قدیم اردو اور جدید اردو: فرق، ارتقا اور لسانی خصوصیات

قدیم اردو اور جدید اردو: لسانی ارتقا، اسلوبیاتی تبدیلیاں اور تہذیبی تناظر

تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

زبانیں دریاؤں کی طرح ہوتی ہیں۔ دور سے دیکھیے تو ایک ساکت لکیر، قریب جائیے تو ہر لمحہ بدلتی ہوئی روانی۔ جو دریا بہنا چھوڑ دے وہ جوہڑ بن جاتا ہے، اور جو اپنے کناروں کو بھول جائے وہ سیلاب۔ اردو کی تاریخ اسی بہاؤ اور اسی کنارے کے مکالمے کی داستان ہے۔ یہ محض لفظوں کے بدلنے اور جملوں کے نئے سانچوں میں ڈھلنے کا قصہ نہیں، برصغیر کے تہذیبی، سماجی، علمی اور فکری سفر کی ایک طویل روداد ہے۔

آج کا قاری جب میر امن کی نثر یا فسانۂ عجائب کی عبارت آرائی کھولتا ہے تو اسے ایک ایسی دنیا ملتی ہے جو آشنا بھی ہے اور اجنبی بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی اور زبان تھی؟ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ قدیم اور جدید اردو دو الگ زبانیں نہیں، ایک ہی لسانی روایت کے دو تاریخی پڑاؤ ہیں۔ پہلے نے بنیاد رکھی، دوسرا اسی بنیاد پر اپنے عہد کی عمارت اٹھا رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم انہی دونوں پڑاؤوں کے فرق، رشتے اور امکانات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

۱۔ ایک ضروری وضاحت: ’قدیم‘ اور ’جدید‘ سے کیا مراد ہے؟

لسانیات میں ’قدیم اردو‘ کی اصطلاح عموماً اس ابتدائی دور کے لیے برتی جاتی ہے جس میں اردو ابھی اپنی شکل بنا رہی تھی۔ ہمارے ہاں عام گفتگو میں اس سے مراد وہ کلاسیکی دور بھی لیا جاتا ہے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اوائل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ’قدیم‘ سے یہی وسیع اور عملی مفہوم مراد ہے، یعنی دکنی دور سے لے کر دہلی و لکھنؤ کی کلاسیکی روایت تک۔ ’جدید‘ سے مراد انیسویں صدی کے وسط سے آج تک کی وہ اردو ہے جو جدید تعلیم، چھاپہ خانے، صحافت اور سائنسی و سماجی علوم کے زیرِ اثر ڈھلی۔

یاد رہے کہ ان ادوار کی حد بندی کوئی دیوار نہیں، ایک دھندلی سی لکیر ہے۔ تاریخ میں کوئی صبح ایسی نہیں گزری جب لوگ سو کر اٹھے ہوں اور اردو ’قدیم‘ سے ’جدید‘ ہو چکی ہو۔

۲۔ قدیم اردو کا تاریخی پس منظر

اردو کی بنیاد ہند آریائی ہے۔ اس کا قواعدی ڈھانچا، یعنی افعال، ضمائر، حروفِ جار اور بنیادی ذخیرہ، شمالی ہند کی کھڑی بولی اور اس کے آس پاس کی بولیوں سے آیا۔ فارسی، عربی اور ترکی نے اس کے ذخیرۂ الفاظ کو مالا مال کیا، مگر قواعد کی ریڑھ کی ہڈی ہند آریائی ہی رہی۔ اس لیے اردو کو محض ’مختلف زبانوں کی کھچڑی‘ کہنا درست نہیں۔ یہ ایک مربوط زبان ہے جس نے مختلف سرچشموں سے لفظ لے کر انہیں اپنے نحوی نظام میں گھلا لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ’اردو‘ کا لفظ ترکی ’اوردو‘ (لشکر، پڑاؤ) سے نکلا ہے۔ گویا زبان کے نام ہی میں اختلاط اور میل جول کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔

اس زبان کو مختلف زمانوں میں ہندوی، ہندی، دکنی، گجری، ریختہ اور زبانِ ہندوستان جیسے ناموں سے یاد کیا گیا۔ ’اردو‘ کا نام ادبی حلقوں میں خاص طور پر اٹھارویں صدی کے اواخر میں رواج پایا۔ ابتدائی ادبی نقوش کے بارے میں محققین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ امیر خسرو سے منسوب ہندوی کلام کی صحت پر اہلِ تحقیق احتیاط برتتے ہیں، جب کہ دکن میں گولکنڈہ، بیجاپور اور احمد نگر کے درباروں میں اردو شاعری اور نثر کا باقاعدہ ادبی سرمایہ ملتا ہے۔ ملا وجہی کی سب رس اور قلی قطب شاہ کا دیوان اسی روایت کے نمایاں نشان ہیں۔

شمالی ہند میں ولی دکنی کے دیوان کی آمد کو دہلی کے شعرا کے لیے ایک مہمیز مانا جاتا ہے۔ اس روایت کی تفصیلات پر اختلافِ رائے موجود ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ اٹھارویں صدی میں دہلی اور بعد ازاں لکھنؤ نے ریختہ کو محاورے، روزمرہ اور شعری آداب کی وہ بلند سطح عطا کی جو آج کلاسیکی اردو کہلاتی ہے۔

قدیم اردو کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ فارسی اسلوب، عربی تراکیب اور مقامی محاورے ایک ہی عبارت میں جلوہ گر ہوتے تھے۔ نثر میں مسجع و مقفیٰ جملے، طویل تراکیب اور عبارت آرائی کو ہنر سمجھا جاتا تھا، جس کی ایک مثال رجب علی بیگ سرور کی فسانۂ عجائب (۱۸۲۴ء کے لگ بھگ) ہے۔

۳۔ جدید اردو کا ظہور: ایک تاریخی موڑ

انیسویں صدی اردو نثر کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ چھاپہ خانے کی آمد، اخبارات کا فروغ، انگریزی سے رابطہ، جدید علوم کے تراجم اور اصلاحی تحریکوں نے اظہار کے سانچے بدل دیے۔

فورٹ ولیم کالج (۱۸۰۰ء) میں سادہ اور رواں نثر کی باقاعدہ کوششیں ہوئیں۔ میر امن کی باغ و بہار اسی ادارے کی دین ہے جو فارسی قصۂ چہار درویش کے اردو ترجمے کے طور پر مقبول ہوئی، اور جس کی زبان دہلی کے روزمرہ کی خوشبو لیے ہوئے ہے۔ دہلی کالج اور اس سے وابستہ ترجمے کی سرگرمیوں نے علمی نثر کو سہارا دیا۔ پھر سرسید احمد خان اور ان کے رفقا نے نثر کو غیر ضروری تکلف سے نکال کر وضاحت، استدلال اور مقصدیت کی راہ پر ڈالا۔

اس عمل میں مرزا غالب کے خطوط کا ذکر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنے خطوط میں مکتوب نگاری کی روایتی بھاری بھرکم القاب و آداب کو ترک کر کے گفتگو کا رنگ پیدا کیا۔ ان کا مشہور جملہ ہے کہ میں نے وہ اندازِ تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ یہ جملہ صرف ایک ادیب کا دعویٰ نہیں، پوری اردو نثر کے سفر کا خلاصہ ہے: تحریر کو بولنے کے قریب لانا۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ اردو کی ادبی لطافت ختم ہو گئی، بلکہ اظہار کا میدان پھیل گیا۔ اب اردو صرف داستان، قصیدہ اور غزل کی زبان نہ رہی، تاریخ، سائنس، فلسفہ، صحافت، سیاست اور سماجی علوم کی زبان بھی بن گئی۔

۴۔ بنیادی فرق: لفظیات سے اسلوب تک

(الف) ذخیرۂ الفاظ

قدیم اردو میں فارسی و عربی الاصل الفاظ و مرکبات کا تناسب زیادہ تھا۔ جدید اردو میں ان کے ساتھ ہندی الاصل الفاظ اور انگریزی کے مستعار الفاظ بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ چند روایتی اور عام فہم تعبیرات کا موازنہ دیکھیے:

