ہندوستان اور دنیا کے مسلمان: تعلیم، معیشت اور سماجی ترقی کا تقابلی مطالعہ

تحقیقی و تقابلی مطالعہ

ہندوستان اور دنیا کے مسلمان: ایک تقابلی مطالعہ

تعلیم، معیشت اور سماجی ترقی کے آئینے میں ایک تحقیقی جائزہ

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار   |   9341137638
کسی قوم کی حقیقی قوت کا اندازہ صرف اس کی آبادی سے نہیں، بلکہ اس کے علم، انسانی سرمایہ، تعلیمی معیار، معاشی خود کفالت اور اجتماعی کردار سے ہوتا ہے۔

مسلمان دنیا کے مختلف خطوں میں ایک مشترک مذہبی شناخت رکھتے ہیں، لیکن ان کے تعلیمی، معاشی اور سماجی حالات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ کہیں مسلمان جدید تعلیم، تحقیق، طب، انجینئرنگ، تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، کہیں بنیادی تعلیم بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بعض مسلم معاشروں میں دینی اور عصری تعلیم کے درمیان توازن پیدا کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے۔ اس لیے ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کا مطالعہ صرف ہندوستان کی داخلی صورتِ حال تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دنیا کے مختلف مسلم معاشروں کے تجربات کی روشنی میں بھی اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

ہندوستان دنیا کی بڑی مسلم آبادی رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 14.2 فیصد تھا۔ یہ تعداد بذاتِ خود ایک بڑی انسانی قوت کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن کسی قوم یا مذہبی برادری کی حقیقی قوت کا اندازہ صرف اس کی آبادی سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس آبادی میں کتنے افراد معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کتنے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں پہنچ رہے ہیں، کتنے معاشی طور پر خود کفیل ہیں اور کتنے اپنے ملک کی علمی، معاشی اور سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی اور معاشی حالات کے مطالعے میں سچر کمیٹی کی رپورٹ ایک اہم دستاویزی حوالہ ہے۔ 2006 میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ نے مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال، روزگار، معاشی حالات، سرکاری اداروں میں نمائندگی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی سمیت متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔ رپورٹ نے یہ واضح کیا تھا کہ کئی اہم ترقیاتی اشاریوں میں مسلم برادری کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی صورتِ حال پر ملک میں ایک وسیع بحث بھی شروع ہوئی اور پالیسی سازی کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دی گئی۔

تاہم ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال کو صرف خواندگی کی شرح سے سمجھنا کافی نہیں۔ بنیادی خواندگی کے ساتھ تعلیم کا معیار، اسکول سے ثانوی سطح تک تسلسل، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم، ڈیجیٹل خواندگی، تحقیق اور تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے اور دیگر مطالعات سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہندوستان میں مختلف مذہبی اور سماجی گروہوں کے درمیان تعلیمی حصول میں فرق موجود ہے، اگرچہ گزشتہ دہائیوں میں مجموعی طور پر تعلیم کی سطح میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان ایک یکساں معاشرتی اکائی نہیں ہیں۔ کیرالا کے مسلمانوں کے حالات بہار یا اتر پردیش کے مسلمانوں سے مختلف ہوسکتے ہیں، شہری مسلمانوں کے مسائل دیہی مسلمانوں سے مختلف ہیں اور متوسط طبقے کے تعلیمی مواقع غریب خاندانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلم معاشرے کے اندر بھی ایسے خاندانوں اور افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو طب، انجینئرنگ، قانون، تدریس، سول سروس، کاروبار، تحقیق، صحافت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ اس لیے کسی ایک علاقے یا طبقے کے حالات کو پوری مسلم آبادی کی نمائندگی قرار دینا علمی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔

اگر ہندوستانی مسلمانوں کا موازنہ دنیا کے مختلف مسلم معاشروں سے کیا جائے تو صورتِ حال مزید واضح ہوتی ہے۔ عالمی مطالعات کے مطابق مسلمانوں کی تعلیمی سطح مختلف خطوں میں بہت مختلف ہے۔ شمالی امریکا اور یورپ کے مسلمانوں کی اوسط تعلیمی سطح کئی دوسرے خطوں کے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ سب صحارا افریقہ کے بعض مسلم معاشروں میں بنیادی تعلیم تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے مسلم معاشروں میں بھی تعلیمی حالات ملک بہ ملک نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

اس فرق کی وجہ صرف مذہب نہیں ہوسکتی۔ کسی معاشرے کی تعلیمی ترقی پر اس کی اقتصادی حالت، سیاسی استحکام، ریاستی اداروں کی کارکردگی، اسکولوں کی دستیابی، غربت، جغرافیائی حالات، جنگ و بدامنی، خواتین کی تعلیم، شہری و دیہی فرق اور تاریخی عوامل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مذہبی شناخت رکھنے والے دو معاشروں کے تعلیمی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔

مسلم دنیا کے تعلیمی منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نئی نسل کی تعلیم میں مجموعی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں مسلم نوجوانوں کی تعلیمی سطح بہتر ہوئی ہے اور بہت سے مسلم معاشروں میں خواتین نے بھی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے پوری مسلم دنیا کو تعلیمی اعتبار سے پسماندہ قرار دینا درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا میں ایک طرف قابلِ ذکر تعلیمی ترقی ہوئی ہے، دوسری طرف متعدد خطوں میں بنیادی تعلیم، معیارِ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے حوالے سے بڑے خلا بھی موجود ہیں۔

تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں؛ یہ انسانی صلاحیت، فکری آزادی، ہنر اور مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔

یہی تقابلی مطالعہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی کئی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہم تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یا اسے انسانی صلاحیت کی تعمیر کا وسیلہ بھی سمجھتے ہیں؟ آج کی دنیا میں صرف سند حاصل کرنا کافی نہیں۔ جدید معیشت میں کامیابی کے لیے علم کے ساتھ ہنر، تحقیق، تخلیقی صلاحیت، ٹیکنالوجی سے واقفیت، زبان دانی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی استعداد بھی ضروری ہے۔

مسلم معاشرے کے سامنے ایک اور اہم مسئلہ تعلیم اور معیشت کے درمیان کمزور تعلق کا ہے۔ اگر ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد مناسب روزگار یا کاروباری موقع حاصل نہ کرسکے تو تعلیمی نظام کی افادیت محدود ہوجاتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے تعلیمی منصوبوں میں روایتی پیشوں کے ساتھ ساتھ جدید شعبوں کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تجارت، مالیاتی ٹیکنالوجی، میڈیا، ترجمہ، تحقیق اور جدید صنعتوں میں مسلم نوجوانوں کی شرکت آنے والے وقت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دینی تعلیم اور عصری تعلیم کو ایک دوسرے کا حریف نہ سمجھا جائے۔ دینی تعلیم مسلمانوں کی تہذیبی، اخلاقی اور روحانی شناخت کا بنیادی حصہ ہے، جبکہ عصری علوم موجودہ دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ضرورت کسی ایک کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی نہیں بلکہ ایسے تعلیمی ماحول کی ہے جہاں دینی شعور کے ساتھ سائنسی مزاج، تحقیقی صلاحیت، زبان دانی اور عصری مہارتیں بھی پیدا ہوں۔

اس سلسلے میں مدارس کے نظام پر بھی سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔ مدارس نے برصغیر میں دینی علوم کے تحفظ اور اسلامی علمی روایت کی بقا میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، لیکن موجودہ دور کے تقاضے یہ چاہتے ہیں کہ دینی علوم کے ساتھ طلبہ کو ایسی بنیادی عصری مہارتیں بھی حاصل ہوں جو انہیں وسیع معاشرتی اور پیشہ ورانہ میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔ اسی طرح عصری تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم مسلم طلبہ کے لیے دینی اور اخلاقی تربیت کے مناسب مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ یوں ایک ایسا متوازن تعلیمی تصور تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں دین اور دنیا کو باہم متصادم نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف تقاضوں کے طور پر سمجھا جائے۔

مسلم خواتین کی تعلیم بھی اس پورے مسئلے کا بنیادی حصہ ہے۔ کسی معاشرے کی نصف آبادی کو معیاری تعلیم سے محروم رکھ کر اس معاشرے کی مجموعی ترقی ممکن نہیں۔ دنیا کے مختلف مسلم معاشروں کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آتے ہیں تو وہ طب، تدریس، تحقیق، انتظامیہ، قانون، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیتی ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی لڑکیوں کی معیاری اور محفوظ تعلیم کو قومی و معاشرتی ترجیح بنانا ناگزیر ہے۔

