سیرتِ نبوی ﷺ کا سیاسی پہلو: اسلام میں سیاست کی شرعی حیثیت

سیرتِ نبوی ﷺ کا سیاسی پہلو

اسلام میں سیاست کی شرعی حیثیت اور حضور اکرم ﷺ کی سیاسی و ریاستی زندگی کا تحقیقی مطالعہ

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

تمہید

سیرتِ طیبۂ رسولِ اکرم ﷺ انسانی تاریخ کا وہ عظیم ترین باب ہے جس کا ہر ورق انسانیت کے لیے ہدایت، رہنمائی اور کامیابی کا پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس سے زندگی کے کسی نہ کسی شعبے کے لیے رہنمائی حاصل نہ ہوتی ہو۔ عبادت ہو یا اخلاق، معاشرت ہو یا معیشت، تعلیم ہو یا تربیت، عدل ہو یا قضا، صلح ہو یا جنگ، سفارت ہو یا ریاستی انتظام، ہر میدان میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی سیرتِ پاک ایک کامل اور روشن نمونہ پیش کرتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کو ایک جامع ارشاد میں بیان فرمایا: ’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی پیروی بہتر ہے‘‘ (الأحزاب: 21)۔ جب خود قرآن نے رسولِ اکرم ﷺ کو کامل نمونہ قرار دے دیا تو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا آپ ﷺ کی اجتماعی، سیاسی اور ریاستی زندگی بھی ہمارے لیے اسوہ نہیں؟ اگر آپ ﷺ کی عبادت ہمارے لیے نمونہ ہے، آپ ﷺ کا اخلاق ہمارے لیے نمونہ ہے، آپ ﷺ کی معاشرت ہمارے لیے نمونہ ہے، تو مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کا قائم کردہ اجتماعی نظم، عدل و قضا، معاہدات، سفارت، دفاع، انتظامِ حکومت اور رعایا کے حقوق کی نگہداشت بھی یقیناً سیرتِ طیبہ کا اہم حصہ ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ زمانے میں ’’سیاست‘‘ کا لفظ بہت سے ذہنوں میں ایسے مفاہیم پیدا کرتا ہے جن کا تعلق جھوٹ، فریب، اقتدار کی کشمکش، مفاد پرستی، الزام تراشی اور ذاتی منفعت سے ہے۔ اسی وجہ سے بعض لوگ سیاست کو فی نفسہٖ ایک مذموم چیز سمجھنے لگتے ہیں اور بعض اہلِ علم و علماء کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سیاست سے دور رہنا ہی دینداری کی علامت ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ سیاست اور سیاسی بدعنوانی ایک چیز نہیں۔ سیاست اگر ظلم، دھوکہ، خیانت، جھوٹ اور مفاد پرستی کا نام بن جائے تو بلاشبہ یہ قابلِ مذمت ہے؛ لیکن اگر سیاست سے مراد ملک و ملت کے اجتماعی معاملات کی تدبیر، عدل کا قیام، رعایا کے حقوق کی حفاظت، امن و امان کا انتظام، مظلوم کی داد رسی، قانون و نظم کی پاسداری، معاشرتی اصلاح، دفاعِ وطن، سفارتی معاملات اور اجتماعی مصالح کی نگہداشت ہو تو اسے محض ’’سیاست‘‘ کہہ کر دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اس فرق کو سمجھے بغیر سیرتِ نبوی ﷺ کے سیاسی پہلو کو سمجھنا ممکن نہیں۔

