حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی
از قلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
انسانی تاریخ کے افق پر جب ظلمتِ جاہلیت نے اپنے سیاہ پر پھیلا رکھے تھے، جب قوت کو حق، نسب کو فضیلت، دولت کو عزت اور شمشیر کو قانون سمجھا جاتا تھا، جب انسانی معاشرہ عصبیتوں کے حصار میں مقید اور ظلم و استبداد کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، ایسے دورِ تاریک میں رحمتِ عالم، فخرِ موجودات، سیدِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد صرف ایک مذہبی واقعہ نہ تھی؛ یہ انسانی تاریخ کے رخ کی تبدیلی کا نقطۂ آغاز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، دلوں کو ایمان کی روشنی عطا کی، اخلاق کو پاکیزگی بخشی، معاشرے کو عدل کا شعور دیا اور اقتدار کو ظلم و استبداد کی جاگیر سے نکال کر امانت و جواب دہی کا عنوان بنا دیا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کسی ایک شعبۂ زندگی کی رہنمائی تک محدود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے امام بھی ہیں اور اخلاق کے معلم بھی؛ تزکیۂ نفوس کے مربی بھی ہیں اور معاشرتی اصلاح کے قائد بھی؛ قاضی بھی ہیں اور سپہ سالار بھی؛ داعی بھی ہیں اور مدبرِ ریاست بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ہر گوشہ انسانی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کے لیے مینارۂ نور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی کا مطالعہ صرف فضائل و معجزات اور عبادات و اخلاق کے واقعات تک محدود کر دینا، اس جامع اور ہمہ گیر زندگی کے ایک نہایت اہم باب کو نگاہوں سے اوجھل کر دینا ہے۔
خصوصاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی اپنے اندر ایک ایسی ہمہ گیر بصیرت رکھتی ہے جس نے منتشر قبائل کو ملت، باہم متحارب گروہوں کو معاشرہ، بے نظم بستی کو ریاست اور جاہلی معاشرت کو ایک بااصول تہذیب میں تبدیل کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاست کو مکر و فریب، مفاد پرستی اور اقتدار کی ہوس کا مترادف نہیں بننے دیا، بلکہ اسے عدل، امانت، صداقت، شوریٰ، عہد کی پاس داری اور انسانی خیر خواہی کے اصولوں پر استوار فرمایا۔ یہی وہ پہلو ہے جس کا سنجیدہ مطالعہ آج کے سیاسی اضطراب، اخلاقی بحران اور حکمرانی کی بے سمتی کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ:
’’بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘
اس قرآنی اصول کی عملی تعبیر ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں پوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتی ہے، جہاں نبوت کی رہنمائی میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس میں عقیدہ و عبادت کے ساتھ قانون، عدالت، معیشت، معاشرت، دفاع، سفارت اور ریاستی نظم و نسق بھی موجود ہے۔
مکی دور: فکر و کردار کی تعمیر
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی کو سمجھنے کے لیے مکی اور مدنی ادوار کے فرق کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی توجہ انسان کے عقیدے، فکر اور کردار کی اصلاح پر رہی۔ توحید کا پیغام دیا گیا، شرک کے باطل تصورات کو چیلنج کیا گیا، آخرت کا یقین پیدا کیا گیا اور ایک ایسی جماعت تیار کی گئی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے۔ یہ دور شدید آزمائشوں، مظالم اور مخالفتوں کے باوجود دعوت، تربیت اور تعمیرِ شخصیت کا دور تھا۔
لیکن جب اہلِ مکہ نے ظلم و جبر کی انتہا کردی، مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا اور دعوتِ حق کے لیے مکہ کی زمین تنگ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو اسلام کے اجتماعی نظام کے لیے منتخب فرمایا۔ ہجرتِ مدینہ اسی عظیم تبدیلی کا نقطۂ آغاز تھی۔ یہ محض جغرافیائی انتقال نہ تھا بلکہ اسلامی تاریخ میں ایک نئے سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی عہد کا افتتاح تھا۔
مدینہ منورہ: ریاستی نظم کی بنیاد
