تحقیقی مقالہ
مطالعہ و تکرار
علمی ارتقاء، فکری بالیدگی اور مسندِ تدریس کے دو ناگزیر ستون
خلاصۂ مقالہ
کلیدی الفاظ: مطالعہ، تکرار، علمِ راسخ، آدابِ طالب علمی، تدریس، مدارسِ دینیہ، منہجِ تعلیم
۱۔ تمہید: بلاغتِ شعار اور علم کا مقام
کائناتِ گیتی میں انسانی فکر کے ارتقاء، روح کی بالیدگی اور شعور کی صیقل گری کا اگر کوئی دائمی، لاریب اور ابدی وسیلہ متعین کیا جا سکتا ہے، تو وہ مطالعہ اور تکرار کے مابین قائم وہ باہمی تال میل ہے جس کے بغیر علم کبھی رسوخ اختیار نہیں کرتا۔ علم محض اطلاعات کا انبار یا حافظے کے نہاں خانوں میں محفوظ لایعنی نقوش کا نام نہیں، بلکہ وہ نورِ مبین ہے جو قلب و نظر کو جلا بخشتا اور انسان کے باطن کو منور کرتا ہے۔ کتابِ الٰہی کا افتتاحی کلمہ “اِقرأ” محض ایک حکمِ اِبتدائی نہیں، بلکہ تسخیرِ کائنات کی اُس عظیم مہم کا نقطۂ آغاز ہے جو مطالعے کے بغیر ناممکن ہے۔
مطالعہ اگر فکر کی اقلیم میں نئے جزیرے دریافت کرتا ہے، تو تکرار اِن دریافت شدہ حقائق پر یقینِ محکم کی مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے؛ گویا مطالعہ افتتاح ہے اور تکرار اختتام، مطالعہ بیج ہے اور تکرار اُس بیج کی آبیاری۔ تاریخِ انسانی کے ماتھے کا جھومر وہی عباقرہ اور مفکرین بنے جنہوں نے کتاب کو اپنی خلوت و جلوت کا رفیق بنایا اور علمی مباحث کے اعادے کو اپنی روح کی غذا جانا۔ مؤرخِ اسلام علامہ ابن الجوزی اِس علمی پیاس کی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں:
امام فخر الدین رازیؒ بھی اِسی سرمستی کا اعتراف اِن الفاظ میں کرتے ہیں:
اِن اقوال سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ اسلافِ امت کے نزدیک علم کوئی وقتی مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کی معراج اور روح کی بقا کا سامان تھا۔ زیرِ نظر مقالہ اِسی مسلمہ حقیقت کو بنیاد بنا کر مطالعہ اور تکرار کے مباحث کو ایک علمی و تحقیقی اسلوب میں مرتب کرنے کی سعی ہے۔
۲۔ لغوی و اصطلاحی اشتقاق
۲۔۱: مطالعہ (The Analytical Reading)
لغوی تحقیق: مطالعہ عربی زبان کے مادہ “ط ل ع” (طلوع) سے بابِ مفاعلت کا مصدر ہے۔ اِس کے لغوی معنی “کسی شے کے حقائق پر مطلع ہونا”، “غور و خوض کی دوربین سے دیکھنا” اور “پوشیدہ اسرار کو آشکار کرنا” ہیں۔
اصطلاحی تعبیر: علمی کائنات میں، کسی مکتوب یا مسطور کے بطن میں اتر کر مصنف کے تخیل کی پرواز کو پکڑنا، الفاظ کے پیراہن میں چھپے معانی کے حسن کا ادراک کرنا، اور اُس سے فکرِ نو کے زاویے تراشنا “مطالعہ” کہلاتا ہے۔
۲۔۲: تکرار (The Epistemic Iteration)
لغوی تحقیق: تکرار عربی مادہ “ک ر ر” (کرّ وفرّ) سے تفعال کے وزن پر صیغۂ مبالغہ ہے۔ اِس کے معنی “بار بار پلٹنا”، “ایک ہی سرچشمے سے بار بار سیراب ہونا” اور “نقش کو گہرا کرنا” ہیں۔