روایتی تعبیر عام فہم تعبیر
حسبِ ارشادآپ کے کہنے کے مطابق
ازاں بعداس کے بعد
بہ موجبکے مطابق
بایں ہمہاس کے باوجود
حسبِ سابقپہلے کی طرح
فی الفورفوراً
اکتسابِ علمعلم حاصل کرنا
تبادلۂ خیالاتخیالات کا تبادلہ

یہاں ایک احتیاط لازم ہے۔ یہ جدول الفاظ کے ’درست‘ اور ’غلط‘ ہونے کا فیصلہ نہیں سناتا، نہ ہی دائیں خانے کے لفظ ہر مقام پر بائیں خانے کے لفظ کے ہم معنی ہیں۔ مثلاً نامۂ اعمال ایک دینی اصطلاح ہے اور رقعہ، عریضہ اور مراسلہ کے درمیان سیاق و سباق کے لطیف فرق ہیں، اس لیے انہیں سادہ ’خط‘ کا مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان میں سے بیشتر الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ فرق ان کی موجودگی کا نہیں، استعمال کے ماحول اور تناسب کا ہے۔

(ب) جملوں کی ساخت

قدیم نثر میں طویل جملے، متعدد ضمنی فقرے اور فارسی تراکیب کا رجحان نمایاں تھا، جب کہ جدید نثر اختصار، وضاحت اور براہِ راست اظہار کو ترجیح دیتی ہے۔ ذیل کی مثالیں قدیم طرزِ تحریر کی ترجمانی کے لیے وضع کی گئی ہیں، یہ کسی تاریخی متن کے اقتباس نہیں:

قدیم طرز: بندہ پرور! عرصۂ دراز سے آپ کی زیارتِ بابرکت کا اشتیاق دل میں موجزن ہے، مگر حالات کی نامساعدت کے باعث یہ تمنا ہنوز تشنۂ تکمیل ہے۔

جدید طرز: محترم! کافی عرصے سے آپ سے ملاقات کی خواہش ہے، لیکن حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔

قدیم طرز: بایں ہمہ، اہلِ علم و دانش کی متفقہ رائے ہے کہ حصولِ علم کے بغیر تعمیرِ معاشرہ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

جدید طرز: اس کے باوجود اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ تعلیم کے بغیر بہتر معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔

مفہوم دونوں میں یکساں ہے، مگر پہلی عبارت قاری کو سجی ہوئی ڈیوڑھی سے گزار کر مطلب تک لاتی ہے اور دوسری سیدھا دروازے پر کھڑا کر دیتی ہے۔

(ج) محاورہ اور آدابِ گفتگو

قدیم اردو میں تہذیبی رکھ رکھاؤ زبان کے ہر موڑ پر جھلکتا تھا۔ ’قدم رنجہ فرمائیے‘ اور ’شرفِ ملاقات بخشیے‘ جیسی تعبیرات صرف دعوت نہیں تھیں، میزبان اور مہمان کے رشتے کا آداب نامہ تھیں۔ آج ’تشریف لائیے‘ اور ’ملاقات کے لیے وقت نکالیے‘ جیسے سادہ جملے اسی خدمت کو کم لفظوں میں انجام دیتے ہیں۔ دونوں اپنی جگہ درست ہیں، فرق مخاطب، موقع اور مزاج کا ہے۔

۵۔ نثر کے معمار: ایک مختصر خاکہ

جدید اردو نثر کسی ایک شخص کی تخلیق نہیں۔ یہ کئی ہاتھوں سے بنی ہوئی عمارت ہے:

  • میر امن دہلوی: باغ و بہار میں دہلی کے محاورے، روزمرہ اور مکالماتی لطف کی دل کش مثالیں ملتی ہیں۔
  • غالب: خطوط کے ذریعے نثر کو بول چال کی آنچ دی اور مراسلے کو مکالمہ بنایا۔
  • سرسید احمد خان: علمی، اصلاحی اور استدلالی نثر کو مؤثر بنایا۔
  • ڈپٹی نذیر احمد: مراۃ العروس (۱۸۶۹ء) جیسے ناولوں میں گھریلو زندگی اور اخلاقی اصلاح کو موضوع بنا کر نثر کو عام زندگی سے جوڑا۔
  • محمد حسین آزاد: آبِ حیات (۱۸۸۰ء) اور نیرنگِ خیال میں تخیل، منظر نگاری اور خطیبانہ رنگ ملتا ہے۔ ان کا اسلوب بتاتا ہے کہ قدیم سے جدید کی طرف سفر سیدھا اور یک رخا نہیں تھا۔
  • الطاف حسین حالی: مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۳ء) کے ذریعے اردو تنقید کو سنجیدہ بنیاد دی۔

ان سب کے مطالعے سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جدید اردو نثر کا آغاز کسی ایک مصنف سے نہیں ہوا، بلکہ ادارہ جاتی، تعلیمی اور سماجی تحریکوں کے اشتراک سے ایک ارتقائی عمل کے طور پر ظہور میں آیا۔

۶۔ شاعری میں قدیم اور جدید کی کشمکش اور مفاہمت

شاعری میں فرق صرف لفظ کا نہیں، موضوع، علامت، ہیئت اور فکری ترجیح کا ہے۔ قدیم غزل کا جہان عشق، ہجر، وصال، رقیب، ساقی، مے خانہ، گل و بلبل اور شمع و پروانہ سے آباد تھا۔ میر کے ہاں یہ جہان اس سادگی کے ساتھ ملتا ہے:

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا — میر تقی میر

جدید دور میں ہیئت اور موضوع کا دائرہ پھیلا۔ ۱۸۷۴ء کے لگ بھگ لاہور میں انجمنِ پنجاب کے تحت محمد حسین آزاد اور حالی کی سرپرستی میں موضوعاتی نظم کی تحریک اٹھی، جس نے فطرت، اخلاق اور سماج کو شاعری کا موضوع بنایا۔ بعد ازاں آزاد نظم اور نثری نظم نے اظہار کے مزید امکانات کھولے۔ اقبال کے ہاں غزل کی قدیم ہیئت میں بھی ایک نیا فکری افق کھلتا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں — علامہ اقبال

دونوں اشعار غزل کی ایک ہی ہیئت میں ہیں، مگر پہلا جذبے کی سادہ بے ساختگی لیے ہوئے ہے اور دوسرا جذبے کو ایک فکری اور تعمیری رخ دیتا ہے۔ یوں فرق ہیئت کا نہیں، نگاہ کا ہے۔ یہاں مقصود شعرا کو قدیم اور جدید کے خانوں میں بانٹنا نہیں، یہ دکھانا ہے کہ اردو شاعری نے کلاسیکی حسن کو سنبھالے رکھ کر نئے افق بھی دریافت کیے۔ غالب کا یہ شعر اسی احساس کی ترجمانی کرتا ہے:

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور — مرزا غالب

آج بھی غزل اپنی فنی نزاکت، عروضی نظم و ضبط اور تہذیبی لطافت کے باعث اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔

۷۔ املا، تلفظ اور رسم الخط

چھاپہ خانوں، اخبارات، تعلیمی اداروں اور لغت نویسی نے املا کو بتدریج معیار بخشا۔ پہلے کتابت اور علاقے کے لحاظ سے اختلافات زیادہ تھے، آج لغات اور نصابی کتب نے ایک عمومی معیار قائم کر دیا ہے۔

رسم الخط کے بارے میں ایک بات صاف رہنی چاہیے: اردو بنیادی طور پر فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور نستعلیق اس کی پہچان ہے۔ البتہ ڈیجیٹل دور نے ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے، یعنی رومن اردو، جو موبائل، پیغام رسانی اور سوشل میڈیا میں عام ہے۔ ہندوستان میں بعض حلقوں میں اردو کو دیوناگری میں بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ سب فوری رابطے کے وسیلے ہیں، مگر علمی، ادبی اور تعلیمی تحریر کے لیے اردو رسم الخط کا کوئی حقیقی بدل نہیں، کیونکہ اردو کی صوتیات اور ادبی روایت اسی رسم الخط میں محفوظ ہے۔

