مدارس کے طلبہ اور عصری تعلیم
روایت، علمی میراث، عصری تقاضے اور مستقبل کا تعلیمی منظرنامہ
تعلیم کسی قوم کے محض تعلیمی اداروں کا نام نہیں، بلکہ اس کے فکری مزاج، تہذیبی شعور، اخلاقی کردار اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والی قوت ہے۔ قومیں اپنی نئی نسل کو جس انداز میں تعلیم دیتی ہیں، دراصل اسی کے ذریعے اپنے ماضی کی تعبیر، حال کی تفہیم اور مستقبل کی تعمیر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کا مسئلہ کبھی صرف کتاب، نصاب یا امتحان کا مسئلہ نہیں رہتا؛ اس کے پس منظر میں ایک پورا تہذیبی اور فکری تصور کارفرما ہوتا ہے۔
مدارسِ اسلامیہ بھی اسی وسیع تعلیمی و تہذیبی منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ صدیوں سے یہ ادارے قرآن و حدیث، فقہ و اصول، عقائد و کلام، عربی زبان و ادب، سیرت، اسلامی تاریخ اور علومِ اسلامیہ کے عظیم علمی سرمائے کے محافظ رہے ہیں۔ خصوصاً برصغیر میں مدارس نے ایسے ادوار میں بھی دینی علوم کی شمع روشن رکھی جب سیاسی اقتدار بدل چکا تھا، تعلیمی نظام کی ترجیحات تبدیل ہورہی تھیں اور معاشرتی زندگی نئی سمتوں میں منتقل ہورہی تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مدارس نے دینی تعلیم کے تسلسل، علمی روایت کی حفاظت اور مذہبی و تہذیبی شعور کی بقا میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
لیکن زمانہ کبھی ایک نقطے پر ٹھہرتا نہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا علم، سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معاشیات، ابلاغ اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایسی تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جنہوں نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ آج دنیا کے علمی مراکز میں نئے علوم پیدا ہورہے ہیں، تحقیق کے طریقے بدل رہے ہیں، معلومات کی ترسیل چند لمحوں میں عالمی سطح پر ممکن ہوگئی ہے، مصنوعی ذہانت علمی و معاشی سرگرمیوں کے نئے امکانات پیدا کررہی ہے، جدید طب انسانی زندگی کے پیچیدہ سوالات سامنے لارہی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا نے ابلاغ کے روایتی ذرائع کی حدود بڑی حد تک بدل دی ہیں۔
ایسے میں مدارس کے طلبہ کے بارے میں یہ سوال پوری سنجیدگی کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا انہیں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم اور جدید مہارتوں سے بھی آراستہ ہونا چاہیے؟ اگر ہاں، تو کس حد تک؟ کن علوم کو شامل کیا جائے؟ ان کا تناسب کیا ہو؟ طریقۂ تدریس کیا ہو؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عصری تعلیم کے حصول میں مدرسے کی بنیادی دینی شناخت کس طرح محفوظ رکھی جائے؟
یہ سوال دراصل ’’دینی تعلیم یا عصری تعلیم‘‘ کا سوال نہیں؛ بلکہ دینی بنیاد کے ساتھ عصری شعور پیدا کرنے کا سوال ہے۔ یہ تصادم کا نہیں، توازن کا مسئلہ ہے؛ ترک کا نہیں، انتخاب کا مسئلہ ہے؛ اور تقلید کا نہیں، حکمت کے ساتھ استفادے کا مسئلہ ہے۔
اسلام اور علم کا جامع تصور
اسلامی تعلیمات میں علم کو بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی ہی ’’اقرأ‘‘ سے شروع ہوتی ہے:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا فرمایا۔‘‘
