علمِ عروض
مفہوم، تاریخی ارتقا، ارکان و بحور، زحافات و علل اور تقطیع کا تحقیقی مطالعہ
شعر انسانی اظہار کی قدیم ترین اور مؤثر ترین صورتوں میں سے ہے۔ عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں شعر کی ایک بنیادی پہچان اس کا وزن اور آہنگ ہے، یعنی الفاظ کا ایک مخصوص صوتی نظام میں ڈھلا ہوا ہونا۔ یہ وزن محض اتفاقی کیفیت نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ علمی ضابطے کے تابع ہے، اور اسی ضابطے کے علم کو علمِ عروض کہا جاتا ہے۔ جس طرح علمِ نحو کلام کو لحن اور اعرابی غلطیوں سے محفوظ رکھتا ہے، اسی طرح علمِ عروض شعر کو بے وزنی اور بے آہنگی سے بچاتا ہے۔
علمِ عروض کی اہمیت صرف شعراء تک محدود نہیں، بلکہ تفسیر، حدیث، لغت اور ادب کے طلبہ کے لیے بھی یہ علم مفید ہے۔ عرب کے قدیم اشعار لغوی اور نحوی شواہد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اور ان کی صحیح قراءت و تفہیم میں وزن کی معرفت معاون ثابت ہوتی ہے۔ برصغیر میں اردو شاعری، بالخصوص حمد، نعت، منقبت اور سلام کی وسیع روایت کے پیشِ نظر علمِ عروض کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس علم سے واقفیت شاعر کو فنی پختگی عطا کرتی ہے اور اس کے کلام میں وزن، روانی اور آہنگ پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
علمِ عروض کا مفہوم اور وجہِ تسمیہ
لغوی مفہوم
عروض عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے متعدد معانی کتبِ لغت میں مذکور ہیں۔ ان میں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے علاقے، کسی چیز کی درمیانی لکڑی یا ستون، راستہ اور طریقہ وغیرہ شامل ہیں۔ اہلِ علم نے ان معانی اور علمِ عروض کے مابین مختلف مناسبتیں بیان کی ہیں۔
وجہِ تسمیہ کے اقوال
اس فن کو عروض کہنے کی وجوہ کے بارے میں اہلِ فن کے متعدد اقوال ہیں:
- ایک قول یہ ہے کہ امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ نے اس علم کو مکہ مکرمہ میں مرتب کیا، اور مکہ سے نسبت کی بنا پر اسے عروض کہا گیا۔
- دوسرے قول کے مطابق جس طرح خیمے کو سہارا دینے والی درمیانی لکڑی اس کی بنیاد اور استحکام کا ذریعہ ہوتی ہے، اسی طرح علمِ عروض شعر کے وزن کی بنیاد ہے۔
- تیسرے قول کے مطابق عروض کے معنی راستے اور طریقے کے ہیں، اور یہ علم شعر کے وزن کو پہچاننے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
- چوتھے قول کے مطابق شعر کے پہلے مصرع کے آخری رکن کو عروض کہا جاتا ہے۔ اس رکن کی اہمیت کے پیشِ نظر پورے فن کا نام بھی عروض قرار پایا۔
ان اقوال میں سے کسی ایک کو قطعی قرار دینا مشکل ہے، تاہم اہلِ علم کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ علمِ عروض کی تدوین امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ سے منسوب ہے۔
اصطلاحی تعریف
اصطلاح میں علمِ عروض وہ علم ہے جس کے ذریعے شعر کے اوزان، یعنی بحور، ان کے ارکان، ان میں ہونے والی جائز تبدیلیوں، یعنی زحافات و علل، اور وزن کے صحیح یا فاسد ہونے کے اصول معلوم کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض اہلِ فن نے اسے میزانِ شعر قرار دیا ہے؛ یعنی وہ پیمانہ جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوئی مصرع موزوں ہے یا ناموزوں۔
