منقبت در شانِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ
ازقلم: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
کیسے کہوں کہ کیا ہو سرکار غوث اعظم
تصویرِ مصطفیٰ ہو سرکار غوث اعظم
تم شانِ مصطفیٰ ہو سرکار غوث اعظم
تم مظہرِ خدا ہو سرکار غوث اعظم
ہو باغِ مصطفیٰ کے اک پھول تم بھی لیکن
ہر پھول سے جدا ہو سرکار غوث اعظم
آنکھیں ہیں جامِ وحدت، دل چشمۂ حقیقت
حسنِ خدا نما ہو سرکار غوث اعظم
ہر سمت تیری نسبت، ہر سو تری عنایت
تم شاہ اولیاء ہو سرکار غوث اعظم
بے کس کی بے کسی میں تم ہی تو آسرا ہو
محتاج کی ردا ہو سرکار غوث اعظم
جو تیرے در پہ آیا لوٹا کبھی نہ خالی
تم ہی تو آسرا ہو سرکار غوث اعظم
جود و کرم سراپا رحمت عطا مجسم
ہر درد کی دوا ہو سرکار غوث اعظم
تیری نظر پڑے تو پتھر بھی دل بنے ہیں
اک کیمیا نما ہو سرکار غوث اعظم
تم نے جگایا دل کو غفلت کی نیند سے بھی
اک انقلاب سا ہو سرکار غوث اعظم
ذکرِ خدا لبوں پر، عشقِ نبی ہے دل میں
کیا خوب رہنما ہو سرکار غوث اعظم
علم و عمل کے پیکر، تقویٰ کے تاج والے
قطبِ زماں بنا ہو سرکار غوث اعظم
اشکوں سے جب وضو ہو، لب پر درود جاری
دل میں تری ضیا ہو سرکار غوث اعظم
دنیا میں جس نے پایا در کی غلامی تیرے
وہ شخص کیا سے کیا ہو سرکار غوث اعظم
ہم خاک ہیں مگر یہ نسبت ہے شان اپنی
دامن میں خاک پا ہو سرکار غوث اعظم
ہر سانس میں ہو تیرا ذکرِ جمیل جاری
دل تیرا آشنا ہو سرکار غوث اعظم
اپنا نہیں ہے کوئی اتنے بڑے جہاں میں
بس تم ہی آسرا ہو سرکار غوث اعظم
زخموں سے چور ہوکر آیا عطاؔ ہے درپر
مرہم کوئی عطا ہو سرکار غوث اعظم

Post a Comment