اس مختصر مگر عظیم حکم میں علم اور ربانی نسبت کا ایک بنیادی اصول پوشیدہ ہے: علم حاصل کیا جائے، لیکن علم انسان کو اپنے خالق، اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصدِ حیات سے غافل نہ کرے۔
قرآن مجید انسان کو بارہا کائنات میں غور و فکر، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
(آلِ عمران: 190)
اور فرمایا:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ
’’فرما دیجیے: زمین میں چلو، پھر دیکھو کہ اللہ نے پیدائش کی ابتدا کیسے فرمائی۔‘‘
(العنکبوت: 20)
اسی طرح ارشاد فرمایا:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
’’اور عرض کیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
(طٰہٰ: 114)
یہ آیات طبیعیات، کیمیا، طب یا فلکیات کی درسی کتاب نہیں، اور قرآن کریم کا مقصد بھی کسی مخصوص سائنسی نصاب کی فراہمی نہیں؛ لیکن ان آیات میں انسان کو کائنات کے مشاہدے، عقل کے استعمال، غور و فکر اور علم میں اضافے کی جو دعوت دی گئی ہے، وہ اسلامی تصورِ علم کی وسعت کو ضرور واضح کرتی ہے۔
قرآن اور جدید علوم: ایک ضروری علمی وضاحت
یہاں ایک بنیادی علمی احتیاط لازم ہے۔ قرآن کریم کو جدید سائنس کی درسی کتاب قرار دینا، یا یہ دعویٰ کرنا کہ ہر جدید سائنسی نظریہ اور ہر تکنیکی ایجاد قرآن کی کسی آیت سے براہِ راست اخذ کی جاسکتی ہے، علمی تحقیق کے اعتبار سے محتاط طرزِ بیان نہیں۔ قرآن کا بنیادی مقصد ہدایت، عقیدہ، اخلاق، تزکیۂ نفس اور انسانی زندگی کی صحیح رہنمائی ہے۔
البتہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ قرآن انسان کو کائنات، تخلیق، انسان، آفاق و انفس اور قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلامی تہذیب نے اسی وسیع فکری ماحول میں اپنے زمانے کے مختلف علمی ذخائر سے استفادہ کیا، انہیں سمجھا، ترجمہ کیا، پرکھا، ان پر تنقید کی اور متعدد علوم میں نئی تحقیقات پیش کیں۔
چنانچہ زیادہ درست اور علمی تعبیر یہ ہے کہ جدید سائنس کی ہر تفصیل کو قرآن سے براہِ راست اخذ کرنے کے بجائے قرآن و سنت کے اس علمی منہج کو سمجھا جائے جس نے علم، عقل، تدبر، مشاہدہ اور حقیقت کی جستجو کو قدر و منزلت عطا کی۔
یہ تعبیر نہ قرآن کے مقام کو محدود کرتی ہے اور نہ تاریخ کو مبالغے کا شکار بناتی ہے۔
مسلم تہذیب اور علمی انقلاب
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب کے علمی عروج کے زمانے میں علوم کو تنگ دائروں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔ بغداد، دمشق، قاہرہ، قرطبہ، بخارا، سمرقند اور دیگر علمی مراکز میں مختلف علوم کے حلقے قائم ہوئے۔ یونانی، سریانی، فارسی اور ہندوستانی علمی ذخیرے کے متعدد متون عربی میں منتقل ہوئے۔ لیکن مسلم علمی سرگرمی صرف ترجمے تک محدود نہ رہی؛ اہلِ علم نے ان علوم کو سمجھا، ان کے نظریات پر بحث کی، مشاہدات اور تجربات کیے اور مختلف شعبوں میں اپنے نتائج پیش کیے۔
یہاں مسلم تہذیب کا اصل امتیاز یہی تھا کہ اس نے علمی سرحدیں بند نہیں کیں۔ جس علم میں فائدہ محسوس ہوا، اسے سمجھا؛ جو چیز علمی معیار پر پوری اتری، اسے قبول کیا؛ جس مقام پر اختلاف تھا، وہاں تنقید کی؛ اور جہاں امکان پیدا ہوا، وہاں نئی تحقیق کی۔