اصطلاحی تعبیر: تعلیمی اصطلاح میں، حاصل شدہ علوم، اخذ کردہ معارف اور پڑھے ہوئے اسباق کو لوحِ محفوظِ ذہن پر نقشِ کالِحَجَر (پتھر پر لکیر) بنانے کے لیے فہم و شعور کے ساتھ دہرانے کے عملِ مسلسل کا نام “تکرار” ہے۔
لغوی اشتقاق سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ مطالعہ بنیادی طور پر “اِنکشاف” کا عمل ہے جبکہ تکرار “اِستحکام” کا۔ یہی فرق آگے چل کر دونوں کے مابین تکاملی رشتہ متعین کرنے میں معاون ہوگا۔
۳۔ مطالعہ کے فوائد: دل و دماغ کا مرہم اور فکر کی جلا
مطالعہ محض اوراق گردانی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی روح کی آکسیجن، دل و دماغ کی شادابی اور فکری بالیدگی کا لاریب سرچشمہ ہے۔ جب انسان کتاب کے بطن میں غوطہ زن ہوتا ہے، تو اُس کا ذہن روزمرہ کے دنیاوی تفکرات، اعصابی تناؤ اور ذہنی پریشانیوں (Depression & Anxiety) کے قفس سے آزاد ہو کر ایک پرسکون کائنات میں سانس لینے لگتا ہے۔ فرانسیسی مفکر مونٹیسکیو نے اِسی نفسیاتی حقیقت کو اپنے لازوال قول میں یوں سمویا ہے:
کتاب مایوسی کے گھنے اندھیروں میں امید کا چراغ جلاتی ہے اور دماغی خلیوں کو نئی زندگی دیتی ہے۔ فلسفیِ عظیم فرانسس بیکن نے بجا فرمایا تھا کہ “مطالعہ انسان کو ایک کامل شخصیت بناتا ہے”۔ یہ دل کے بند دریچوں کو کھولتا ہے اور انسان کے زاویۂ نگاہ کو اتنی وسعت عطا کرتا ہے کہ وہ اداس خلوتوں میں بھی خود کو کبھی تنہا، مفلس یا بے بس محسوس نہیں کرتا۔ مطالعہ انسان کو زمان و مکان کے قفس سے آزاد کر کے افلاطون، ارسطو، غزالی اور ابنِ خلدون جیسے اذہانِ عالیہ کے ساتھ ہم کلام کر دیتا ہے۔ اِس سے سطحی سوچ کا خاتمہ ہوتا ہے، ذہنی افق وسیع ہوتا ہے، اور انسان اندھی تقلید کے اندھیروں سے نکل کر برہان و دلیل کی روشنی میں سانس لیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ مطالعہ ایک ساتھ تین محاذوں پر کارفرما ہوتا ہے: نفسیاتی سطح پر یہ ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے، فکری سطح پر یہ زاویۂ نگاہ کو وسعت دیتا ہے، اور روحانی سطح پر یہ انسان کو اسلافِ عظام کی معیت میں لا کھڑا کرتا ہے۔
۴۔ تکرار کے فوائد: طالب علمی کا نور اور مسندِ تدریس کا غرور
تکرار طالبِ علم کے لیے زمانۂ طالب علمی میں ایک امینِ حاذق ہے، اور جب وہی طالب علم بالآخر مسندِ تدریس پر متمکن ہوتا ہے تو یہی تکرار اُس کا سب سے بڑا وقار اور غرور بن جاتا ہے۔ دورانِ طالب علمی، تکرار حاصل شدہ معلومات کو لوحِ محفوظِ ذہن پر نقشِ کالِحَجَر بنا دیتا ہے۔ علم کی اِسی حفاظت کے پیشِ نظر امام شافعیؒ کا مشہور قول ہے:
تکرار امتحانی ہال میں کسی قسم کے خوف یا الجھن کو باقی نہیں رہنے دیتا۔ امام ابن شہاب الزہریؒ کا وہ زریں قول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ “علم کی موت نسیان ہے، اور اِس کی زندگی تکرار کے چمنستان میں ہے”۔ اِس کا اصل جلال اُس وقت کھلتا ہے جب یہی طالب علم کل کو مدرس بن کر درسِ نظامی کی مسند پر پڑھانے بیٹھتا ہے۔ تکرار کی بدولت اُس کے پاس علم کا وہ ملکۂ استحضار ہوتا ہے کہ اُسے دورانِ درس کتاب یا شروحات کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امام ابو حنیفہؒ کے مایہ ناز شاگرد امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں:
تکرار کی برکت سے پیچیدہ مسائل اور غامض اسرار استاد کی زبان سے اُس روانی اور اعتماد کے ساتھ جاری ہوتے ہیں کہ مبتدی طلبہ دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ عمل طالب علم کو محض امتحان میں کامیابی تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اُسے ایک ایسا شعلہ بیاں اور صاحبِ استعداد استاد بناتا ہے جس کی علمی ہیبت کا پورا مدرسہ معترف ہوتا ہے۔
۵۔ مطالعہ و تکرار کے پیشگی آداب اور ابجدی شرطیں
علم ایک مغرور معشوق کی مانند ہے: جب تک آپ اُسے اپنا سب کچھ نہیں دے دیتے، وہ آپ کو اپنا کوئی حصہ نہیں دیتا۔ اِس کے حصول کے لیے چند شرائطِ اولیں لازم ہیں:
- تصفیۂ نیت (The Purity of Intent) — نیت کا خلوص علم کی پہلی سیڑھی ہے۔ علم جاہ و جلال، نمائشِ پندار یا معاصرین کو زیر کرنے کے لیے نہ ہو، بلکہ اپنی جہالت کے ازالے اور حقیقتِ حقّہ کی سرفرازی کے لیے ہو۔
- تخلیۂ قلب و ذہن (Cognitive Cleanliness) — مطالعے کی میز پر بیٹھنے سے قبل ذہن کو دنیا کے تمام بکھیڑوں، ڈیجیٹل آلودگی اور فکری انتشار سے پاک کرنا لازم ہے، کیونکہ اگر ذہن کا برتن پہلے ہی گدلا ہو تو علم کا زلالِ ناب اِس میں نہیں ٹھہر سکتا۔
- مکان اور زمان کی سحر انگیزی — مطالعے کے لیے ایسی پرسکون خلوت گاہ کا انتخاب کریں جہاں شور کا گزر نہ ہو۔ ائمہ سلف کے نزدیک “وقتِ سحر” مطالعے کا بادشاہ ہے، کیونکہ اِس وقت صبا کی عطر بیزی ذہن کو جلا بخشتی ہے۔
- شکارِ علم کے آلات — امام شافعیؒ فرماتے تھے کہ “علم ایک شکار ہے اور لکھنا اِس کی قید ہے”۔ لہٰذا قلم، بیاض (نوٹ بک) اور مستند لغات ہمیشہ سامنے ہونی چاہئیں تاکہ ہر نکتہ فوراً قید کیا جا سکے۔
۶۔ انتخابِ کتب کا معروضی منہج
ہر چھپی ہوئی سطر قابلِ مطالعہ نہیں ہوتی، اور ہر کتاب قندِ مکرر نہیں ہوتی۔ انتخابِ کتب کے لیے درج ذیل میزان ضروری ہیں:
منہجِ تدریج (The Graduated Approach): علم میں طفلی سے جوانی کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ مبتدی کو چاہیے کہ وہ ابتداء میں سہل، مختصر اور جامع متون کا انتخاب کرے۔ اگر وہ پہلے ہی دن ضخیم شروح اور گنجلک فلسفیانہ مباحث میں الجھ گیا، تو ذہنی تھکن اُسے علم سے متنفر کر دے گی۔
کتبِ اُم (The Canonical Texts): ہمیشہ ایسی کتب کا انتخاب کریں جنہیں تاریخ نے “امہات الکتب” تسلیم کیا ہو۔ مارکیٹ کے بازاری اور سطحی خلاصہ جات کے بجائے، اُن اساتذہ اور مصنفین کی کتب پڑھیں جن کی علمی دیانت پر وقت کے اکابرین نے مہر لگائی ہو۔
