پان کی رنگینی اور تہذیبِ محبت
لبوں پہ رنگِ محبت کا اک گمان ہے پان
ہمارے عہد کی تہذیب کی زبان ہے پان
گلوری ہاتھ میں آئے تو محفلیں مہکیں
خلوص و لطف و مروّت کی داستان ہے پان
وہ اپنے ہاتھ سے دے دے تو عید ہو جائے
نگاہِ یار کا دل کش سا اک نشان ہے پان
لبوں کی سرخ ہنسی میں جو روشنی دیکھوں
مرے خیال میں رنگین آسمان ہے پان
پرانے شہر کی گلیوں میں آج بھی جیسے
کسی بزرگ کی یادوں کا سائبان ہے پان
سلیقۂ سخن و ناز و دل بری کا ہنر
نگاہِ اہلِ نظر میں بھی ایک شان ہے پان
کبھی جو پان کی گلوری وہ پیش کر دے مجھے
تو اس کی خامشیوں کا بھی ترجمان ہے پان
یہ پان دان، یہ چاندی کی طشتری، خوشبو
گزر گئے جو زمانے، یہ ان کی جان ہے پان
زباں پہ آئے تو لہجے میں شہد گھول دے یہ
محبتوں کے تکلّم کا اک نشان ہے پان
جہاں میں کتنی ہی رنگینیاں بکھرتی ہیں
مگر ہماری روایت کی آن بان ہے پان
یہ کتھا، چونا، سپاری، الائچی وغیرہ
عجیب رنگ کے ملنے کا اک جہان ہے پان
نہ صرف ذائقۂ لب، نہ محض رنگ و مہک
ہمارے رسم و رواجوں کا ترجمان ہے پان
کسی کے ہاتھ کی نرمی، کسی کے لال وہ لب
ہمارے شعر میں اک دل نشیں بیان ہے پان
عطاؔ، یہ صرف گلوری نہیں، سمجھ اس کو
ہمارے عہد کے ماضی کی داستان ہے پان
کیا آپ کے نزدیک پان محض ایک ذائقہ ہے، یا ہماری تہذیب، محبت، مہمان نوازی اور یادِ ماضی کی ایک علامت بھی ہے؟ اپنی رائے تبصرے میں ضرور لکھیے۔

Post a Comment