علمِ عروض کا موضوع، غرض اور حکم
علمِ عروض کا موضوع شعر کا وہ صوتی اور وزنی ڈھانچہ ہے جو حروف کی حرکت و سکون اور ان سے تشکیل پانے والے ارکان کی ترتیب سے وجود میں آتا ہے۔ اس علم میں کلام کے معنی، خیال کی گہرائی یا زبان کی فصاحت و بلاغت بنیادی موضوع نہیں، بلکہ اس کا تعلق شعر کے وزن اور آہنگ سے ہے۔ معنی و بیان کے یہ پہلو بلاغت اور نقدِ ادب کے دائرے میں آتے ہیں۔
علمِ عروض کی اہم غایات درج ذیل ہیں:
- موزوں اور ناموزوں کلام میں امتیاز کرنا۔
- شعر کی بحر اور اس کے ارکان کی شناخت کرنا۔
- شاعر کو وزن کی غلطیوں سے محفوظ رکھنا۔
- قدیم اشعار کی صحیح قراءت میں مدد دینا۔
- نثر اور شعر کے مابین فنی فرق کو سمجھنا۔
- مختلف روایتوں میں منقول اشعار کے الفاظ کے انتخاب میں، جہاں مناسب ہو، وزن سے استفادہ کرنا۔
شعر کی شرعی حیثیت اور علمِ عروض کا حکم
چونکہ علمِ عروض کا تعلق شعر سے ہے، اس لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شعر کی حیثیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ قرآنِ کریم میں سورۂ شعراء کے اندر ارشاد فرمایا گیا ہے:
﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾
ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔
(الشعراء: 224)
اسی سورت کے آخر میں اہلِ ایمان اور نیک عمل کرنے والے شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے:
﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾
ترجمہ: مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور مظلوم ہونے کے بعد اپنا دفاع کیا۔
(الشعراء: 227)
اسی طرح نبی کریم ﷺ سے منقول ہے:
«إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»
ترجمہ: بے شک بعض اشعار حکمت پر مشتمل ہوتے ہیں۔
(صحیح البخاری)
ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ شعر کا حکم اس کے مضمون، مقصد اور اثر کے اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے۔ جو شعر توحید، رسالت، حکمت، اخلاق اور خیر کی دعوت پر مشتمل ہو، وہ قابلِ تحسین ہوسکتا ہے، جبکہ فحش، جھوٹ، باطل اور گمراہی پر مشتمل شعر قابلِ مذمت ہے۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے دفاع میں اشعار کہتے تھے، اور حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کا مشہور قصیدہ ’’بانت سعاد‘‘ بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا۔ یہ واقعات اسلامی تہذیب میں شعر کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
چنانچہ علمِ عروض بذاتِ خود ایک مفید فنی علم ہے۔ اس کے حصول اور استعمال کی قدر و حیثیت اس کے مقصد اور استعمال سے وابستہ ہے۔
علمِ عروض کا تاریخی ارتقا
علمِ عروض سے پہلے کا دور
عربوں میں شعر کہنے کی روایت اسلام سے بہت پہلے موجود تھی۔ عہدِ جاہلیت کے شعراء اپنے فطری ذوق، سماعی تربیت اور زبان پر قدرت کی بنیاد پر اشعار کہتے تھے۔ ان کے یہاں اوزان کی روایت موجود تھی، اگرچہ وہ کسی مدون علمی نظام کی صورت میں مرتب نہیں ہوئی تھی۔
اسلام کے بعد جب عربی زبان کے علوم کی تدوین کا عمل آگے بڑھا تو شعر کے اوزان کو بھی منظم اصولوں کے تحت مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی علمی ضرورت کے نتیجے میں علمِ عروض کی تدوین ہوئی۔
امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ
علمِ عروض کی تدوین کا سہرا بصرہ کے مشہور عالم امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ (متوفیٰ تقریباً 170ھ) کے سر ہے۔ روایات کے مطابق انہوں نے عرب کے فصیح اشعار کا استقرائی مطالعہ کیا، ان میں موجود مشترک صوتی نمونوں کو شناخت کیا اور اوزان کو باقاعدہ اصولوں کے تحت مرتب کیا۔
انہوں نے پندرہ بحور کو مرتب کیا اور انہیں پانچ عروضی دائروں میں تقسیم کیا۔ ان دائروں کی مدد سے مختلف بحور کے باہمی تعلق اور ان کے صوتی ڈھانچوں کو سمجھنا ممکن ہوا۔ امام خلیل کی علمی خدمات صرف عروض تک محدود نہیں، بلکہ لغت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ کتاب العین ان سے منسوب معروف لغوی تصنیف ہے۔
امام خلیل کے پانچ عروضی دائرے یہ ہیں:
- دائرۂ مختلفہ
- دائرۂ مؤتلفہ
- دائرۂ مجتلبہ
- دائرۂ مشتبہ
- دائرۂ متفقہ
امام اخفش اوسط اور بعد کا ارتقا
امام خلیل کے بعد اہلِ علم نے علمِ عروض کو مزید ترقی دی۔ امام اخفش اوسط رحمہ اللہ کی طرف سولہویں بحر، یعنی متدارک، کے اضافے کی نسبت کی جاتی ہے۔ اس طرح عروضِ عربی میں بحور کی معروف تعداد سولہ ہوگئی۔
بعد کے ادوار میں ابنِ جنی، خطیب تبریزی اور دیگر اہلِ علم نے عروض و قافیہ پر مستقل تصانیف مرتب کیں۔ ان کتابوں کے ذریعے اس فن میں شرح، تحقیق، تعلیم اور اصطلاحی توضیح کی ایک وسیع روایت قائم ہوئی۔
فارسی اور اردو میں علمِ عروض
فارسی شاعری نے عربی عروض کو اختیار کیا، لیکن اپنی زبان کے صوتی مزاج کے مطابق اس میں بعض اضافے اور تبدیلیاں بھی پیدا ہوئیں۔ فارسی عروض و قافیہ کی روایت میں شمس قیس رازی کی تصنیف المعجم فی معاییر اشعار العجم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
برصغیر میں فارسی کی علمی و ادبی روایت کے ذریعے عروض اردو شاعری تک پہنچا۔ اردو شعراء نے عربی و فارسی بحور سے استفادہ کیا اور اپنی زبان کے مزاج کے مطابق ان کے مختلف اوزان کو رواج دیا۔ اس کے ساتھ اردو شاعری میں ہندی اوزان کی ایک مستقل روایت بھی پروان چڑھی۔
اردو عروض کے سلسلے میں نجم الغنی رامپوری کی بحر الفصاحت اور شمس الرحمن فاروقی کی عروض، آہنگ اور بیان جیسی کتابیں اہم مراجع میں شمار ہوتی ہیں۔
عروض کے بنیادی عناصر
علمِ عروض ایک منظم علمی نظام ہے۔ اس کی بنیادی اکائی حرف ہے۔ حروف کی حرکت و سکون سے عروضی اجزاء تشکیل پاتے ہیں، ان اجزاء سے اسباب و اوتاد اور دیگر اکائیاں بنتی ہیں، پھر ان کی ترتیب سے ارکان وجود میں آتے ہیں، اور ارکان کی مخصوص ترتیب سے بحور بنتی ہیں۔
حرفِ متحرک اور حرفِ ساکن
عروض میں حروف کو بنیادی طور پر حرکت و سکون کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔
- حرفِ متحرک: وہ حرف جس پر زبر، زیر یا پیش ہو۔
- حرفِ ساکن: وہ حرف جس پر سکون ہو یا جو صوتی اعتبار سے ساکن شمار ہو۔
تقطیع کا بنیادی اصول یہ ہے کہ لفظ کو اس کے درست تلفظ کے مطابق دیکھا جائے، محض اس کی تحریری صورت کے مطابق نہیں۔ اس لیے وہ حروف جو لکھے جاتے ہیں لیکن بولے نہیں جاتے، بعض صورتوں میں شمار نہیں ہوتے، جبکہ تلفظ میں موجود ایسی آوازیں بھی شمار ہوتی ہیں جنہیں تحریر میں الگ حرف کی صورت میں ظاہر نہیں کیا جاتا۔