اسلام میں سیاست اور اجتماعی زندگی کا تصور

اسلام نے انسان کو محض ایک عبادت گزار فرد کی حیثیت سے نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک خاندان، معاشرے اور امت کا رکن بھی قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ عدل، امانت، معاملات، تجارت، وراثت، نکاح، طلاق، شہادت، قضا، معاہدات، جنگ و صلح اور اجتماعی ذمہ داریوں کے احکام بھی عطا فرمائے ہیں۔ اگر اسلام صرف مسجد، محراب اور عبادت تک محدود ہوتا تو قرآنِ کریم میں حکمرانوں، اولی الامر، عدل، امانت، فیصلوں، معاہدوں اور اجتماعی ذمہ داریوں سے متعلق اتنی واضح ہدایات موجود نہ ہوتیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’حکم نہیں مگر اللہ کا‘‘ (یوسف: 40)۔ اس ارشاد کا مفہوم یہ نہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو معاذ اللہ کوئی اختیار حاصل نہ تھا، بلکہ اس کا تعلق اس بنیادی حقیقت سے ہے کہ اصل حاکمیت اور تشریع اللہ تعالیٰ کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ کے برگزیدہ رسول، صاحبِ وحی، مبینِ احکام، قاضی، قائد اور واجب الاطاعت ہیں۔ قرآنِ کریم نے خود ارشاد فرمایا: ’’جس نے رسول کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی‘‘ (النساء: 80)۔ اسی طرح فرمایا: ’’اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے‘‘ (النساء: 64)۔ لہٰذا اسلامی تصور میں اللہ تعالیٰ حاکمِ حقیقی ہے اور حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ رسول اور صاحبِ امر ہیں، جن کی اطاعت اللہ تعالیٰ نے لازم فرمائی ہے۔

قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کے منصبِ فیصلہ و حکومت کو اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بیان فرمایا: ’’تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم، یہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے باہمی اختلاف میں تمہیں حاکم نہ مانیں، پھر جو کچھ تم حکم فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے کوئی رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں‘‘ (النساء: 65)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ محض پیغام پہنچانے والے نہیں بلکہ امت کے اجتماعی اختلافات میں فیصلہ فرمانے والے اور واجب الاطاعت حاکم بھی ہیں۔

اسی سلسلے میں قرآنِ کریم کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں‘‘ (النساء: 59)۔ یہاں ’’اولی الامر‘‘ کا ذکر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اجتماعی نظم و نسق، حکومت اور صاحبِ اقتدار کی حیثیت تسلیم شدہ ہے۔ البتہ یہ اقتدار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے تابع ہے، نہ کہ ان سے آزاد اور بے قید۔

اسلام مکمل نظامِ حیات ہے

قرآنِ کریم فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے‘‘ (آل عمران: 19) اور ارشاد ہوتا ہے: ’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ‘‘ (البقرۃ: 208)۔ اس جامع تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو صرف عبادات کے چند مخصوص اعمال تک محدود نہ کرے بلکہ اسلام کی ہدایات کو زندگی کے تمام جائز و متعلقہ شعبوں میں ملحوظ رکھے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر مسلمان نماز پڑھے، روزہ رکھے، حج کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، لیکن معاشرے میں عدل کا نظام نہ ہو، کمزور کا حق محفوظ نہ ہو، ظلم کا سدباب نہ ہو، معاملات میں دیانت نہ ہو، حرام و حلال کی تمیز نہ ہو، معاہدات کی پابندی نہ ہو اور اجتماعی زندگی کے فیصلے ظلم و ناانصافی کے تحت ہوں تو کیا اسلام کی جامع تعلیم پوری ہوگئی؟ ظاہر ہے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی اصلاح بھی چاہتا ہے۔

اسی لیے قرآنِ کریم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا‘‘ (النحل: 90)۔ اور ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں پہنچاؤ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘ (النساء: 58)۔ یہ آیات محض انفرادی اخلاقیات کی تعلیم نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے لیے بھی بنیادی اصول فراہم کرتی ہیں۔

اقتدار اور ’’سلطاناً نصیراً‘‘

رسولِ اکرم ﷺ کی ہجرت کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ایک دعا کی تلقین فرمائی: ’’اور عرض کرو: اے میرے رب! مجھے سچی طرح داخل فرما اور سچی طرح نکال اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ عطا فرما‘‘ (بنی اسرائیل: 80)۔

’’سلطاناً نصیراً‘‘ کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ کی مدد، قوت اور ایسا اقتدار جو حق کے مقصد میں مددگار ہو، سب شامل ہیں۔ یہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں ایک منظم اجتماعی زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مکہ میں مسلمان ایمان اور عقیدے کی تربیت سے گزر رہے تھے، جبکہ مدینہ میں وہ ایک منظم امت اور ریاستی نظم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

یہاں سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اجتماعی قوت بذاتِ خود مذموم نہیں؛ اس کی قدر و قیمت اس مقصد سے متعین ہوتی ہے جس کے لیے اسے استعمال کیا جائے۔ اگر قوت ظلم کے لیے ہو تو مذموم ہے، اور اگر عدل، امن، دفاع، حقوق اور خیر کے قیام کے لیے ہو تو وہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام اور اقتدار

