چھوڑ دیا
زندگی طرزِ تمنا کی طرح سا رہ گیا
دھوپ میں بھیگتے لمحوں نے سکھایا یہ سبق
پیار کرنا تو کیا جرم ہے، سایہ رہ گیا
تُو گیا، دل گیا، یاد گئی، سب کچھ گیا
صرف اک نام ترا لب پہ کھلا سا رہ گیا
پوچھتے ہیں کہ “عطا” اب بھی اُسی موڑ پہ ہے؟
ہاں، میں رستہ نہیں بدلا، مگر کیا رہ گیا 🌙
تنہائی سے آگے — خودی اور بقا کا سفر
غزل ۴یہ غزل اندر کے سفر کی داستان ہے، جہاں شکست کے بعد بقا کا مفہوم ملتا ہے۔
دل کے سب خواب جلائے تو نیا ہوا ہوں
آگ میں خود کو پگھلا کر بھی وفا ہوا ہوں
میرے ہونے کا یہی سب سے بڑا ثبوت ملا
جب کہ گم ہو کے بھی سب کے لئے صدا ہوا ہوں
تیری یادوں کے جہاں میں جو اندھیرا تھا کبھی
اب اُسی روشنیِ غم سے ضیا ہوا ہوں
وقت کے بعد سمجھ آیا ہے، تنہا ہو کر
میں تری یاد سے آگے بھی گیا ہوا ہوں
یہ مرا حوصلہ تھا یا تری خواہش، معلوم؟
میں خطا ہو کے بھی بخشا گیا ہوا ہوں
اب “عطا” وقت کے آئینے نے یہ بات کہی
میں مٹا بھی تو زمانے میں بقا ہوا ہوں ✨
نہ رہا — وقت، چہرے اور خوابوں کا زوال
غزل ۵یہ غزل لمحوں کے زیاں اور یاد کے کھو جانے پر مبنی ہے، جہاں احساس خاموشی میں گم ہوتا ہے۔
اب وہ چہرہ مرے دل میں نمایاں نہیں رہا
وقت گزرا تو وہ منظر بھی جہاں نہیں رہا
ایک خوشبو تھی کبھی خواب کی دہلیزوں پر
اب وہ سانسوں میں بھی چپکے سے وہاں نہیں رہا
میں نے سب اشک بہا دیے مگر کیا حاصل
ایک خالی سا شعورِ غمِ جاں نہیں رہا
کچھ تو احساس کی دیوار گری آہستہ
کچھ یہ دل بھی مرا دل کی زباں نہیں رہا
جو کبھی درد تھا انمول، وہی اب پتھر
اب وہ جذبہ مرے دل میں زیاں نہیں رہا
یوں “عطا” وقت نے سب خواب مٹا ڈالے ہیں
میں بھی اُس ہجر کی تعبیر ساں نہیں رہا 🌙

Post a Comment