اسباب، اوتاد اور فواصل
حروف کے مخصوص مجموعوں سے عروضی اکائیاں بنتی ہیں، جنہیں اسباب، اوتاد اور فواصل کہا جاتا ہے۔
1۔ سببِ خفیف: دو حروف پر مشتمل اکائی، جس میں پہلا متحرک اور دوسرا ساکن ہو۔
2۔ سببِ ثقیل: دو متحرک حروف پر مشتمل اکائی۔
3۔ وتدِ مجموع: تین حروف کی اکائی، جس میں دو متحرک حروف کے بعد ایک ساکن ہو۔
4۔ وتدِ مفروق: تین حروف کی اکائی، جس میں متحرک، ساکن اور پھر متحرک حرف ہو۔
5۔ فاصلۂ صغریٰ: چار حروف کی اکائی، جس میں تین متحرک اور ان کے بعد ایک ساکن ہو۔
6۔ فاصلۂ کبریٰ: پانچ حروف کی اکائی، جس میں چار متحرک اور ان کے بعد ایک ساکن ہو۔
ان اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے عروضی ارکان کی عملی مثالوں اور تقطیع کی مشق سے مدد لی جاتی ہے۔
افاعیل: بنیادی ارکان
اسباب، اوتاد اور دیگر عروضی اجزاء کی ترتیب سے جو وزنی اکائیاں بنتی ہیں، انہیں افاعیل یا ارکان کہا جاتا ہے۔ رکن کی جمع ارکان ہے، جبکہ تفعیلہ بھی اسی مفہوم میں مستعمل ہے۔
عروض کے بنیادی سالم ارکان آٹھ ہیں:
- فَعُولُنْ
- فَاعِلُنْ
- مَفَاعِیلُنْ
- فَاعِلَاتُنْ
- مُسْتَفْعِلُنْ
- مُتَفَاعِلُنْ
- مُفَاعَلَتُنْ
- مَفْعُولَاتُ
اردو عروض میں ان ارکان کو سمجھانے کے لیے طویل اور مختصر صوتی اجزاء کی علامتیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ اس طریقے میں عموماً 1 مختصر اور 2 طویل صوتی جز کی علامت ہوتا ہے۔ ان علامتوں کی درست تفہیم تقطیع کے عمل کو آسان بناتی ہے۔
بحر کی ساخت اور اس کا نام
جب کسی رکن یا متعدد ارکان کو ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ مصرع میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس وزنی ترتیب کو بحر کہا جاتا ہے۔ بحر کی شناخت اس کے بنیادی ارکان اور ان کی ترتیب سے ہوتی ہے۔
ارکان کی تعداد کے اعتبار سے چند معروف اصطلاحات یہ ہیں:
- مربع: پورے شعر میں چار ارکان، یعنی ہر مصرع میں دو۔
- مسدس: پورے شعر میں چھ ارکان، یعنی ہر مصرع میں تین۔
- مثمن: پورے شعر میں آٹھ ارکان، یعنی ہر مصرع میں چار۔
- مضاعف: ارکان کی تعداد کو دوگنا کرنے والی صورت کے لیے مستعمل اصطلاح۔
بحر کے مکمل نام میں عموماً بحر کا بنیادی نام، ارکان کی تعداد اور ارکان کی کیفیت بیان کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’بحرِ ہزج مثمن سالم‘‘ سے مراد ہزج کی وہ صورت ہے جس میں شعر کے دونوں مصرعوں میں مجموعی طور پر آٹھ ارکان ہوں اور ارکان اپنی سالم بنیادی صورت میں ہوں۔
عروض اور ضرب
شعر کے پہلے مصرع کے آخری رکن کو عروض اور دوسرے مصرع کے آخری رکن کو ضرب کہا جاتا ہے۔ پہلے مصرع کے ابتدائی رکن کو صدر اور دوسرے مصرع کے ابتدائی رکن کو ابتدا کہتے ہیں، جبکہ ان کے درمیان آنے والے ارکان حشو کہلاتے ہیں۔
عروضی اصطلاحات میں زحافات اور علل کی مدد سے ارکان کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے استعمال کے قواعد کا تعلق متعلقہ بحر اور رکن کی ساخت سے ہوتا ہے۔
خلیل کی بحور کا اجمالی تعارف
عروضِ عربی کی معروف سولہ بحور اور ان کے بنیادی ارکان کا اجمالی تعارف درج ذیل ہے:
| بحر | بنیادی ارکان کی ترتیب |
|---|---|
| طویل | فعولن، مفاعیلن |
| مدید | فاعلاتن، فاعلن |
| بسیط | مستفعلن، فاعلن |
| وافر | مفاعلتن |
| کامل | متفاعلن |
| ہزج | مفاعیلن |
| رجز | مستفعلن |
| رمل | فاعلاتن |
| سریع | مستفعلن، مستفعلن، مفعولات |
| منسرح | مستفعلن، مفعولات، مستفعلن |
| خفیف | فاعلاتن، مستفعلن، فاعلاتن |
| مضارع | مفاعیلن، فاعلاتن |
| مقتضب | مفعولات، مستفعلن |
| مجتث | مستفعلن، فاعلاتن |
| متقارب | فعولن |
| متدارک | فاعلن |
یہ جدول بحور کی بنیادی شناخت کے لیے ہے؛ ہر بحر کی مکمل ساخت اور اس کی فروعی صورتوں کو سمجھنے کے لیے متعلقہ ارکان کی تکرار، ترتیب اور عروضی قواعد کا مطالعہ ضروری ہے۔
بحور کے ناموں کے بارے میں اہلِ علم نے مختلف مناسبتیں بیان کی ہیں۔ مثلاً طویل، بسیط اور متقارب جیسے نام ان بحور کی ساخت یا اجزاء کے باہمی تعلق سے متعلق توضیحات کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ اصطلاحات صدیوں سے عروضی روایت میں رائج ہیں۔
زحافات اور علل
علمِ عروض میں ارکان کی بعض مخصوص تبدیلیوں کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ متعلقہ بحر کے اصولوں کے مطابق ہوں۔ ان تبدیلیوں کی دو بنیادی قسمیں ہیں: زحاف اور علت۔
زحاف ایسی عروضی تبدیلی کو کہتے ہیں جو مخصوص قواعد کے مطابق رکن کے بعض اجزاء میں واقع ہوتی ہے۔ یہ حشو، عروض یا ضرب میں آسکتی ہے۔
علت ایسی مخصوص تبدیلی ہے جو عموماً عروض یا ضرب، یعنی مصرع کے آخری رکن، میں واقع ہوتی ہے۔ اس کے استعمال کے قواعد متعلقہ بحر اور شعری روایت کے مطابق سمجھے جاتے ہیں۔
اہم زحافات
1۔ خبن: مخصوص رکن میں دوسرے ساکن حرف کو حذف کرنے کی تبدیلی، مثلاً فاعلاتن سے فعِلاتن اور مستفعلن سے مفاعلن کی صورتیں۔
2۔ طی: مخصوص صورت میں چوتھے ساکن حرف کے حذف سے متعلق تبدیلی۔
3۔ قبض: مخصوص صورت میں پانچویں ساکن حرف کے حذف سے متعلق تبدیلی، جیسے فعولن کی بعض فروعی صورتیں۔
4۔ کف: مخصوص صورت میں ساتویں ساکن حرف کے حذف سے متعلق تبدیلی۔
5۔ خرم: بعض ارکان، بالخصوص مفاعیلن، کے آغاز میں مخصوص تبدیلی، جس کے نتیجے میں مختلف فروعی صورتیں سامنے آتی ہیں۔
6۔ اضمار: متفاعلن میں مخصوص دوسرے متحرک حرف کو ساکن کرنے کی تبدیلی، جس سے مستفعلن جیسی وزنی صورت حاصل ہوتی ہے۔
اہم علل
1۔ حذف: رکن کے آخری سببِ خفیف کو گرا دینے کی تبدیلی، جس سے فعولن، فاعلاتن اور مفاعیلن جیسے ارکان کی بعض فروعی صورتیں بنتی ہیں۔
2۔ قصر: آخری سببِ خفیف کے ساکن کو حذف کرکے اس سے پہلے کے متحرک کو ساکن کرنے کی تبدیلی۔
3۔ قطع: وتدِ مجموع کے آخری ساکن کو حذف کرکے ماقبل متحرک کو ساکن کرنے کی تبدیلی۔
ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ایک ہی بنیادی بحر کی متعدد فروعی شکلیں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً بحرِ ہزج کی سالم صورت میں مفاعیلن کے ارکان آتے ہیں، جبکہ زحافات و علل کے استعمال سے اسی بحر کی مختلف مزاحف صورتیں بھی وجود میں آتی ہیں۔
زحافات کے استعمال کے لیے باقاعدہ ضوابط ہیں۔ ہر زحاف ہر رکن میں جائز نہیں ہوتا، اور بعض تبدیلیوں کا ایک ہی رکن میں اجتماع بھی مخصوص قواعد کا پابند ہوتا ہے۔ ان تفصیلات کے لیے مستند کتبِ عروض کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