قرآنِ کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا: ’’اے داؤد! بے شک ہم نے تمہیں زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں حق کے ساتھ حکم کرو‘‘ (ص: 26)۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے: ’’اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار دیا‘‘ (یوسف: 56)۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عظیم سلطنت عطا فرمائی اور ان کے اقتدار کے ساتھ علم، حکمت، شکر اور بندگی کو نمایاں فرمایا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت صرف انفرادی عبادت کی تلقین تک محدود نہیں رہی۔ بعض انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکومت و سلطنت بھی عطا فرمائی اور انہیں عدل کے ساتھ حکم کرنے کا حکم دیا۔ لہٰذا اسلام میں اجتماعی نظم اور سیاسی اختیار کوئی اجنبی یا غیر دینی تصور نہیں۔

مکی دور: ایمان اور افراد کی تیاری

حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا مکی دور تقریباً تیرہ برس پر مشتمل ہے۔ یہ دور ایمان، توحید، رسالت، آخرت، اخلاق، صبر، استقامت اور تربیت کا دور تھا۔ اس عرصے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے مثال قربانیاں دیں، ظلم برداشت کیا، شعبِ ابی طالب کی محصوری برداشت کی، ہجرتیں کیں اور ہر طرح کی آزمائشوں سے گزرے۔

مکی دور میں رسولِ اکرم ﷺ نے ایسے افراد تیار فرمائے جو بعد میں مدنی معاشرے اور اسلامی ریاست کی بنیاد بنے۔ اس لیے مدینہ کی سیاسی و ریاستی کامیابی کو مکہ کی تیرہ سالہ ایمانی و اخلاقی تربیت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے انسان تیار ہوئے، پھر معاشرہ بنا، پھر ریاستی نظم قائم ہوا۔

مدینہ منورہ اور اسلامی ریاست کا قیام

ہجرت کے بعد جب حضور اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فوراً اجتماعی زندگی کی تعمیر کا آغاز فرمایا۔ مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہوئی، مدینہ کے مختلف گروہوں کے ساتھ معاہداتی نظم قائم ہوا اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی ایک منظم مرکز کے تحت آگئی۔

مسجدِ نبوی صرف عبادت گاہ نہ تھی بلکہ تعلیم و تربیت، اجتماع، وفود کے استقبال، مشاورت، اجتماعی فیصلوں اور متعدد انتظامی امور کا مرکز بھی تھی۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوی معاشرے میں دین اور اجتماعی زندگی ایک دوسرے سے جدا نہ تھے۔

میثاقِ مدینہ اور ریاستی نظم

مدینہ منورہ میں مختلف قبائل اور مذہبی گروہوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ایک معاہداتی نظم قائم ہوا جسے تاریخی طور پر میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں باہمی ذمہ داریوں، دفاع، امن اور اجتماعی نظم سے متعلق اصول بیان ہوئے۔ اس اقدام سے رسول اللہ ﷺ کی سیاسی بصیرت، انتظامی حکمت اور مختلف گروہوں کو ایک اجتماعی نظم میں منظم کرنے کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔

یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک ایسے شہر میں اجتماعی نظام قائم فرمایا جہاں مختلف قبائل، مذاہب اور مفادات رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے ان اختلافات کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ معاہدات اور ذمہ داریوں کے ذریعے ایک منظم اجتماعی ڈھانچہ قائم فرمایا۔

مواخاتِ مدینہ اور معاشرتی استحکام

مہاجرین مکہ سے اپنا گھر بار اور مال و اسباب چھوڑ کر آئے تھے۔ اگر ان کی معاشی اور معاشرتی بحالی کا انتظام نہ کیا جاتا تو نئی ریاست کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم فرما کر نہ صرف ایک روحانی رشتہ قائم کیا بلکہ معاشرتی تعاون اور معاشی استحکام کی بنیاد بھی رکھی۔

انصار نے ایثار کی بے مثال مثال قائم کی اور مہاجرین نے محنت، تجارت اور خود انحصاری کے ذریعے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی وقت میں مذہبی، معاشرتی، نفسیاتی اور معاشی مسئلے کو حل فرمایا۔