یہ علمی رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ علم کسی ایک قوم کی موروثی ملکیت نہیں۔ یونانیوں نے فلسفہ و ریاضی میں، ہندوستانیوں نے ریاضی و فلکیات میں، ایرانیوں اور چینیوں نے مختلف علوم و فنون میں، اور بعد کے ادوار میں یورپی اقوام نے سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انسانی علم ایک مسلسل اور بین تہذیبی سفر ہے۔
مسلم تہذیب کی عظمت اس دعوے میں نہیں کہ دنیا کا ہر علم اسی نے ایجاد کیا؛ اس کی عظمت اس تاریخی کردار میں ہے کہ اس نے مختلف علمی روایتوں کو جذب کیا، ان کی تدوین کی، ان پر تنقید کی، انہیں آگے بڑھایا اور عالمی علمی سفر میں ایک مؤثر مرحلہ پیدا کیا۔
الخوارزمی سے ابن الہیثم تک
مسلم علمی تاریخ میں ایسے بے شمار نام ملتے ہیں جنہوں نے انسانی علم کی مختلف شاخوں کو نئی سمتیں دیں۔
محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے ریاضی کے میدان میں ایسی خدمات انجام دیں جنہوں نے بعد کی علمی دنیا کو متاثر کیا۔ الجبرا اور حساب کے منظم علمی طریقوں میں ان کا کردار تاریخِ ریاضیات کا اہم باب ہے۔
ابن الہیثم نے بصریات اور تجرباتی تحقیق میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے علمی طریقِ کار میں مشاہدہ، تجربہ، قیاس اور نظریے کی جانچ جیسے عناصر نمایاں ہیں۔
الرازی نے طب سمیت متعدد علوم میں تصنیفی و تحقیقی کام کیا۔ ابن سینا نے طب اور فلسفے کے میدان میں وسیع علمی ذخیرہ چھوڑا۔ الزہراوی نے جراحی کے علم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ البیرونی نے فلکیات، جغرافیہ، طبیعی مظاہر اور مختلف تہذیبوں کے مطالعے میں غیر معمولی وسعتِ نظر کا مظاہرہ کیا۔
مسلم دنیا میں فلکیات کی ترقی بھی محض نظری تجسس کا نتیجہ نہیں تھی؛ قبلہ، اوقاتِ نماز، تقویم اور سفر جیسے عملی تقاضوں نے بھی فلکیاتی مشاہدات اور حسابات کی ضرورت پیدا کی۔
یہ تاریخ ہمارے لیے ایک نہایت اہم سبق رکھتی ہے: دینی ضرورت اور سائنسی تحقیق ہمیشہ ایک دوسرے کی ضد نہیں رہیں؛ بعض مواقع پر دینی ضروریات نے خود علمی تحقیق کے نئے میدان پیدا کیے۔
علم اور اخلاق
لیکن اسلامی تصورِ علم کا امتیاز صرف علم کی طلب تک محدود نہیں؛ اس کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
علم انسان کو طاقت دیتا ہے، مگر طاقت خود مقصد نہیں۔ علم خیر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور شر کا وسیلہ بھی۔
طب انسانی جان بچا سکتی ہے، مگر اخلاقی حدود سے آزاد ہوکر انسانی حرمت کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ایٹمی علم توانائی اور طبی تحقیق میں استعمال ہوسکتا ہے، مگر جنگی تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیم، طب اور تحقیق میں مددگار ہوسکتی ہے، لیکن جھوٹی معلومات، جعل سازی، علمی سرقے اور فریب کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
اس لیے اسلامی تصور میں سوال صرف یہ نہیں کہ:
’’ہم کیا جانتے ہیں؟‘‘
بلکہ یہ بھی ہے:
’’ہم اپنے علم کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟‘‘