تقطیع کا طریقہ
تقطیع کے لغوی معنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں شعر کے مصرع کو اس کے صوتی اجزاء میں تقسیم کرکے ان اجزاء کا وزن معلوم کرنے اور انہیں عروضی ارکان پر منطبق کرنے کے عمل کو تقطیع کہا جاتا ہے۔
تقطیع شعر کے وزن کی شناخت کا بنیادی عملی طریقہ ہے۔ اس کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ مصرع کس بحر میں ہے اور اس کے ارکان کی ترتیب کیا ہے۔
تقطیع کرتے وقت درج ذیل اصولوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
- تلفظ کی رعایت: تقطیع کی بنیاد تحریر کے بجائے درست تلفظ پر ہوتی ہے۔ جو حرف بولا نہیں جاتا، اسے عموماً شمار نہیں کیا جاتا۔
- تشدید کی رعایت: مشدد حرف کو صوتی اعتبار سے دو حروف کے برابر شمار کیا جاتا ہے؛ ایک ساکن اور دوسرا متحرک۔
- نونِ غنہ: اردو عروض میں نونِ غنہ کی گنتی کے سلسلے میں مخصوص اصول ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔
- ہائے مخلوط: بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ اور گھ جیسی مرکب آوازوں کو ان کے صوتی نظام کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔
- ہائے ملفوظی و مخفی: جو ہاء تلفظ میں ادا ہو اور جو محض تحریری صورت میں آئے، ان کے فرق کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔
- اضافت اور واؤ عطف: ان کی آوازوں کا شمار درست تلفظ اور متعلقہ عروضی اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔
- حروفِ علت کا اسقاط: بعض مخصوص صورتوں میں حروفِ علت کے اسقاط کی گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن یہ اجازت قواعد کی پابند ہے۔ محض وزن پورا کرنے کے لیے ہر جگہ کسی حرف کو گرا دینا درست نہیں۔
عملی مثال: بحرِ ہزج مثمن سالم
مرزا غالب کا مشہور شعر ہے:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اس شعر کو بحرِ ہزج مثمن سالم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس بحر کی بنیادی وزنی ساخت مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ہے۔
تاہم اس شعر کی تقطیع کرتے وقت ہر لفظ کے تلفظ، نونِ غنہ، واؤ معدولہ اور دیگر صوتی پہلوؤں کی درست رعایت ضروری ہے۔ صرف مصرع کو چار حصوں میں تقسیم کردینا کافی نہیں؛ ہر حصے کے صوتی اجزاء کا متعلقہ رکن سے مطابقت رکھنا بھی لازم ہے۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ علمِ عروض محض ارکان کے نام یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ الفاظ کے صحیح تلفظ، صوتی ساخت اور وزنی ترتیب کو عملی طور پر سمجھنے کا فن ہے۔
اردو شاعری کی چند معروف بحریں
اردو شاعری میں عربی عروض کی تمام بحور یکساں طور پر رائج نہیں ہوئیں۔ غزل اور نظم میں ہزج، رمل، رجز، متقارب، متدارک، خفیف، مضارع اور مجتث جیسی بحور کی مختلف صورتیں بکثرت ملتی ہیں۔
چند معروف شعری مثالیں یہ ہیں:
- بحرِ ہزج: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔
- بحرِ رمل: نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا۔
- بحرِ رمل کی ایک معروف صورت: ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔
- بحرِ خفیف کی ایک معروف صورت: دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے۔
- بحرِ مضارع کی ایک معروف صورت: کوئی امید بر نہیں آتی۔
ان مثالوں میں بحر کی شناخت کے لیے مکمل مصرع کی تقطیع اور ارکان کی ترتیب دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ صرف ایک مصرع نقل کرنے سے بحر کی تمام فنی تفصیلات واضح نہیں ہوتیں۔
اردو شاعری میں ہندی اوزان کی بھی ایک مستقل روایت موجود ہے۔ ان اوزان میں مصرع کی صوتی ترتیب، مقدار اور وقفوں کو ہندی پنگل یا چھند کے اصولوں کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ میر تقی میر سمیت متعدد شعراء کے کلام میں ایسی وزنی روایتوں کے آثار ملتے ہیں۔ یہ موضوع مزید تفصیلی تحقیق کا متقاضی ہے۔
عروضی عیوب
شعر میں وزن اور آہنگ کے اعتبار سے پیدا ہونے والی خامیوں کو عروضی عیوب کہا جاتا ہے۔ ان میں چند بنیادی عیوب درج ذیل ہیں:
- مصرع کا کسی معروف بحر کے وزن سے خارج ہوجانا۔
- ایسے زحاف کا استعمال جو متعلقہ مقام پر عروضی قواعد کے مطابق جائز نہ ہو۔
- حرفِ علت یا کسی دوسرے حرف کو بلاجواز ساقط کردینا۔
- وزن پورا کرنے کے لیے لفظ کو اس کے معروف اور درست تلفظ کے خلاف پڑھنا۔
- کسی غزل یا نظم میں بلاجواز بحر تبدیل کردینا۔
- ارکان کی ایسی تقسیم کرنا جس سے لفظ کے درمیان غیر فطری وزنی وقفہ پیدا ہو اور مصرع کی روانی متاثر ہو۔
ان عیوب سے بچنا شاعر کی فنی مہارت کا اہم حصہ ہے۔ شعر کی اصلاح کے لیے وزن کی درست شناخت، تلفظ کی صحت اور عروضی قواعد کی پابندی ضروری ہے۔
علمِ عروض اور قرآنِ کریم
قرآنِ کریم کا اسلوب شعر سے ممتاز ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ﴾
ترجمہ: اور ہم نے انہیں شعر نہیں سکھایا اور نہ یہ ان کے شایانِ شان ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور روشن قرآن ہے۔
(یٰس: 69)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم شعر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام اور اپنی مستقل اسلوبی خصوصیات کا حامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا شاعر ہونا بھی قرآنِ کریم کی بیان کردہ حقیقت کے خلاف ہے۔
بعض اوقات قرآنِ کریم کی کسی عبارت یا حدیثِ نبوی کے چند الفاظ اتفاقاً کسی شعری وزن سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال غزوۂ حنین کے موقع پر نبی کریم ﷺ سے منقول یہ الفاظ ہیں:
«أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»
ترجمہ: میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
اسی طرح ایک موقع پر یہ الفاظ بھی منقول ہیں:
«هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ»
ان مثالوں سے یہ اصول سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کسی کلام کا اتفاقاً کسی وزن سے مشابہ ہوجانا اور اس کا باقاعدہ شعر ہونا ایک ہی بات نہیں۔ اس لیے علمِ عروض کی معرفت وزن کی شناخت میں مدد دیتی ہے، تاہم قرآنِ کریم کی حقیقت اور اس کے اسلوب کی تفہیم کے لیے علومِ قرآن اور تفسیر سے رجوع بھی ضروری ہے۔
علمِ عروض سیکھنے کا طریقہ