شعبہ جاتی مطابقت: آپ کا جو بھی نصب العین ہو — خواہ وہ علومِ شریعہ ہوں، فلسفہ و منطق ہو یا جدید علوم — اپنے ذوق اور مقصد کے مطابق بہترین اور معتبر ترین کتب کی فہرست مرتب کریں۔
۷۔ مدارس میں تکرار کے رائج غلط طریقے اور اُن کا علمی رد
مدارسِ دینیہ میں تکرار درسِ نظامی کا ایک انتہائی مضبوط ستون رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں چند ناقص طریقے رائج ہو چکے ہیں جن کا رد، اصلاحِ نظام کے لیے ناگزیر ہے:
- محض “عبارت خوانی” اور طوطا چشمی کا رد — بعض حلقوں میں ایک طالب علم تیزی سے کتاب کی عربی عبارت پڑھتا چلا جاتا ہے، اور باقی طلبہ صرف ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ ترجمہ اور مفہوم پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ تکرار نہیں بلکہ محض روانیِ خواندگی کی مشق ہے جو فہم کا حصہ نہیں بن سکتی۔
- “شرح پرستی” اور بیساکھیوں کا سہارا — تکرار کے دوران طلبہ اصل کتاب کے بجائے اردو شروحات سامنے کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں سے دیکھ کر سبق دہرا دیتے ہیں۔ یہ طریقہ طالب علم کی ذاتی سوچ اور عربی سے براہِ راست استفادہ کرنے کی صلاحیت کو اپاہج بنا دیتا ہے، اور وہ کبھی خود سے عبارت حل کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
- “گپ شپ اور وقت گزاری” کی مجلس — تکرار کے نام پر مدرسے کے حالات، سیاست، یا ادھر ادھر کے قصے شروع ہو جاتے ہیں، اور سبق پر صرف چند منٹ سرسری بات ہوتی ہے۔ یہ وقت کی خیانت اور علمی بے برکتی کا سبب ہے۔
- ایک ہی طالب علم کی اجارہ داری — پورے حلقے میں جو سب سے ذہین طالب علم ہوتا ہے، وہی روزانہ پورا سبق پڑھاتا ہے، اور باقی طلبہ خاموش تماشائی بنے سنتے رہتے ہیں۔ اِس سے باقی طلبہ کی جھجک اور علمی پسماندگی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔
۸۔ تکرار کا صائب اور مستند طریقہ کار (متبادل منہج)
اسلافِ صالحین کے منہج کے مطابق، ایک مثالی اور نتیجہ خیز تکرار درج ذیل ترتیب پر مشتمل ہونا چاہیے:
۸۔۱: حلقے کی تشکیل اور تقسیمِ کار
تکرار کے حلقے میں چار سے زیادہ طلبہ نہ ہوں، اور روزانہ سبق پڑھانے کی ذمہ داری کسی ایک پر نہ ہو، بلکہ اُس کے لیے باری مقرر ہو۔ آج اگر ایک طالب علم “مکرِّر” (سبق دہرانے والا) ہے، تو کل دوسرا ہوگا، تاکہ ہر طالب علم میں اظہار اور استحضار دونوں کی صلاحیت پروان چڑھے۔
۸۔۲: حلِ عبارت اور نحوی و صرفی گرفت
جو طالب علم سبق دہرائے، وہ سب سے پہلے اعراب کی صحت کے ساتھ عبارت پڑھے۔ عبارت پڑھنے کے بعد، وہ کسی اردو شرح کو دیکھے بغیر، اُس کا باقاعدہ بامحاورہ ترجمہ کرے اور عبارت میں موجود مشکل نحوی تراکیب یا صرفی صیغوں کی مختصر وضاحت کرے۔
۸۔۳: تقریرِ درس اور دعویٰ و دلیل کا اِستخراج