یہی وہ مقام ہے جہاں علم کو اخلاق، حکمت اور ذمہ داری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
مدارس اگر عصری علوم کو اپنے نظام میں جگہ دیتے ہیں تو ان کے لیے ایک منفرد امکان پیدا ہوتا ہے کہ وہ علم کو اخلاق سے، تحقیق کو ذمہ داری سے اور ٹیکنالوجی کو انسانی خیر سے مربوط کرنے کی تربیت دیں۔
مدارس اور اپنی علمی میراث
یہاں مدارس کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر مسلم تہذیب کے عظیم ادوار میں طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ، بصریات، کیمیا اور دیگر علوم میں مسلمان اہلِ علم نے نمایاں کام کیا، تو آج مدارس کے طلبہ کے لیے ان علوم کی بنیادی واقفیت اجنبی کیوں سمجھی جائے؟
اس سوال کا جواب یہ نہیں کہ ہر مدرسہ سائنس کالج بن جائے یا ہر طالب علم کو ہر علم کا ماہر بنا دیا جائے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ طالب علم اپنی علمی تاریخ سے واقف ہو اور یہ سمجھے کہ علم کی دنیا اس کے لیے اجنبی نہیں۔
وہ ایک ایسی تہذیب کا وارث ہے جس میں کتاب، مشاہدہ، تحقیق، تجربہ، منطق، زبان اور مختلف علوم کے درمیان علمی ربط پیدا کرنے کی روایت موجود رہی ہے۔
اس لیے مدارس کو عصری علوم سے آشنا ہونا اپنی علمی شناخت سے فرار نہیں بلکہ اپنی علمی میراث کے ایک وسیع پہلو کی بازیافت بھی ہوسکتا ہے۔
برصغیر کے مدارس اور بدلتے ہوئے حالات
برصغیر کے مدارس کی تاریخ بھی ایک جامد داستان نہیں۔ مختلف ادوار میں ان کے نصاب، ادارہ جاتی ساخت، تدریسی طریقوں اور ترجیحات میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ درسِ نظامی نے برصغیر کے دینی تعلیمی نظام پر گہرا اثر ڈالا، مگر مختلف اداروں نے اسے اپنی ضرورت کے مطابق اختیار کیا، بعض مضامین کو زیادہ اہمیت دی اور بعض مقامات پر اضافی علوم شامل کیے۔
اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی نصاب کی تاریخی عظمت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر عملی صورت ہر زمانے کے لیے یکساں کافی ہوگی۔
نصاب اپنی روح میں زندہ ہونا چاہیے۔ اس میں بنیادی علوم محفوظ رہیں، لیکن طالب علم جس دنیا میں داخل ہونے والا ہے، اس کے ضروری سوالات اور علمی تقاضے بھی سامنے رہیں۔
عصری تعلیم سے مراد کیا ہے؟
عصری تعلیم کو صرف انگریزی، سائنس اور کمپیوٹر تک محدود کردینا درست نہیں۔
حقیقی عصری تعلیم میں علم کے ساتھ فہم، تحقیق، تنقیدی فکر، ابلاغ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل خواندگی، سماجی شعور اور عملی مہارت شامل ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ:
- معلومات کہاں سے حاصل کی جائیں؛
- ان کی صحت کیسے جانچی جائے؛
- مختلف آرا میں فرق کیسے کیا جائے؛
- دلیل اور دعوے میں امتیاز کیسے کیا جائے؛
- تحقیقی مواد کیسے مرتب کیا جائے؛
- اپنی بات واضح اور مؤثر انداز میں کیسے پیش کی جائے؛
- اور حاصل شدہ علم کو معاشرے کی بھلائی کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔
یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو مدارس کے طلبہ کو اپنے عہد کے مؤثر علمی نمائندے بنا سکتی ہیں۔
زبانوں کی اہمیت
مدارس کے طلبہ کے لیے زبانوں کی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