علمِ عروض کو محض نظری مباحث کے ذریعے مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے لیے مرحلہ وار تعلیم اور مسلسل عملی مشق ضروری ہے۔ ایک طالب علم درج ذیل ترتیب اختیار کرسکتا ہے:
- پہلے مرحلے میں حروفِ متحرک و ساکن اور تلفظ کی بنیاد پر حروف کی گنتی کے اصول سمجھے۔
- دوسرے مرحلے میں اسباب، اوتاد اور بنیادی ارکان کا مطالعہ کرے۔
- تیسرے مرحلے میں اردو شاعری میں رائج بحور، مثلاً ہزج، رمل، رجز، متقارب، متدارک، خفیف، مضارع اور مجتث سے واقفیت حاصل کرے۔
- چوتھے مرحلے میں زحافات و علل اور ان کے ذریعے پیدا ہونے والی فروعی صورتوں کو سمجھے۔
- پانچویں مرحلے میں معروف شعراء کے اشعار کی تقطیع کی مشق کرے۔
- چھٹے مرحلے میں عروضی عیوب کی شناخت اور اپنے یا دوسرے شعراء کے کلام کی اصلاح کی مشق کرے۔
بعض لوگ علمِ عروض کو ایک مشکل اور ثقیل فن سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، حالانکہ درست رہنمائی، بنیادی اصولوں کی تفہیم اور مسلسل مشق کے ذریعے اسے بتدریج سیکھا جاسکتا ہے۔ اس فن میں مہارت کے لیے محض ارکان کے نام یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے عملی استعمال کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
حاصلِ بحث
علمِ عروض شعر کے وزن، اس کے ارکان اور بحور کی شناخت اور ان کے صحیح یا غلط استعمال کو سمجھنے کا ایک اہم فنی علم ہے۔ اس کی تدوین امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ سے منسوب ہے، جبکہ بعد کے اہلِ علم نے اسے مزید ترقی دی۔ اس علم کی بنیاد حروف کی حرکت و سکون، اسباب و اوتاد، افاعیل اور بحور پر قائم ہے، اور زحافات و علل کے ذریعے ایک ہی بحر کی مختلف صورتیں وجود میں آتی ہیں۔
فارسی اور اردو شاعری نے عربی عروض سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی لسانی ضروریات اور صوتی مزاج کے مطابق اسے اختیار کیا۔ اردو شاعری میں عربی و فارسی بحور کے ساتھ ہندی اوزان کی روایت بھی اہم مقام رکھتی ہے۔
دینی نقطۂ نظر سے شعر کی قدر و حیثیت اس کے مضمون اور مقصد کے مطابق متعین ہوتی ہے۔ حمد، نعت، منقبت اور سلام جیسی اصناف میں وزن اور آہنگ کی معرفت شاعر کے لیے اہم فنی معاون ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم کے اسلوب اور شعر کے مابین فرق کو سمجھنے میں بھی عروضی مباحث ایک خاص پہلو سے معاون ثابت ہوتے ہیں۔
لہٰذا علمِ عروض کو محض وزن ناپنے کا ایک فنی پیمانہ سمجھنا کافی نہیں، بلکہ اسے اردو ادب، لسانیات، شعری روایت اور اصلاحِ سخن کی ایک اہم علمی شاخ کے طور پر مطالعے میں رکھنا چاہیے۔ اس کی صحیح تعلیم شاعر کے ذوق کو جلا بخشتی ہے، کلام کی فنی خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے اور شعر کے صوتی حسن کو سمجھنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
اہم مصادر و مراجع
- القرآن الکریم۔
- صحیح البخاری۔
- الکافی فی العروض والقوافی — خطیب تبریزی۔
- الوافی فی العروض والقوافی — خطیب تبریزی۔
- کتاب العروض — ابنِ جنی۔
- العمدۃ فی محاسن الشعر وآدابہ — ابنِ رشیق قیروانی۔
- المعجم فی معاییر اشعار العجم — شمس قیس رازی۔
- بحر الفصاحت — نجم الغنی رامپوری۔
- عروض، آہنگ اور بیان — شمس الرحمن فاروقی۔
- اردو و فارسی عروض پر متداول درسی و تحقیقی کتب۔

Post a Comment