نبوی ریاست میں عدل و قانون

رسول اکرم ﷺ کی ریاستی زندگی کا سب سے نمایاں اصول عدل تھا۔ قرآنِ کریم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘ (النساء: 58)۔

حضور اکرم ﷺ نے حکمران کو بھی جواب دہ قرار دیا۔ صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’تم میں ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ � Sunnah.com

یہ حدیث اسلامی سیاسی فکر کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اقتدار کو حقِ تصرف سے زیادہ ذمہ داری اور جواب دہی قرار دیا گیا ہے۔

شوریٰ: نبوی سیاست کا بنیادی اصول

اسلامی اجتماعی زندگی میں شوریٰ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم اہلِ ایمان کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور ان کا کام آپس کے مشورے سے ہے‘‘ (الشوریٰ: 38)۔ اور رسولِ اکرم ﷺ کو فرمایا گیا: ’’اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو‘‘ (آل عمران: 159)۔

رسول اللہ ﷺ صاحبِ وحی اور معصوم ہونے کے باوجود صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرماتے تھے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر صحابہ سے مشورہ ہوا، غزوۂ احد میں مشاورت ہوئی، اور غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تجویز قبول کی گئی۔ قرآن بھی مشاورت کو اہلِ ایمان کی صفت قرار دیتا ہے۔ � Quran.com

اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ مشورہ قیادت کی کمزوری نہیں بلکہ قیادت کی حکمت ہے۔

اطاعت اور نظمِ اجتماعی

اسلام نے اجتماعی زندگی کو انتشار اور انارکی کے حوالے نہیں کیا۔ قرآنِ کریم نے اللہ، رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا۔ لیکن یہ اطاعت معروف کے دائرے میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ معصیت میں اطاعت نہیں۔

اس طرح اسلامی سیاسی نظام میں نہ تو حکمران کو خدا بنا دیا گیا اور نہ رعایا کو بے نظم چھوڑ دیا گیا۔ ایک طرف حاکم جواب دہ ہے اور دوسری طرف رعایا کو بھی نظم و اجتماع کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ریاستی ذمہ داری اور اہل افراد کا انتخاب

حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ سیاسی و انتظامی اہلیت کی ایک اہم مثال پیش کرتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردے، بے شک میں حفاظت والا علم والا ہوں‘‘ (یوسف: 55)۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی ذمہ داریوں کے لیے اہلیت، علم اور امانت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ان کے مطابق ذمہ داریاں عطا فرمائیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو علمی و قضائی ذمہ داریاں دی گئیں، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عسکری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا گیا اور متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف علاقوں میں انتظامی و دعوتی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ریاست کو اہل، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

دفاعی سیاست اور عسکری تدبیر

رسول اللہ ﷺ کی مدنی زندگی میں دفاعی حکمتِ عملی کا نمایاں کردار ہے۔ بدر، احد، خندق اور دیگر مواقع پر آپ ﷺ نے لشکر کی قیادت فرمائی، کمانڈر مقرر کیے، دفاعی تدابیر اختیار کیں اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی بنائی۔

غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تجویز پر خندق کھودنا اس امر کی مثال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مفید تدبیر کو قبول فرمایا، خواہ وہ کسی دوسرے معاشرے کے تجربے سے حاصل ہوئی ہو۔ غزوۂ احد میں تیر اندازوں کی جگہ اور ذمہ داری متعین کرنا بھی نظم و ضبط کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ سب امور اس بات کی دلیل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ریاستی زندگی میں دفاع، نظم، منصوبہ بندی اور عسکری حکمت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔

معاہدات اور وفائے عہد

نبوی سیاست کا ایک نہایت روشن پہلو وفائے عہد ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: ’’اور عہد پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں سوال ہوگا‘‘ (بنی اسرائیل: 34)۔

صلحِ حدیبیہ اس اصول کی عظیم ترین مثالوں میں سے ہے۔ 6 ہجری میں قریشِ مکہ کے ساتھ جو معاہدہ ہوا، اس کی بعض شرائط صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بظاہر نہایت دشوار تھیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وسیع تر مصلحت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے معاہدہ قبول فرمایا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس معاہدے کی تفصیلات موجود ہیں۔ � Sunnah.com +1

