حشر کا سامان
قیامت کے ہولناک مناظر، میدانِ حشر کی کیفیت اور بندۂ عاصی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کو شعری پیرایے میں پیش کرتی ہوئی یہ نظم انسان کو آخرت کی جواب دہی اور اپنے رب کی رحمت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
کہیں پر زلزلہ ہوگا، کہیں طوفان اٹھے گا
زمیں پھٹ جائے گی، جب حشر کا سامان اٹھے گا
گریں گے ٹوٹ کر تارے، سمندر کھول جائیں گے
دخانوں کی طرح سب مائلِ طغیان اٹھے گا
اڑے گا ہر پہاڑ ایسے کہ جیسے روئی کا گالا
کفن کو چاک کر کے ہر کوئی حیران اٹھے گا
نہ ماں کو ہوش بیٹے کا، نہ بھائی بھائی کا مونس
وہاں نفسی کا ہر اک سمت سے اعلان اٹھے گا
یہ تانبے کی زمیں ہوگی، وہ سورج ایک نیزے پر
بدن سے پھر پسینے کا وہاں طوفان اٹھے گا
خدا وندا! ترا بندہ عطاؔ بھی ہے بڑا عاصی
ترے ہی رحم کا محشر میں اب ارمان اٹھے گا

Post a Comment