مدینہ منورہ پہنچتے ہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منظم اجتماعی زندگی کی بنیاد رکھی۔ سب سے پہلے مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، جو عبادت کے ساتھ تعلیم و تربیت، مشاورت، اجتماعی نظم اور ریاستی امور کا مرکز بھی بنی۔ پھر مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کی گئی، جس نے ایک طرف مہاجرین کی معاشی و معاشرتی مشکلات کو حل کیا تو دوسری طرف اسلامی اخوت کو محض نظری تصور کے بجائے ایک زندہ معاشرتی حقیقت بنا دیا۔
اس کے بعد مدینہ کے مختلف قبائل اور گروہوں کے درمیان تعلقات کو ایک منظم دستاویز کے ذریعے متعین کیا گیا، جسے تاریخ میثاقِ مدینہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس معاہدے نے ایک ایسے اجتماعی نظم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جس میں مختلف گروہوں کے حقوق و فرائض متعین تھے اور اجتماعی دفاع و امن کی ذمہ داریاں واضح کی گئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ ایک ایسی ریاستی وحدت میں تبدیل ہوا جہاں اختلافِ مذہب کے باوجود اجتماعی نظم، معاہداتی ذمہ داری اور شہری امن کے اصولوں کو ملحوظ رکھا گیا۔
عدل و انصاف: نبوی سیاست کا بنیادی ستون
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل کو محض وعظ کا موضوع نہیں بنایا بلکہ اسے ریاستی نظام کا عملی اصول بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قانون کی عظمت اس بات میں نہ تھی کہ وہ کمزور پر نافذ ہو اور طاقت ور اس سے مستثنیٰ رہے، بلکہ قانون کی حقیقی روح یہ تھی کہ اس کے سامنے سب برابر ہوں۔
’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘
اس مختصر مگر جامع فرمان نے اقتدار کی حقیقت واضح کردی کہ حاکم اپنے منصب کا مالک نہیں بلکہ اپنی رعایا کے حقوق کا امین ہے اور اسے اپنے اختیارات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔
شوریٰ اور اجتماعی بصیرت
’’اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحیِ الٰہی کے حامل ہونے کے باوجود ان امور میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرماتے جن میں وحی کی صریح رہنمائی موجود نہ ہوتی۔ غزوۂ بدر، غزوۂ احد اور غزوۂ خندق کے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشاورت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اسلامی قیادت فردِ واحد کی استبدادی رائے کا نام نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے۔
غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تجویز کو قبول کرنا اسی وسعتِ نظر کی علامت تھا۔ ایک غیر عرب صحابی کی جنگی تدبیر کو قبول کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عملی سبق دیا کہ حکمت کسی نسل، قوم یا قبیلے کی جاگیر نہیں؛ جہاں سے خیر اور مصلحت کی بات ملے، اسے اختیار کرنا چاہیے۔
معاہدات، سفارت کاری اور سیاسی بصیرت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی کا ایک اہم باب معاہدات اور سفارت کاری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل کے ساتھ معاہدات کیے، امن کے راستے پیدا کیے، مختلف علاقوں کے حکمرانوں سے مراسلت فرمائی اور دعوتِ اسلام کو عرب کی حدود سے باہر پہنچایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارت کاری میں مقصدیت بھی تھی اور اصول پسندی بھی؛ مفاد بھی تھا مگر اخلاقی حدود کے اندر؛ حکمت بھی تھی مگر مکر و فریب سے پاک۔
صلحِ حدیبیہ: دور اندیشی کی روشن مثال
اسی سلسلے میں صلحِ حدیبیہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے دشوار محسوس ہوتی تھیں، مگر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی فیصلے کے بجائے مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہی معاہدہ اسلام کی دعوت کے پھیلاؤ کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہوا اور قرآنِ کریم نے اسے فتحاً مبیناً قرار دیا۔ (الفتح: 1) حدیبیہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی بصیرت کا تقاضا ہر وقت فوری کامیابی پر اصرار کرنا نہیں بلکہ دور رس نتائج کو سامنے رکھ کر درست فیصلہ کرنا ہے۔
اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر ذمہ داری
