**سہرسہ کے سمِری بختیارپور اور سونبرسہ میں اردو ادب، تعلیم اور ثقافت —
کمیوں کا تجزیہ، تاریخی پس منظر، اور اجتماعی ذمہ داریوں کی عام دعوت**
**سہرسہ کے سمِری بختیارپور اور سونبرسہ میں اردو ادب، تعلیم اور ثقافت — کمیوں کا تجزیہ، تاریخی پس منظر، اور اجتماعی ذمہ داریوں کی عام دعوت** مصنف: غلام مزمل عطا اشرفی تمہید ضلع سہرسہ کے دو اہم علاقائی مراکز — سمِری بختیارپور اور سونبرسہ — اپنی جغرافیائی ساخت، مذہبی و لسانی تنوع، تاریخی تغیرات اور سماجی حرکیات کے اعتبار سے ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ یہاں کی آبادی میں وہ صلاحیت، ذہانت، تاریخ اور دردمندی موجود ہے جو کسی بھی زبان، فن یا علم کی بنیادیں مضبوط کر سکتی ہے۔ تاہم تحقیق اور زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آج بھی تعلیم، تربیت، اردو زبان و ادب، ثقافت، اور ادارہ جاتی ڈھانچے (اسکول، کالج، یونیورسٹی) ایسے شعبے ہیں جن میں قابلِ توجہ کمی اور متعدد خلا موجود ہیں۔ یہ مقالہ ان دونوں خطّوں کی تاریخی فضا، تعلیمی حالت، ادبی پس منظر، موجودہ خامیوں اور ان خامیوں کو دور کرنے کے عملی و اجتماعی راستوں کو واضح کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تحریر دعوتِ عام کے طور پر سامنے آئے تاکہ ہر فرد، ہر گھر، ہر استاد، ہر ادارہ اور ہر صاحبِ علم اپنی ذمہ داری کو پہچانے اور ان کمیوں کو دور کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔
1۔ تاریخی و جغرافیائی پس منظر سمِری بختیارپور اور سونبرسہ کا خطّہ کوسی کے دہانے پر آباد ہے۔ کوسی کی سیلابی روایت نے یہاں کی زمین اور معاشرت کو بارہا بدل دیا ہے؛ جس کے دو بڑے اثرات سامنے آتے ہیں: 1۔ علمی و ادبی وسائل کا نقصان کتب، مکاتب، ذاتی نسخے، خطّی دستاویزات اور خانقاہی محفوظات بارہا تباہ ہوئے، جن کی وجہ سے مقامی علمی تاریخ کے بہت صفحات مٹ گئے۔ 2۔ تعلیمی پھیلاؤ میں رکاوٹ اسکول، مدرسے، لائبریریاں اور تعلیمی مراکز سیلابی علاقوں میں بارہا متاثر ہوئے، جس سے تعلیم کا تسلسل ہمیشہ دبا رہا۔ تاریخی طور پر یہاں نعت، منقبت، مجالس، اور دینی فضا ہمیشہ مضبوط رہی، مگر تحریری ادب، تنقیدی روایت، تحقیق، لائبریریوں اور تعلیمی اداروں کی نسبتاً کمی نے علم و فن کو پھیلنے نہیں دیا۔
2۔ موجودہ تعلیمی و ادبی حالت کا تحقیقی جائزہ 2.1 اسکول اور بنیادی تعلیم کئی سرکاری و نجی اسکول موجود ہیں، مگر تعلیمی معیار، اساتذہ کی تربیت، اور نصابی نفاذ میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اردو میڈیم کی تعلیم بعض مقامات پر محدود ہے، جس سے لسانی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔ بچوں میں مطالعے کی عادت اور لائبریری کلچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2.2 کالجوں کا صورتحال ڈگری سطح کی تعلیم موجود ہے مگر ادب، زبان، تاریخ اور سوشل سائنسز کی علمی نشوونما کے لیے تحقیق و تدریس کا ماحول کمزور ہے۔ طلبہ کو تحقیقی طریقۂ کار، مقالہ نویسی، زبان و بیان اور تخلیقی اظہار کی تربیت نہیں مل پاتی۔ 2.3 یونیورسٹی کی عدم موجودگی سہرسہ اور اس کے اطراف میں کوئی مرکزی تحقیقی یونیورسٹی نہیں۔ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس نے مقامی محققین کو باہر جانے پر مجبور کیا، تحقیق کے وسائل کو کمزور رکھا، اور اردو ادب و ثقافت کی ترقی کو محدود کر دیا۔ 2.4 مدارس کی صورتحال مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ کی مضبوط بنیادوں کے ساتھ اردو بھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر جدید اردو ادب، تحقیق، کریٹیو رائٹنگ، تنقید اور صحافتی تربیت شامل نہیں۔ مدارس اور اسکولوں کے درمیان علمی ربط نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2.5 ادبی ثقافت اور فنونِ لطیفہ مذہبی محافل موجود ہیں مگر مشاعرہ کلچر غیر منظم ہے، مقامی ادیبوں کے مجموعے شائع نہیں ہوتے، نوجوانوں کے لیے ادبی رہنمائی نہیں۔