عربی دینی مصادر کی زبان ہے؛ اردو برصغیر کی عظیم علمی و ادبی روایت کا اہم وسیلہ ہے؛ مقامی و قومی زبانیں معاشرتی رابطے کے لیے ضروری ہیں؛ اور انگریزی عالمی علمی ذخیرے تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس لیے ایک متوازن طالب علم کے لیے عربی، اردو، قومی یا مقامی زبان اور انگریزی کا مناسب امتزاج اس کے علمی افق کو وسیع کرسکتا ہے۔
انگریزی سیکھنے کا مطلب اردو یا عربی سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ علمی رسائی کے نئے دروازے کھولنا ہے۔ اسی طرح عربی کو صرف قواعد و ترجمہ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے اصل مصادر اور تحقیقی مطالعے کی زبان بنانے کی کوشش ہونی چاہیے۔
سائنس اور مدارس
مدارس میں سائنس کی تعلیم کا مقصد ہر طالب علم کو سائنس دان بنانا نہیں ہونا چاہیے؛ بنیادی مقصد سائنسی شعور پیدا کرنا ہے۔
آج ایک عالمِ دین کو طب، ماحولیات، حیاتیاتی تحقیق، جینیاتی علوم، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق سوالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر وہ ان موضوعات کی بنیادی حقیقتوں سے ناواقف ہو تو معاصر مسئلے کے شرعی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں پر گفتگو بھی محدود ہوسکتی ہے۔
لہٰذا سائنس کی بنیادی تعلیم طالب علم کو اپنے زمانے کے علمی مسائل سمجھنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
ریاضی اور منطقی تربیت
ریاضی محض حساب کتاب کا مضمون نہیں۔ یہ ذہنی ترتیب، تناسب، استدلال، مسئلہ حل کرنے اور تجزیاتی فکر کی تربیت بھی کرتی ہے۔
دینی علوم میں بھی وراثت، زکوٰۃ، تجارت، مالی معاملات اور متعدد عملی مسائل میں حسابی صلاحیت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اس لیے بنیادی ریاضی مدارس کے طلبہ کے لیے غیر متعلقہ مضمون نہیں بلکہ عمومی علمی تربیت کا ایک مفید حصہ ہے۔
کمپیوٹر اور ڈیجیٹل خواندگی
آج کمپیوٹر اور ڈیجیٹل وسائل علمی زندگی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ کتب کی تلاش، مخطوطات کے ڈیجیٹل نسخے، علمی جرائد، تحقیقی مواد، کتابت، اشاعت، تدریس اور ابلاغ—سب میں ڈیجیٹل مہارت معاون ثابت ہوتی ہے۔
مدارس کے طلبہ کو کم از کم اردو و عربی ٹائپنگ، دستاویز سازی، PDF، ڈیجیٹل لائبریری، آن لائن تحقیق، پریزنٹیشن، بنیادی ڈیٹا مینجمنٹ، آن لائن تدریس، ڈیجیٹل اشاعت اور سائبر تحفظ سے واقف ہونا چاہیے۔
ٹیکنالوجی مقصد نہیں؛ ذریعہ ہے۔ اسے طالب علم کی علمی قوت بننا چاہیے، اس کی توجہ کا حاکم نہیں۔
مصنوعی ذہانت: نیا امکان اور نئی ذمہ داری
مصنوعی ذہانت نے تعلیم و تحقیق کے میدان میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ ترجمہ، خلاصہ، معلومات کی درجہ بندی، ابتدائی تحقیق، تعلیمی مواد کی تیاری اور زبان کی معاونت جیسے کئی کاموں میں AI مددگار ہوسکتی ہے۔
لیکن مدرسے کے طالب علم کو یہ اصول ابتدا ہی سے سکھانا ضروری ہے کہ:
مصنوعی ذہانت معاونِ تحقیق ہوسکتی ہے، مرجعِ تحقیق نہیں۔
مشینی جواب حدیث کی صحت کی سند نہیں، فقہی حکم کی آخری دلیل نہیں، تاریخی دعوے کا قطعی ثبوت نہیں اور تحقیقی دیانت کا متبادل نہیں۔