قرآنِ کریم نے اس موقع کی صلح کو ’’فتحِ مبین‘‘ قرار دیا: ’’بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فتح فرمائی‘‘ (الفتح: 1)۔ � Quran.com

یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ سیاسی بصیرت کا مطلب ہر وقت طاقت کا استعمال نہیں بلکہ حالات کو سمجھنا، مذاکرات کرنا، مناسب وقت کا انتظار کرنا اور وسیع تر مقصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا بھی سیاسی حکمت کا حصہ ہے۔

سفارت اور بین الاقوامی تعلقات

مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مختلف قبائل اور بیرونی حکمرانوں سے تعلقات قائم فرمائے۔ مختلف بادشاہوں اور فرمانرواؤں کی طرف دعوتی خطوط ارسال کیے گئے اور سفیر روانہ کیے گئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبوی ریاست دنیا سے الگ تھلگ رہنے والی ریاست نہ تھی بلکہ اپنے عہد کی سیاسی دنیا سے سفارتی اور دعوتی تعلقات رکھتی تھی۔

اس سیاسی و سفارتی طرزِ عمل میں دعوت، حکمت، عزتِ نفس، معاہدہ اور حالات کی رعایت سب موجود تھے۔

صلحِ حدیبیہ: نبوی سیاسی بصیرت کا شاہکار

صلحِ حدیبیہ کا واقعہ اس موضوع پر خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف گئے، قریش نے روک دیا، مذاکرات ہوئے اور بالآخر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت تھیں، مگر رسول اللہ ﷺ نے دور رس نتائج کو پیشِ نظر رکھا۔

صحیح مسلم کی روایت میں معاہدے کے الفاظ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا معاہدہ لکھنا اور قریش کی بعض شرائط کا ذکر موجود ہے۔ � قرآنِ کریم نے بعد میں اسی واقعے کو ’’فتحِ مبین‘‘ قرار دیا۔ � Sunnah Quran.com

یہ واقعہ آج کے سیاسی مفہوم میں بھی ایک عظیم اصول سامنے رکھتا ہے کہ ہر کامیابی فوری اور ظاہری فتح کی صورت میں نہیں آتی؛ کبھی حکمت پر مبنی وقتی پسپائی مستقبل کی بڑی کامیابی کا راستہ کھول دیتی ہے۔

فتحِ مکہ اور سیاسی اقتدار کا اخلاقی استعمال

جب مکہ فتح ہوا تو وہی لوگ سامنے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو برسوں تک اذیتیں دی تھیں۔ لیکن اقتدار ملنے کے بعد آپ ﷺ نے محض انتقام کو سیاست کا مقصد نہیں بنایا۔ فتحِ مکہ آپ ﷺ کے اخلاق، عفو، رحمت اور اقتدار کے پاکیزہ استعمال کی عظیم مثال بن گئی۔

یہاں نبوی سیاست کا ایک انتہائی بلند اصول سامنے آتا ہے کہ اقتدار کا حقیقی امتحان کمزوری کے زمانے میں نہیں، طاقت کے زمانے میں ہوتا ہے۔

حجۃ الوداع اور عالمگیر انسانی اصول

حجۃ الوداع میں رسول اکرم ﷺ نے انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت کو واضح فرمایا، جاہلی عصبیتوں کو ختم کیا، سودی معاملات کی ممانعت بیان فرمائی، عورتوں کے حقوق کی تاکید فرمائی اور انسانی اخوت کی بنیاد مضبوط کی۔

یہ خطبہ محض ایک مذہبی خطاب نہ تھا بلکہ انسانی معاشرے کے لیے ایک عظیم اخلاقی اور اجتماعی منشور تھا، جس میں انسان کی جان، مال، عزت، خاندان اور معاشرتی حقوق کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

نبوی سیاست میں علماء کا مقام

یہاں وہ سوال سامنے آتا ہے جو ہمارے موجودہ معاشرے کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے: اگر رسول اللہ ﷺ نے اجتماعی زندگی کی قیادت فرمائی، عدل قائم فرمایا، فیصلے کیے، معاہدات کیے، سفارت کی، دفاع کیا، لشکر کی قیادت فرمائی، معاشی نظم قائم کیا اور رعایا کے حقوق کی حفاظت فرمائی تو کیا دین کے علماء اور اہلِ علم اجتماعی معاملات سے مکمل طور پر کنارہ کش رہیں؟

