غزلوں کا آئینہ —جدید اردو شاعری کا جمالیاتی اظہار

غزلوں کا آئینہ — غلام مزمل عطا اشرفی | نورِ ادب

غزلوں کا آئینہ — غلام مزمل عطا اشرفی

یہ غزلیں عہدِ حاضر کے شعور، احساس اور لفظی لطافت کا حسین امتزاج ہیں۔ غلام مزمل عطا اشرفی نے روایت کے حسن کو جدید فکر کے آئینے میں ڈھالا ہے — جہاں ہر شعر ایک عکسِ دل ہے، اور ہر مصرعہ ایک سانسِ معنی۔

خود سے مکالمہ
خود اپنی جستجو میں، خودی کی سزا میں میں رہ گیا میں کون تھا، یہ سوچتے سوچتے، فنا میں میں رہ گیا
چراغ دل کا بجھ گیا، مگر دھواں تو بول اُٹھا میں روشنی کے خواب میں تھا، دُھندلا میں میں رہ گیا
ہزار چہرے دیکھ کر بھی آئنے نے یہ کہا جو اصل تھا، وہ گم ہوا، میں وہ نوا میں میں رہ گیا
قدم رکے تو راستے بھی تھم گئے مرے لیے میں جا رہا تھا، اور وہی نقشِ پا میں میں رہ گیا
یہ وقت بھی عجب فریبِ دائروں کا کھیل ہے میں قیدِ لمحہ تھا مگر اک ماجرا میں میں رہ گیا
عطاؔ یہ حرفِ دل تو سب کے لب پہ آ نہ پائے گا میں اپنی بات کہہ نہ سکا، مدعا میں میں رہ گیا
زخم کہتا ہے کہ چپ رہنا بھی لازم ہے
زخم کہتا ہے کہ چپ رہنا بھی لازم ہے یہ سکوتِ دل بھی اک اندازِ محرم ہے
خود کو پہچانوں تو الجھ جاتا ہوں پھر میں بھی یہ جو میں ہوں، وہ ابھی تک کون سا غم ہے
چاند کہتا ہے اندھیروں سے نہ گھبرا تو تیری پیشانی پہ میرا نام بھی کم ہے
وقت کی رفتار بھی تھکنے لگی اب تو کس طرف جانا مرے دل، کون ہم دم ہے
یاد کی بارش میں بھی جلتا رہا تنہا اک پرانا خواب اب تک زیرِ شبنم ہے
عطاؔ ہم نے بھی کئی چہرے بدل دیکھے پر وفا کا رنگ اب بھی تیرا پرچم ہے
✒️ غلام مزمل عطا اشرفی

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post