ترجمہ کرنے کے بعد، مکرِّر طالب علم استاد کے انداز میں سبق کی خلاصہ سازی کرے: وہ یہ واضح کرے کہ مصنف کا دعویٰ کیا ہے، اُس پر مصنف نے کیا دلیل قائم کی ہے، اور اگر اُس پر کوئی اشکال وارد ہوتا ہے تو اُس کا جواب کیا ہے۔
۸۔۴: المذاکرہ اور نقد و نظر
جب مکرِّر اپنی بات مکمل کر لے، تو باقی سننے والے طلبہ گونگے بہرے بن کر نہ بیٹھیں، بلکہ وہ سنجیدہ سوالات اٹھائیں۔ اِس باہمی بحث و تمحیص سے ذہن کی گرہیں کھلتی ہیں، علم راسخ ہوتا ہے، اور طلبہ میں استعداد پیدا ہوتی ہے۔
۹۔ استاد سے کسبِ فیض کا کامل طریقہ کار
استاد کے بغیر علم کی وادیوں میں سفر کرنے والا اُس مسافر کی مانند ہے جو اندھیری رات میں بغیر چراغ کے صحرا کا سفر کرے۔ استاد سے رہنمائی کے آداب درج ذیل ہیں:
سوال کا جلال اور ادب کا جمال: استاد سے بحث برائے بحث یا اظہارِ فضل کے لیے سوال نہ کیا جائے، بلکہ پیاسے کی طرح التجا کی جائے۔ جب استاد کے سامنے اپنا اشکال رکھیں، تو پہلے یہ بتائیں کہ آپ نے اِس مسئلے پر کیا سمجھا ہے اور کہاں الجھن پیش آ رہی ہے۔
موقع اور محل کی رعایت: درس کے دوران بار بار ٹوکنا بے ادبی ہے۔ سبق کے اختتام پر یا استاد کی خلوت کے اوقات میں، نہایت تکریم کے ساتھ اپنا اشکال پیش کریں۔
تسلیم و رضا کا جذبہ: استاد کی رائے اگر آپ کے سطحی فہم کے خلاف ہو، تو سائل کو چاہیے کہ وہ اپنی کم علمی کا اعتراف کرے، نہ کہ استاد کے سامنے حجتیں پیش کرے۔
۱۰۔ خلاصۂ بحث و نتائج
مذکورہ بالا مباحث سے یہ امر متحقق ہوتا ہے کہ مطالعہ اور تکرار دو الگ الگ عمل نہیں بلکہ ایک ہی علمی سفر کے دو باہم پیوستہ مراحل ہیں: مطالعہ فکر کو وسعت دیتا ہے، اور تکرار اُس وسعت کو استحکام بخشتی ہے۔ جو طالب علم محض مطالعہ کرے اور تکرار سے غافل رہے، اُس کا علم سیال پانی کی مانند ہاتھ سے پھسل جاتا ہے؛ اور جو محض تکرار کرے مگر وسیع المطالعہ نہ ہو، اُس کا علم محدود اور سطحی رہ جاتا ہے۔ لہٰذا کامیاب طالبِ علمی اور بالآخر مؤثر تدریس کا راز اِسی دوہرے نظم میں پنہاں ہے: خلوصِ نیت سے سرشار مطالعہ، اور فہم و شعور کے ساتھ منظم تکرار۔ نیز استاد کی معیت اور اُس سے آداب کے ساتھ استفادہ اِس پورے عمل کو تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ مدارسِ دینیہ اگر تکرار کے رائج سطحی طریقوں کو ترک کر کے اِس مقالے میں تجویز کردہ منہج کو اپنائیں، تو یقیناً ایسے فضلاء تیار ہوں گے جو نہ صرف علم کے حامل بلکہ اُس کے صحیح معنوں میں امین اور ناقل بھی ہوں۔
مآخذ و حوالہ جات
علامہ ابن الجوزیؒ — اقوال و ملفوظات، بابِ حبِ العلم و المطالعہ
امام فخر الدین رازیؒ — اقوال و سوانح
امام شافعیؒ — منقولہ اقوال، کتب المناقب
امام ابن شہاب الزہریؒ — منقولہ اقوال بابت حفظِ علم
امام ابو یوسفؒ — منقولہ اقوال بابت آدابِ طالب علمی
Montesquieu (مونٹیسکیو) — منقولہ اقوال بابتِ مطالعہ
Francis Bacon (فرانسس بیکن) — Of Studies

Post a Comment