⭐ دین و اخلاق: اسلامی معاشرے کی بنیاد | غلام مزمل عطا اشرفی | نورِ ادب

دین و اخلاق: اسلامی معاشرے کی بنیاد — غلام مزمل عطا اشرفی

دین و اخلاق: اسلامی معاشرے کی بنیاد

تمہید

انسان کی طبیعی ساخت میں خیر و شر دونوں کی صلاحیت موجود ہے، مگر اس کی شخصیت سازی کا اصل محور وہ اخلاقی نظام ہے جو اسے راہِ راست دکھائے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو صرف عبادات کا پابند نہیں بنایا بلکہ اخلاقِ حمیدہ کو ایمان کا جز اور دین کی روح قرار دیا۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں اخلاق وہ چراغ ہے جو انسان کے باطن کو روشن کرتا اور معاشرے میں امن، محبت اور خیر کا فروغ کرتا ہے۔


قرآنِ کریم کا اخلاقی ضابطہ

قرآن نے اخلاق کو محض نصیحت کے طور پر نہیں پیش کیا بلکہ عملی اصول کے طور پر بیان کیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

"إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ"
بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔

عدل فرد، خاندان، حکومت اور پوری امت کے لیے بنیادی ستون ہے۔ احسان وہ درجہ ہے جہاں انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح قرآن نے جھوٹ، غیبت، بدگمانی، حسد، تکبر اور اَذِیَّت جیسی برائیوں کو انسانیت کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا اور مؤمن کو حکم دیا کہ:

"وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا"
لوگوں سے ہمیشہ اچھی بات کہو۔

یہ آیت اسلام کے اخلاقی نظریے کو چند الفاظ میں بیان کرتی ہے: اچھی بات، اچھا رویّہ، اچھا کردار۔


سیرتِ نبوی ﷺ: اخلاق کی مکمل تصویر

سرکارِ دو عالم ﷺ کی پوری زندگی اخلاق کے حسین نقوش سے مزین ہے۔ قرآن نے آپ ﷺ کے خلقِ عظیم کی شہادت دیتے ہوئے فرمایا:

"وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"
آپ بلند ترین اخلاق کے مقام پر فائز ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی بیان فرمایا:

"إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ"
میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔

آپ ﷺ کی سیرت میں شفقتِ والدین، احترامِ انسانیت، امانت داری، عفو و درگزر، عدل و انصاف، مہربانی، حلم و بردباری اور سچائی سب اپنی اعلیٰ ترین مثالوں کے ساتھ موجود ہیں۔


اخلاقِ حسنہ: ایمان کا لازمی حصہ

اسلام میں اخلاق محض اختیاری امر نہیں، بلکہ:

"اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"
ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اخلاق ایمان کی بقا اور اس کے کمال کا ذریعہ ہے۔ جس دل میں محبت، نرمی، دیانت داری اور انسانیت نہیں، وہ ایمان کی حقیقی مٹھاس سے محروم رہتا ہے۔


معاشرتی اخلاق کی ضرورت

ایک فرد کا اچھا یا برا اخلاق ایک پورے معاشرے کی کیفیت کو بدل سکتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی شناخت صرف ظاہری عبادات نہیں بلکہ:

  • عدل و انصاف
  • بھائی چارہ و ہمدردی
  • باہمی احترام
  • زر و دولت کے بجائے کردار کی فضیلت
  • معاشرتی مساوات

یہ وہ بنیادیں ہیں جو ایک عادل اور مہذب اسلامی معاشرے کی تعمیر کرتی ہیں۔


گھریلو زندگی میں اخلاق

گھر معاشرے کی پہلی اکائی ہے۔ اگر گھر میں اخلاق ہو تو پورا معاشرہ مہک اٹھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔"

اس کا مفہوم یہ ہے کہ اخلاق کا اصل امتحان وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی اصل فطرت کے ساتھ رہتا ہے۔


اخلاقی زوال: عصرِ حاضر کا بحران

آج کا انسان تکنیکی ترقی کے باوجود روحانی و اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، انتقام، حرص، خود غرضی اور بدزبانیاں رشتوں کو زہر آلود کر رہی ہیں۔ قرآن نے ایسے دور کی نشاندہی یوں کی تھی:

"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ"
خشکی و تری میں فساد پھیل چکا ہے۔

اس فساد کا بنیادی سبب اخلاقی کمزوری ہے۔


اسلامی اخلاق کا پیغام

اسلام کا پیغام نہایت واضح اور آفاقی ہے:

  • انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے
  • نرمی اور خیرخواہی کو اپنا شعار بنائے
  • تکبر کو ترک کرے
  • سچائی کو زندگی کا محور بنائے
  • والدین، پڑوسی، یتیم، مساکین اور کمزوروں کا خاص خیال رکھے
  • غصہ پینے اور معاف کرنے کی عادت اپنائے
  • امانت و دیانت کو اپنی پہچان بنائے

یہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو اللہ اور بندوں دونوں کے قریب کر دیتے ہیں۔


خاتمہ

دنیا میں کامیابی ہو یا آخرت میں فلاح، دونوں کا مدار اخلاقِ حسنہ پر ہے۔ اسلام کا تصورِ اخلاق انسان کے باطن کو نورانی اور اس کے معاشرے کو امن کا گہوارہ بناتا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی پیغام کو عام کرنے، اپنانے اور عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ہے۔ یہی دین کی اصل روح ہے اور یہی رسولِ رحمت ﷺ کا پیغام۔

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post