اصل مصادر، معتبر کتب، اہلِ علم اور مستند تحقیقی مراجع کی طرف رجوع بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تنقیدی فکر اور علمی استدلال
تعلیم کا مقصد صرف یادداشت کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ عقل کو منظم کرنا بھی ہے۔
طالب علم کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ دلیل اور دعوے میں کیا فرق ہے، اصل ماخذ اور ثانوی حوالہ کیا ہے، نقل اور تحقیق میں کیا امتیاز ہے، خبر اور رائے میں کیا فرق ہے، تاریخی روایت کے مختلف مصادر کو کیسے پرکھا جاتا ہے اور کسی اقتباس کو اس کے سیاق سے کاٹ کر پیش کرنے کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔
تنقیدی فکر کا مطلب مذہبی تشکیک پیدا کرنا نہیں؛ بلکہ علمی بصیرت اور تحقیقی دیانت پیدا کرنا ہے۔
تحقیق: طالب علم سے محقق تک
مدارس میں تحقیق کو صرف اعلیٰ درجات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ابتدائی سطح ہی سے طالب علم کو مطالعہ، حوالہ، ماخذ، فہرست، اقتباس اور تحریر کے بنیادی اصول سکھائے جاسکتے ہیں۔
اعلیٰ سطح پر موضوع کا انتخاب، مسئلے کی تعیین، سابقہ تحقیق کا مطالعہ، مصادر کا انتخاب، مواد کی درجہ بندی، تجزیہ، نتائج اور حوالہ جاتی نظام کی باقاعدہ تربیت ضروری ہے۔
یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے طالب علم محض کتاب پڑھنے والے سے کتاب کے ساتھ علمی مکالمہ کرنے والے محقق کی طرف بڑھتا ہے۔
مدرسہ اور روزگار
مدارس کے طلبہ کے مستقبل کے بارے میں گفتگو میں روزگار کے سوال کو نظرانداز کرنا حقیقت سے فرار ہوگا۔
ہر طالب علم لازماً ایک ہی پیشہ اختیار نہیں کرتا۔ کوئی تدریس میں جائے گا، کوئی امامت و خطابت میں، کوئی تحقیق و تصنیف میں، کوئی صحافت میں، کوئی ترجمہ میں، کوئی ڈیجیٹل تعلیم میں اور کوئی مزید اعلیٰ تعلیم کی طرف۔
اس لیے بنیادی عصری تعلیم طالب علم کو دینی تعلیم سے دور کیے بغیر اس کے جائز اور باوقار عملی امکانات وسیع کرسکتی ہے۔
مقصد یہ نہیں کہ مدرسے کا ہر طالب علم ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بنے؛ مقصد یہ ہے کہ اس کی علمی قابلیت اس کے مستقبل کے راستے محدود نہ کرے۔
پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم
عصری تعلیم کا ایک اہم پہلو پیشہ ورانہ مہارت بھی ہے۔ موجودہ تعلیمی مباحث میں عملی مہارت، ٹیکنالوجی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عمومی تعلیم کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔
مدارس اپنے وسائل اور ماحول کے مطابق اختیاری سطح پر ترجمہ، ڈیجیٹل پبلشنگ، گرافک ڈیزائن، ٹائپنگ، صحافت، کتابت، بنیادی اکاؤنٹنگ، تدریسی مہارت، ویب کی بنیادی تعلیم اور دیگر مناسب کورسز شروع کرسکتے ہیں۔
یہ دینی تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ اضافی صلاحیت اور عملی خود کفالت کا ذریعہ ہوگا۔
اساتذہ: اصلاح کا بنیادی ستون
کوئی بھی نصاب استاد کے بغیر زندہ نہیں ہوسکتا۔
اگر عصری مضامین شامل بھی کردیے جائیں لیکن ان کے لیے تربیت یافتہ اور باصلاحیت اساتذہ موجود نہ ہوں تو اصلاح کاغذ سے آگے نہیں بڑھے گی۔