۸۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے اثرات

جدید اردو میں انگریزی کے الفاظ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معیشت اور ذرائعِ ابلاغ کے راستے داخل ہوئے ہیں۔ ہر مستعار لفظ زبان کے لیے زہر نہیں ہوتا۔ زبانیں ہمیشہ لیتی دیتی رہی ہیں۔ خود انگریزی نے لاطینی، فرانسیسی، عربی اور فارسی سمیت درجنوں زبانوں سے ہزاروں الفاظ لیے ہیں، اور اردو کا نام تک ترکی سے آیا ہے۔

مسئلہ مستعار الفاظ نہیں، ان کی بے محابا بھرمار ہے، خصوصاً وہاں جہاں رواں اور مانوس اردو متبادل موجود ہو۔ مثال کے طور پر:

’’آج کے دور میں ایجوکیشن کا سسٹم بہت چینج ہو رہا ہے۔‘‘

کے بجائے یہ کہنا زیادہ رواں اور باوقار ہے:

’’آج کے دور میں نظامِ تعلیم تیزی سے بدل رہا ہے۔‘‘

جہاں ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل جیسے الفاظ زبان میں رچ بس چکے ہوں، انہیں زبردستی بدلنا بھی اتنا ہی غیر فطری ہے جتنا بے ضرورت انگریزی ٹھونسنا۔ توازن ہی کامیاب زبان کی پہچان ہے۔

۹۔ صحافت اور ذرائعِ ابلاغ

اردو صحافت نے زبان کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ روایت کے مطابق اردو کا پہلا اخبار جامِ جہاں نما ۱۸۲۲ء میں کلکتہ سے جاری ہوا۔ (اس کی ابتدائی اشاعت فارسی میں تھی اور اردو ضمیمہ بعد میں شائع ہوا، اس لیے ’پہلے‘ کے دعوے میں احتیاط ضروری ہے۔) بعد ازاں دہلی اردو اخبار (۱۸۳۶ء)، اودھ اخبار (لکھنؤ)، زمیندار اور الہلال جیسے جرائد نے اردو کو سیاسی اور علمی ابلاغ کی توانائی دی۔

ابتدائی اخبارات کی زبان میں فارسی آمیز تراکیب اور طویل جملے عام تھے، جب کہ جدید صحافت خبر کی صحت، اختصار اور وضاحت کو اولیت دیتی ہے۔ ذیل کی مثال صحافتی اسلوب کی تبدیلی کو سمجھانے کے لیے وضع کی گئی ہے، کسی اخبار سے منقول نہیں:

  • قدیم رنگ: ’’شہر کے مختلف مقامات پر بارشِ شدید کے باعث اہلِ شہر کو متعدد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘
  • جدید رنگ: ’’شدید بارش کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے۔‘‘

سوشل میڈیا نے اردو کو نئی وسعت بھی دی اور نئے مسائل بھی: املا کی غلطیاں، بے جا اختصار، رومن رسم الخط کا غلبہ اور بے ضرورت زبانوں کی آمیزش۔ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ زبان کی صحت کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

۱۰۔ ایک ہی خیال کے دو لباس

ایک ہی مضمون کو دو اسالیب میں دیکھیے۔ دونوں عبارتیں تقابل کے لیے لکھی گئی ہیں:

قدیم طرز: علم وہ جوہرِ نایاب ہے جس کی ضیا سے ظلمتِ جہالت کافور ہوتی ہے اور جس کے حصول سے انسان کو شرفِ امتیاز حاصل ہوتا ہے۔

جدید طرز: علم انسان کی فکری اور اخلاقی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ جہالت مٹاتا، شعور جگاتا اور صلاحیتوں کے بہتر استعمال کا راستہ دکھاتا ہے۔