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاستی نظم میں اہلیت اور صلاحیت کو بھی بنیادی اہمیت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد کی صلاحیتوں کو پہچانا، ان کے جوہر کو بروئے کار لایا اور مختلف ذمہ داریاں ان کی استعداد کے مطابق سپرد فرمائیں۔ کسی کو سفارت کا منصب ملا، کسی کو کتابت کی ذمہ داری، کسی کو عسکری قیادت، کسی کو انتظامی خدمت اور کسی کو دعوت و تعلیم کا فریضہ۔ اس طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب ریاستی نظم کے لیے باصلاحیت افراد کی شناخت اور ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال ناگزیر ہے۔
قوت اور رحمت کا حسین امتزاج
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی کا ایک اور درخشاں پہلو قوت اور رحمت کا متوازن استعمال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کمزوری کے قائل تھے اور نہ بے مہار قوت کے۔ جہاں ظلم و جارحیت کا مقابلہ ضروری ہوا وہاں پوری قوت سے مقابلہ فرمایا، اور جہاں عفو و درگزر سے بڑے مقاصد حاصل ہوسکتے تھے وہاں رحمت و عفو کا دروازہ کھول دیا۔ فتحِ مکہ اس کی سب سے روشن مثال ہے۔
فتحِ مکہ کے وقت وہی قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے جنہوں نے برسوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر ظلم ڈھائے تھے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا تھا اور جنگوں کی آگ بھڑکائی تھی۔ لیکن جب وہ دن آیا کہ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ اقتدار تھا تو انتقام کے بجائے عفو کا مظاہرہ فرمایا۔ یہ فتح صرف ایک شہر کی فتح نہ تھی بلکہ دلوں کی فتح تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ حقیقی فاتح وہ نہیں جو دشمن کو خاک میں ملا دے، بلکہ وہ ہے جو اقتدار ملنے کے بعد بھی اپنے اخلاق کی بلندی برقرار رکھے۔
عہد و پیمان کی پاس داری
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی عہد و پیمان کی پاس داری کا بھی بے مثال نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدے کو معمولی چیز نہیں سمجھا۔ معاہدہ ہو تو اس کی پاس داری کی، عہد ہو تو اسے نبھایا، اور سیاسی اختلاف کے باوجود اخلاقی اصولوں کو پامال نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ وصف ہے جو نبوی سیاست کو عام سیاسی چالوں سے ممتاز کرتا ہے۔
داخلی اتحاد اور اجتماعی استحکام
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاستی استحکام کے لیے داخلی اتحاد کو بھی بنیادی اہمیت دی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات، قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ، قانون کی بالادستی اور ایک مرکزی نظم کے تحت مختلف گروہوں کو جمع کرنا اسی سیاسی حکمت کا حصہ تھا۔ اس طرح عرب کا وہ معاشرہ جو صدیوں سے قبائلی اختلافات اور باہمی جنگوں کا شکار تھا، ایک ایسی امت میں تبدیل ہوگیا جس کی بنیاد خون، نسل اور قبیلے کے بجائے ایمان، اصول اور اخوت پر قائم تھی۔
عالمی سطح پر دعوت و سفارت
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی بصیرت کا دائرہ صرف داخلی نظم تک محدود نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمی سطح پر بھی دعوت کا دروازہ کھولا۔ مختلف بادشاہوں اور سربراہانِ مملکت کو خطوط ارسال فرمائے اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کسی خاص قوم یا خطے کے لیے نہ تھی بلکہ قرآن کے اعلان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے۔
خطبۂ حجۃ الوداع: انسانی حقوق کا جامع منشور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی اور اجتماعی تعلیمات کا ایک جامع خلاصہ خطبۂ حجۃ الوداع میں سامنے آتا ہے۔ میدانِ عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت کو واضح فرمایا، جاہلی خونریزی اور نسلی تفاخر کی بنیادوں کو رد کیا، سودی معاملات کے خاتمے کا اعلان کیا، عورتوں کے حقوق کی تاکید فرمائی اور مسلمانوں کو باہمی اخوت و حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی۔ یہ خطبہ محض ایک مذہبی وعظ نہیں بلکہ انسانی معاشرے کے لیے عدل، حرمتِ انسانیت اور اجتماعی ذمہ داریوں کا جامع منشور تھا۔
اقتدار: مقصد نہیں، ذمہ داری