ضرورت ہے کہ عصری مضامین پڑھانے والے اساتذہ مدرسے کے دینی ماحول اور علمی مزاج کو سمجھیں، اور دینی اساتذہ جدید تدریسی طریقوں، تعلیمی نفسیات، ڈیجیٹل وسائل اور تحقیق کے بنیادی تقاضوں سے واقف ہوں۔
یعنی اصلاح کا راستہ باہمی تصادم نہیں، باہمی تربیت اور علمی تعاون ہے۔
امتحانی نظام: حفظ سے فہم کی طرف
صرف عبارت یاد کرلینا علم کا مکمل ثبوت نہیں۔
طالب علم سے یہ بھی جانچنا چاہیے کہ وہ پڑھی ہوئی چیز کو سمجھتا کتنا ہے، اس کی تشریح کرسکتا ہے یا نہیں، مختلف آرا کا تقابل کرسکتا ہے یا نہیں، دلیل پیش کرسکتا ہے یا نہیں، تحریر کرسکتا ہے یا نہیں اور حاصل شدہ علم کو نئے مسئلے پر منطبق کرسکتا ہے یا نہیں۔
اس لیے مدارس میں امتحان کے ساتھ تشریح، ترجمہ، مضمون نویسی، تحقیق، تقریر، پریزنٹیشن اور عملی اطلاق کو بھی مناسب جگہ ملنی چاہیے۔
لائبریری اور تحقیقی ماحول
ایک مدرسے کی علمی قوت صرف اس کی عمارت یا طلبہ کی تعداد سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اس کی اصل قوت اس کے علمی ماحول میں ہوتی ہے۔
معیاری کتب خانہ، عربی مصادر، اردو علمی ذخیرہ، تحقیقی جرائد، مخطوطات، ڈیجیٹل لائبریری، آن لائن علمی مواد اور مناسب تحقیقی سہولتیں طلبہ میں مطالعہ اور تحقیق کا مزاج پیدا کرسکتی ہیں۔
طالب علم کو صرف کتابیں فراہم کرنا کافی نہیں؛ اسے کتاب استعمال کرنے کا سلیقہ بھی سکھانا ہوگا۔
ایک عملی مثال: الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور
مدارس اور عصری تعلیم کی بحث میں عملی تجربات نظری گفتگو سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی موجودہ ویب سائٹ پر درج نصاب اس سلسلے میں ایک قابلِ مطالعہ مثال فراہم کرتا ہے۔ ادارے کے نصابی تعارف میں ابتدائی سے اعلیٰ درجات تک دینی علوم کے ساتھ مختلف عصری مضامین کی شمولیت کا ذکر ہے۔ اس میں سائنس، حساب، جغرافیہ، ہندی، انگریزی، تاریخ، سیاسیات اور کمپیوٹر جیسے مضامین مختلف درجات میں شامل ہیں۔
اسی ادارے کی ویب سائٹ پر کمپیوٹر مرکز، پروگرامنگ، ڈیزائننگ و کمپوزنگ، اساتذہ کی تربیت اور تحقیقی شعبوں کا بھی ذکر موجود ہے۔
یہ مثال اس لیے اہم ہے کہ اس سے کم از کم یہ واضح ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے عصری علمی صلاحیت کے لیے ادارہ جاتی گنجائش پیدا کرنا عملی طور پر ممکن ہے۔
یہ ماڈل ہر مدرسے کے لیے بعینہٖ قابلِ تقلید قرار دینا ضروری نہیں؛ لیکن یہ ایک قابلِ مطالعہ تجربہ ضرور ہے جس سے دیگر ادارے اپنے حالات کے مطابق رہنمائی لے سکتے ہیں۔
مدارس اور اعلیٰ تعلیم کے درمیان پل
مدارس کے بعض طلبہ کے لیے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ دینی تعلیم کے بعد اعلیٰ عصری تعلیم کے راستے ہمیشہ واضح نہیں ہوتے۔
اس خلا کو کم کرنے کے لیے مدارس اپنے طلبہ کو تسلیم شدہ تعلیمی امتحانات، زبان کے سرٹیفکیٹس، کمپیوٹر سرٹیفکیٹس، تحقیقی تربیت، اوپن لرننگ اور مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے راستوں سے واقف کراسکتے ہیں۔
مقصد ہر مدرسے کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ مدرسے کا طالب علم اپنی علمی استعداد کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم نہ رہے۔
سرکاری جدیدکاری کے تجربات