اسی طرح تعلیم کے ساتھ معاشی خود کفالت کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ کسی معاشرے کے نوجوان اگر صرف محدود سرکاری ملازمتوں کے منتظر رہیں تو ترقی کے امکانات محدود رہتے ہیں۔ کاروبار، صنعت، ہنر، فری لانسنگ، اسٹارٹ اَپس، ٹیکنالوجی اور خود روزگاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسلم نوجوانوں کی تربیت ضروری ہے۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، اہلِ ثروت افراد اور ماہرینِ تعلیم کو مل کر طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ مسائل کو جذبات کے بجائے اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھا جائے۔ مختلف علاقوں میں اسکول چھوڑنے کی شرح کیا ہے؟ کتنے طلبہ اعلیٰ تعلیم تک پہنچتے ہیں؟ کتنے نوجوان فنی تعلیم حاصل کرتے ہیں؟ خواتین کی تعلیم کی صورتِ حال کیا ہے؟ کتنے خاندانوں کو کاروباری سرمایہ میسر ہے؟ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکول، اسپتال، لائبریری، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کیا صورتِ حال ہے؟ ایسے سوالات کے مقامی اور تازہ اعداد و شمار جمع کیے بغیر کوئی بھی منصوبہ مکمل طور پر مؤثر نہیں ہوسکتا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے صرف محرومیوں کی فہرست پیش کرنا کافی نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ایسے افراد اور ادارے موجود ہیں جو تعلیم، طب، سائنس، کاروبار، قانون، انتظامیہ، صحافت، ادب اور ٹیکنالوجی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اصل ضرورت انفرادی کامیابیوں کو اجتماعی علمی و معاشی قوت میں تبدیل کرنے کی ہے۔ ایک ڈاکٹر کی کامیابی قابلِ قدر ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اگلی نسل کے سو طلبہ کو طب کی تعلیم کے لیے تیار کرنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک کامیاب کاروباری شخص کی کامیابی بھی اہم ہے، مگر اس سے بڑھ کر اہم یہ ہے کہ وہ کتنے نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری تربیت فراہم کرتا ہے۔

دنیا کی موجودہ صورتِ حال یہ بتاتی ہے کہ قوموں کی قوت کا انحصار صرف آبادی، وسائل یا ماضی کی عظمت پر نہیں بلکہ علم، انسانی سرمایہ، ادارہ سازی، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معاشی خود کفالت پر ہوتا ہے۔ مسلم دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات اس حقیقت کی مختلف صورتیں ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ جہاں امن، تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی استحکام کو ترجیح ملی، وہاں ترقی کے امکانات پیدا ہوئے، اور جہاں جنگ، غربت، سیاسی عدم استحکام اور کمزور تعلیمی نظام غالب رہے، وہاں انسانی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔

اس لیے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم دنیا کے دوسرے مسلمانوں سے کتنے آگے یا پیچھے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے کیا عملی منصوبہ رکھتے ہیں۔ ہر بچے کے لیے بنیادی تعلیم، ہر نوجوان کے لیے ہنر، ہر باصلاحیت طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کا راستہ، ہر لڑکی کے لیے معیاری تعلیم، ہر علاقے میں بہتر تعلیمی ادارے، تحقیق کے لیے وسائل اور نوجوانوں کے لیے روزگار و کاروبار کے مواقع—یہ وہ ترجیحات ہیں جن پر سنجیدہ توجہ دی جائے تو صورتِ حال میں دیرپا تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔

قوموں کی ترقی محض تقریروں سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ادارے بنتے ہیں، کتابیں لکھی جاتی ہیں، اسکول قائم ہوتے ہیں، تحقیق کی جاتی ہے، نوجوانوں کو ہنر سکھایا جاتا ہے اور نسل در نسل علمی سرمایہ منتقل کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس ایک عظیم علمی و تہذیبی ورثہ موجود ہے، لیکن کسی بھی ورثے کی حقیقی قدر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب نئی نسل اسے آگے بڑھانے کی صلاحیت پیدا کرے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے میں تعلیم کو صرف فرد کی کامیابی نہیں بلکہ اجتماعی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جائے۔ مسجد کے ساتھ مکتب، مکتب کے ساتھ معیاری اسکول، اسکول کے ساتھ کالج، کالج کے ساتھ تحقیق، تحقیق کے ساتھ صنعت اور صنعت کے ساتھ سماجی خدمت کا ایک مربوط سلسلہ تشکیل پائے۔ بچوں کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ ان کے اسلاف نے کیا کارنامے انجام دیے، بلکہ انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ اپنے زمانے کے مسائل کو سمجھ کر نئے حل کیسے پیدا کرسکتے ہیں۔

ہندوستان اور دنیا کے مسلمانوں کا یہ تقابلی مطالعہ بالآخر اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ حالات خواہ جیسے بھی ہوں، تعلیم اور انسانی صلاحیت کی تعمیر ترقی کا بنیادی راستہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی مستقبل کا راستہ آبادی کی قوت کو علمی قوت، تعلیم کو ہنر، ہنر کو روزگار، روزگار کو معاشی خود کفالت اور خود کفالت کو اجتماعی ترقی میں تبدیل کرنے سے ہموار ہوگا۔

مستقبل کسی قوم کو محض وراثت میں نہیں ملتا؛ اسے علم، کردار، تحقیق، ہنر، نظم و ضبط اور مسلسل جدوجہد سے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے آج یہی بنیادی سوال ہے کہ آنے والی نسل انہیں صرف ایک بڑی آبادی کے طور پر یاد کرے گی یا ایک ایسی علمی، باصلاحیت، خود اعتماد اور تعمیری برادری کے طور پر بھی، جس نے اپنے حالات کو بدلنے کے لیے علم کو اپنا سب سے مؤثر ذریعہ بنایا۔

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post