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اقتدار بذاتِ خود کوئی مقصد نہ تھا۔ اقتدار اگر ملا تو حق کے قیام، ظلم کے خاتمے، عدل کے نفاذ، امن کے فروغ اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست میں وہ پاکیزگی نظر آتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت میں تھی، وہ صداقت نظر آتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں تھی اور وہ رحمت نظر آتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری شخصیت کا امتیاز تھی۔
عصرِ حاضر کے لیے سیرتِ نبوی کا سیاسی پیغام
آج دنیا سیاسی انتشار، جنگوں، معاشرتی تقسیم، معاشی ناانصافی اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ نبوی کے سیاسی پہلو کا مطالعہ محض تاریخی دلچسپی نہیں بلکہ ایک اہم فکری ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست کی مضبوطی صرف طاقت سے نہیں آتی؛ عدل سے آتی ہے۔ حکومت کی پائیداری صرف قانون کی سختی سے نہیں ہوتی؛ قانون کی غیر جانب دارانہ بالادستی سے ہوتی ہے۔ عوام کا اعتماد صرف نعروں سے حاصل نہیں ہوتا؛ امانت، دیانت اور خدمت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں؛ جواب دہی کا نام ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی ہمارے سامنے حکمرانی کا ایسا جامع تصور رکھتی ہے جس میں قوت کے ساتھ اخلاق، اقتدار کے ساتھ امانت، قانون کے ساتھ عدل، اختلاف کے ساتھ تحمل، دشمنی کے ساتھ اصول، اور ریاست کے ساتھ انسانی خیر خواہی شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک ایسی ریاست قائم کرکے دکھائی جس نے عرب کے منتشر عناصر کو ایک امت میں تبدیل کردیا اور جس کی فکری و اخلاقی قوت نے آنے والی صدیوں کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: کامل رہنمائی کا سرچشمہ
حقیقت یہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سیاسی پہلو سیرت کے دوسرے پہلوؤں سے الگ کوئی جزیرہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع حیاتِ طیبہ ہی کا ایک روشن باب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخلاقی اور دعوتی مشن سے مربوط تھی؛ اس لیے اسے محض جدید سیاسی اصطلاحات کے سانچے میں محدود کرنا بھی درست نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل عظمت اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقتدار کو حق و عدل کا خادم بنایا، نہ کہ حق و عدل کو اقتدار کا تابع۔
اسی لیے آج اگر ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کو محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے شعوری اتباع میں تبدیل کرنا چاہیں تو ہمیں سیرتِ طیبہ کے ہر پہلو سے رہنمائی لینی ہوگی۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت سے بندگی، اخلاق سے پاکیزگی، معاملات سے دیانت، عدل سے انصاف، قیادت سے ذمہ داری، شوریٰ سے اجتماعی بصیرت، معاہدات سے عہد کی پاس داری اور فتحِ مکہ سے عفو و درگزر کا سبق حاصل کرنا ہوگا۔
’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
اس لیے سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ماضی کا ایک تابناک واقعہ نہیں؛ وہ آج اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ قیادت کردار کے بغیر بے معنی ہے، اقتدار عدل کے بغیر خطرناک ہے اور سیاست اخلاق کے بغیر فساد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرتِ نبوی کے سیاسی پہلو کو سنجیدگی، علمی دیانت اور تاریخی شعور کے ساتھ پڑھا جائے اور اسے محض سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ عدل، امانت، شوریٰ، خدمتِ خلق، قانون کی پاس داری، انسانی حرمت اور اخلاقی قیادت کے اصولوں کی حیثیت سے سمجھا جائے۔ یہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی وہ روشن میراث ہے جس سے آج کا انسان بھی اپنے اجتماعی مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو صحیح معنوں میں سمجھنے، اس کے ہر گوشے سے رہنمائی لینے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسوۂ حسنہ کے نور سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Post a Comment