غزل: ہر طرف اک شورِ نا معلوم برپا ہو گیا | غلام مزمل عطاؔ اشرفی

غزل

ہر طرف اک شورِ نا معلوم برپا ہو گیا آدمی اپنے ہی گھر میں آج تنہا ہو گیا
شہر کی رونق چلی ہے اب بیاباں کی طرف جس طرف دیکھو، فضا کا رنگ میلا ہو گیا
بات کرنے کا سلیقہ اب زمانے میں کہاں جو حقیقت بولتا ہے، وہ تو رسوا ہو گیا
بستیاں ویران ہیں اور حاکموں کے ہیں محل عدل کا جو آئینہ تھا، چور خستہ ہو گیا
فکرِ فردا میں گنوایا ہم نے اپنا عہدِ حال آج کا انسان ماضی کا ہی قصہ ہو گیا
صرف دعووں پر یہاں چلتی ہے اب یہ زندگی جو عمل کا راستہ تھا، اب وہ دھندلا ہو گیا
وقت کی رفتار نے بدلے ہیں کچھ ایسے چلن شعر کہنا اب یہاں اک جرمِ زیبا ہو گیا
دہر کے آشوب نے چھینی ہیں سب رعنائیاں اے عطاؔ! اب تو غزل کا رنگ پھیکا ہو گیا
صاحب کلام
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post