ہندوستان میں مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین سے جوڑنے کے لیے مختلف ادوار میں سرکاری کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ سرکاری جائزوں میں مدارس کی جدید کاری کے لیے نصاب، اساتذہ، تدریسی مواد، بنیادی ڈھانچے، تربیت اور دیگر امور سے متعلق تجربات اور مشکلات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ان تجربات کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ محض کسی اسکیم یا نصاب کا اعلان تعلیمی اصلاح کے لیے کافی نہیں۔
ضروری ہے کہ اس کے ساتھ:
تربیت یافتہ استاد،
مناسب کتاب،
مسلسل تدریس،
مؤثر نگرانی،
مناسب بنیادی ڈھانچہ،
امتحانی نظام،
اور ادارے کی حقیقی شرکت
بھی موجود ہو۔
ورنہ اصلاح دستاویز میں رہ جاتی ہے اور کلاس روم تک نہیں پہنچتی۔
جدیدیت کے نام پر اپنی شناخت سے محرومی نہیں
عصری تعلیم کی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسری انتہا سے بچنا بھی لازم ہے۔
مدرسہ اگر جدید اسکول کی نقل بن جائے اور قرآن، حدیث، فقہ، عقائد، عربی، اسلامی اخلاق اور دینی تربیت کمزور پڑجائے تو وہ اپنے بنیادی مقصد سے دور ہوسکتا ہے۔
اسی طرح دینی شناخت کے تحفظ کے نام پر طالب علم کو دنیا کے ضروری علوم سے بے خبر رکھنا بھی دانش مندی نہیں۔
اصل راستہ توازن کا ہے:
دینی بنیاد، عصری آگہی، اخلاقی تربیت اور عملی مہارت۔
یہ چاروں عناصر مل کر ایک جامع تعلیمی تصور تشکیل دے سکتے ہیں۔
ایک جامع نصابی تصور
مستقبل کے مدارس کے لیے نصاب کو تین بڑے دائروں میں منظم کیا جاسکتا ہے۔
پہلا دائرہ: بنیادی دینی علوم
قرآن، تجوید، تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عقائد، سیرت، اسلامی تاریخ، عربی زبان و ادب اور اخلاق۔
دوسرا دائرہ: بنیادی عصری علوم
اردو، ہندی یا مقامی زبان، انگریزی، ریاضی، سائنس، جغرافیہ، تاریخ، سماجی علوم، بنیادی معاشیات اور شہری شعور۔
تیسرا دائرہ: مستقبل کی مہارتیں
کمپیوٹر، ڈیجیٹل تحقیق، مصنوعی ذہانت، ابلاغ، صحافت، ترجمہ، تحقیقی طریقۂ کار اور منتخب پیشہ ورانہ مہارتیں۔
ہر طالب علم کو ہر شعبے کا ماہر بنانا مقصود نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ ہر طالب علم کو بنیادی علمی صلاحیت حاصل ہو اور پھر اس کی استعداد و رجحان کے مطابق تخصص کا راستہ کھولا جائے۔
مدارس کے لیے ایک نیا علمی فلسفہ
اصل اصلاح صرف نصاب میں چند مضامین شامل کرنے سے نہیں ہوگی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کا انسان تیار کرنا چاہتے ہیں؟
اگر مطلوبہ انسان صرف امتحان پاس کرنے والا ہے تو حفظ کافی ہوسکتا ہے۔
اگر مطلوبہ انسان صرف روزگار حاصل کرنے والا ہے تو فنی تعلیم کافی ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر مقصد ایسا انسان تیار کرنا ہے جو اپنے رب کو پہچانتا ہو، اپنی علمی روایت سے وابستہ ہو، اخلاقی کردار رکھتا ہو، اپنے زمانے کو سمجھتا ہو، تحقیق کرسکتا ہو، اپنے علم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرسکتا ہو اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو تو پھر دینی گہرائی کے ساتھ عصری شعور، تحقیقی صلاحیت اور عملی مہارت بھی ضروری ہوگی۔

Post a Comment