پہلی عبارت میں استعارے کا طلسم ہے اور دوسری میں استدلال کی صفائی۔ مگر یہ نہ سمجھیے کہ قدیم اسلوب لازماً دقیق اور جدید لازماً آسان ہوتا ہے۔ میر کا کلام قدیم ہو کر بھی سادگی کا شاہکار ہے اور کوئی جدید فلسفیانہ مضمون قدیم تحریر سے کہیں زیادہ دشوار ہو سکتا ہے۔ حسن مشکل الفاظ میں نہیں، لفظ کی موزونیت، خیال کی گہرائی اور مقامِ اظہار کی مناسبت میں ہے۔

۱۱۔ کیا جدید اردو، قدیم اردو سے بہتر ہے؟

یہ سوال ایک غلط مفروضے پر کھڑا ہے، یعنی یہ کہ ایک کا حسن دوسرے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ قدیم اردو کی دولت اس کی تہذیبی گہرائی، محاوراتی وسعت اور کلاسیکی روایت ہے۔ جدید اردو کی طاقت اس کی علمی وسعت، سائنسی اصطلاحات کو جذب کرنے کی صلاحیت اور وسیع ابلاغی امکانات میں ہے۔ نہ جدیدیت کے نام پر زبان کے قواعد، محاورے اور ذوقِ ادب کو نظرانداز کرنا مناسب ہے، نہ قدامت پسندی کے نام پر ہر تحریر پر ایسے اسالیب مسلط کرنا جو عام قاری کے لیے بلاوجہ بوجھ بن جائیں۔

۱۲۔ مستقبل کی راہ: امتزاج

اردو کا مستقبل قدیم یا جدید کے انتخاب میں نہیں، دونوں کے بہترین سرمایے سے استفادے میں ہے۔ اس کے لیے چند عملی میدان توجہ چاہتے ہیں:

  1. کلاسیکی ادب کا مطالعہ: میر، غالب، ذوق، مومن، حالی اور شبلی جیسے اساتذہ کے اسالیب سے براہِ راست استفادہ۔
  2. علمی اصطلاحات: سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور سماجی علوم کے لیے مستند، آسان اور قابلِ قبول اصطلاحات کی تشکیل۔
  3. معیاری نثر: ایسی نثر جو علمی طور پر پختہ، اسلوب میں شائستہ، فہم کے لحاظ سے آسان اور ادبی حسن سے آراستہ ہو۔
  4. صحافت کا معیار: اخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر درست املا اور مستند زبان کی ترویج۔
  5. نئی نسل سے رشتہ: کلاسیکی ادب کو آسان تشریحات اور جدید ذرائع کے ساتھ پیش کرنا۔
  6. ڈیجیٹل اردو: اردو کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل لغات، آن لائن کتب خانوں اور مصنوعی ذہانت کے لیے معیاری مواد کی تیاری۔

۱۳۔ خاتمہ: بہاؤ بھی، کنارہ بھی

قدیم اور جدید اردو کا مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زبان کوئی جامد شے نہیں، ایک زندہ تہذیبی اور فکری نظام ہے۔ اس کی زندگی اس میں ہے کہ وہ زمانے کے تقاضے قبول کرے اور اپنی بنیادی شناخت بھی سلامت رکھے۔ ہندوی، دکنی اور ریختہ کی منزلوں سے گزر کر اردو نے جو وسعت پائی، وہی اس کی لسانی کشادہ دلی کا ثبوت ہے۔

ہمیں ایسی اردو درکار ہے جس میں غالب کی فکری بلندی، میر کی سادگی، سرسید کی مقصدیت اور حالی کی اصلاحی بصیرت کے ساتھ جدید علوم کی اصطلاحی ضرورتیں بھی سمو سکیں۔ اردو کی ترقی قدیم کو بھلانے میں نہیں، قدیم کے علمی و ادبی سرمائے کو نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں ہے۔ زبان کا کمال یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک ہی انداز میں بولی جائے، کمال یہ ہے کہ زمانہ بدل جائے اور اس کی فصاحت، معنویت اور تہذیبی وقار پھر بھی قائم رہے۔

تحریر: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
نورِ ادب — اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک علمی و ادبی کاوش

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post