اس سوال کا جواب سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے میں پوشیدہ ہے۔ البتہ اس بات کو بھی واضح رہنا چاہیے کہ سیاست میں آنا اور سیاسی اخلاق سے محروم ہوجانا ایک چیز نہیں۔ اگر سیاست جھوٹ، فریب، رشوت، ظلم اور ذاتی مفاد کا نام بن جائے تو اس سے بچنا لازم ہے؛ لیکن اگر اجتماعی معاملات میں عدل، اصلاح، عوامی حقوق، امن، تعلیم، معاشرتی بہبود اور ظلم کے سدباب کے لیے کردار ادا کرنا مقصود ہو تو اسے صرف ’’سیاست‘‘ کے نام سے دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔

علماء اگر اپنے علم، تقویٰ، بصیرت، امانت اور دینی اصولوں کے ساتھ اجتماعی میدان میں رہنمائی کریں تو ان کا کردار محض اقتدار کی دوڑ کا کردار نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرے کو خیر، عدل اور اخلاق کی طرف لے جانے والا کردار ہونا چاہیے۔

اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عالم کا سیاست میں داخل ہونا ضروری نہیں، جیسے ہر سیاست دان کا عالم ہونا ضروری نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کو اہل، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کی رہنمائی حاصل ہو، اور اہلِ علم معاشرے کے اجتماعی مسائل سے بے خبر اور لاتعلق نہ ہوجائیں۔

سیاست سے فرار نہیں، سیاست کی اصلاح

آج سیاست کے میدان میں بہت سے ایسے مظاہر موجود ہیں جو اسلامی اخلاق کے خلاف ہیں۔ جھوٹ، الزام تراشی، وعدہ خلافی، مفاد پرستی اور باہمی دشمنی سیاست کو بدنام کرتے ہیں۔ لیکن اس خرابی کا علاج یہ نہیں کہ تمام اہلِ علم، دیانت دار اور صالح لوگ اجتماعی میدان چھوڑ دیں اور اسے صرف مفاد پرست لوگوں کے لیے خالی چھوڑ دیں۔

اگر سیاست ایک ایسا میدان ہے جس میں ملک کے قوانین بنتے ہیں، تعلیم کی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں، معاشی فیصلے ہوتے ہیں، عوام کے حقوق متعین ہوتے ہیں، امن و امان کے معاملات طے ہوتے ہیں اور معاشرے کی سمت متعین ہوتی ہے تو اہلِ علم کا ان معاملات سے مکمل بے تعلق ہوجانا ایک سنجیدہ اجتماعی مسئلہ بن سکتا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ اجتماعی معاملات سے فرار نبوی طریقہ نہیں؛ بلکہ اجتماعی معاملات کو حق، عدل، حکمت اور دیانت کے ساتھ سنبھالنا نبوی اسوہ کا حصہ ہے۔

نبوی سیاست: اقتدار نہیں، امانت

حضور اکرم ﷺ کی سیاست کا سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اقتدار کو ذاتی ملکیت نہیں بنایا۔ آپ ﷺ کے نزدیک حکومت ذمہ داری تھی، امانت تھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا ذریعہ تھی۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔‘‘ � Sunnah.com

اس حدیث کو اگر اجتماعی زندگی کا بنیادی اصول بنایا جائے تو سیاست کا پورا تصور بدل جاتا ہے۔ پھر سیاست اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں رہتی بلکہ لوگوں کی ذمہ داری اٹھانے کا نام بن جاتی ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ اور موجودہ دور

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاست کو صرف اس کے موجودہ خراب مظاہر سے نہ پہچانیں بلکہ اس کے اصل مفہوم کو سمجھیں۔ سیاست کا مطلب اگر لوگوں کے معاملات کی تدبیر اور اجتماعی نظم ہے تو اس میدان کو خیر اور اصلاح کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر یہ میدان باطل مفادات کے ہاتھ میں چلا جائے تو معاشرے کے اخلاقی اور اجتماعی فیصلے بھی اسی رخ پر جاسکتے ہیں۔

اسی لیے اہلِ علم، دانشوروں، دینی شخصیات اور صالح افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اجتماعی معاملات سے بے خبر نہ رہیں۔ انہیں سیاست کے ہر غلط طریقے کی تائید نہیں کرنی، بلکہ سیاست کے میدان میں اخلاق، دیانت، عدل اور دینی بصیرت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔

یہاں ’’سیاست میں آنا‘‘ کا مطلب لازماً ہر عالم کا انتخابی سیاست میں حصہ لینا نہیں؛ بلکہ اجتماعی معاملات میں دینی بصیرت کے ساتھ مؤثر کردار ادا کرنا بھی اس کے وسیع مفہوم میں شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم جو اہلِ علم سیاسی ذمہ داری قبول کریں ان کے لیے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا اخلاقی معیار سب سے بڑی رہنمائی ہے۔

اختتامیہ

سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کا سیاسی پہلو محض ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ اسلام کی جامعیت کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مکہ میں ایمان و عقیدہ کی بنیاد مضبوط کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک منظم معاشرہ قائم فرمایا؛ مسجدِ نبوی کو مرکز بنایا، مہاجرین و انصار میں مواخات قائم کی، مختلف گروہوں کے ساتھ معاہدات کیے، عدل و قضا کا نظام قائم کیا، اہل افراد کو ذمہ داریاں عطا فرمائیں، دفاعی نظام منظم کیا، جنگ و صلح کے مراحل سے حکمت کے ساتھ گزرے، بین الاقوامی تعلقات قائم کیے، صلحِ حدیبیہ جیسے عظیم سیاسی معاہدے کیے، فتحِ مکہ کے موقع پر اقتدار کو عفو و رحمت کے ساتھ استعمال کیا اور حجۃ الوداع میں انسانی معاشرے کے بنیادی حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح فرمایا۔

لہٰذا یہ کہنا کہ دین صرف مسجد اور عبادت تک محدود ہے اور اجتماعی معاملات، حکومت، قانون، عدل، معیشت، دفاع اور سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ کے مدنی دور کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ آج کی سیاست میں پائی جانے والی بعض خرابیوں کو دیکھ کر سیاست کے پورے میدان کو ہی شرعی اعتبار سے مذموم قرار دے دیا جائے۔ جھوٹی سیاست مذموم ہے، ظلم کی سیاست مذموم ہے، فریب کی سیاست مذموم ہے، مفاد پرستی کی سیاست مذموم ہے؛ لیکن عدل، امانت، اصلاح، رعایا کی خدمت، حقوق کی حفاظت اور اجتماعی خیر کے لیے سیاسی و ریاستی کردار کو اسی ترازو میں نہیں تولا جاسکتا۔

حضور اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ہمیں یہ عملی نمونہ عطا فرمایا کہ دین انسان کی انفرادی زندگی کو بھی سنوارتا ہے اور اجتماعی زندگی کو بھی۔ محراب بھی اسی دین کا حصہ ہے اور عدالت بھی؛ عبادت بھی اسی دین کا حصہ ہے اور رعایا کی خدمت بھی؛ ذکر و تسبیح بھی اسی دین کا حصہ ہے اور عدل و انصاف بھی۔

اس لیے آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ اہلِ علم کو محض ’’سیاست‘‘ کے نام سے اجتماعی زندگی سے دور کردیا جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو نبوی اخلاق سے جوڑا جائے، اقتدار کو امانت سمجھا جائے، حکمرانی کو خدمت بنایا جائے، قانون کو عدل کا تابع کیا جائے اور اجتماعی زندگی کو صدق، امانت، شوریٰ اور خوفِ خدا کے اصولوں پر استوار کرنے کی کوشش کی جائے۔

سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا پیغام یہی ہے کہ اجتماعی میدان کو باطل کے لیے خالی چھوڑ دینا مطلوب نہیں؛ بلکہ جہاں انسانوں کے اجتماعی معاملات ہوں وہاں حق، عدل، امانت اور خیر کی آواز موجود رہنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے، اور ہم پر لازم ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کو صرف پڑھیں نہیں بلکہ سمجھیں بھی، اور اپنی زندگی کے ہر ممکن دائرے میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوبِ کریم، رحمتِ عالم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت، کامل ادب اور اتباع نصیب فرمائے، ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، اجتماعی معاملات میں عدل و امانت کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے علماء و اہلِ علم کو بصیرت اور حکمت عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ایسا اجتماعی شعور عطا فرمائے جس میں دین، علم، اخلاق، عدل اور خدمتِ خلق باہم مربوط ہوں۔

**آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔**

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post