3۔ ان کمیوں کی اصل بنیاد — تحقیقی تجزیہ 3.1 اداروں کی کمی مناسب اسکول، کالج، لائبریریاں اور تحقیقاتی مراکز موجود نہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے وہ راستے جو ایک خطے کی ادبی اور تہذیبی زندگی کو مضبوط کرتے ہیں، ان علاقوں میں تقریباً غائب ہیں۔ 3.2 دستاویزات کا فقدان مقامی شعرا، علما، اساتذہ، دینی مراکز، تاریخی واقعات — سب کچھ زبانی منتقل ہوا، تحریر نہ بن سکا۔ پرانی کتابیں، جرائد، رسائل اور خطوط محفوظ نہ رہ سکے۔ 3.3 نصابی کمزوریاں اسکولوں میں اردو کو محض زبان کی حیثیت؛ ادبی تاریخ، تنقید، تحقیق، اور تخلیق کے حصے موجود نہیں۔ 3.4 تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی اردو کے غیر تربیت یافتہ اساتذہ طلبہ میں وہ ذوق نہیں پیدا کر پاتے جو ادب کی زندگی ہے۔ 3.5 سماجی عدم توجہ گھروں میں مطالعہ کی فضا کمزور؛ علمی گفتگو اور کتابوں سے رشتہ کمزور؛ نوجوان سوشل میڈیا کی سطحی مصروفیات میں گہرائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
**4۔ کمیوں کو دور کرنے کے لیے واضح اور مضبوط سفارشات (عام دعوتِ عمل)** یہ سفارشات اس ناچیز کی طرف سے پورے معاشرے کے نام ہیں — کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسے پورا کرے۔
4.1 اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے لیے سفارشات اسکولوں کے لیے: ہر اسکول میں اردو لائبریری قائم کی جائے۔ ہفتہ وار ادبی پیریڈ اور قرأت/تقریر/غزل خوانی کا سیشن رکھا جائے۔ پرائمری سطح پر کہانی، شاعری اور گفتگو کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ کالجوں کے لیے: اردو شعبے قائم ہوں یا اگر ہیں تو مضبوط کیے جائیں۔ طلبہ کو مقالہ نویسی، تحقیق اور تخلیق پر عملی تربیت دی جائے۔ کالج سطح پر ادبی انجمنیں بنیں جو سال بھر سرگرم رہیں۔ یونیورسٹی کے لیے (سب سے اہم): سہرسہ خطّے کی ضروریات کے مطابق ایک ریسرچ یونیورسٹی یا اردو و سماجی علوم کا خصوصی کیمپس قائم کیا جائے۔ یہاں کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم کا حق دیا جائے۔
4.2 مدارس کے لیے سفارشات روایتی نصاب کے ساتھ جدید اردو ادب، زبان و بیان، خطابت، تحقیق و تدریس کی بنیادی تربیت شامل کی جائے۔ مدارس اور اسکولوں کے درمیان علمی تبادلے کا نظام ہو۔ مدارس کے طلبہ کی تخلیقات (نعت، منقبت، نثر، تحقیق) کو شائع کیا جائے۔
4.3 ادب، ثقافت اور سماجی سطح پر سفارشات (1) ادبی تاریخ محفوظ کی جائے مقامی بزرگوں، علما، شعرا اور اساتذہ کی روایات، سوانح اور تحریریں جمع کی جائیں۔ اس علاقے کی ادبی و ثقافتی تاریخ پر باقاعدہ کتابیں لکھی جائیں۔ (2) مشاعرے اور ادبی نشستیں منظم ہوں سال میں کم از کم چار بڑے مشاعرے۔ ہر محلے، مدرسے اور اسکول میں چھوٹے ادبی پروگرام۔ (3) نوجوان نسل میں ادب کا ذوق پیدا کرنا موبائل اور سوشل میڈیا سے آگے نکل کر نوجوانوں کو کتابوں، تحقیق اور زبان کی بنیادوں سے جوڑنا۔
4.4 تحریری، تحقیقی اور دستاویزی سفارشات (1) ادبی مواد کی جمع آوری پرانے رسائل، نعتیہ مجموعے، مدارس کے کاتبوں کی تحریریں، تاریخی خطوط — سب کو جمع کر کے محفوظ کیا جائے۔ (2) Archives قائم کیے جائیں ایک ضلع آرکائیو جہاں اسکین شدہ دستاویزات، تصاویر اور مخطوطے محفوظ ہوں۔ نوجوانوں کے لیے training کہ مواد کیسے محفوظ کیا جاتا ہے۔ (3) مقامی ادیبوں کی تخلیقات شائع ہوں سالانہ "سہرسہ ادبی انتخاب" کے نام سے کتاب چھاپی جائے۔
5۔ اجتماعی ذمہ داری — دعوتِ عام یہ مقالہ صرف تجزیہ نہیں بلکہ ایک کھلی دعوت ہے: اے اساتذہ! آپ نسلوں کو بدلتے ہیں۔ بچوں کو زبان کی بنیادیں اور ادب کا ذوق سکھائیں۔ اے والدین! گھروں کو کتابوں کا گھر بنائیں۔ بچوں کو مطالعہ کی طرف لائیں۔ اے طلبہ! علم تلاش کیجیے۔ زبان سیکھئے۔ ادب کا شعور پیدا کیجیے۔ آپ ہی کے دم سے تاریخ لکھی جائے گی۔ اے سماج کے معزز افراد! اپنے علاقے میں اسکول، لائبریری، تعلیمی فنڈ، ادبی انجمنیں قائم کریں۔ اے سرکاری و ریاستی اداروں! سہرسہ جیسے تعلیمی پچھڑے خطّوں کو خصوصی پالیسیوں اور فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ فوری توجہ دیجئے۔ اے قلم کارو اور ادیبانو! اپنے علاقے کی زبان، داستان، تاریخ اور احساسات کو لکھئے، مرتب کیجئے، شائع کیجیئے۔ یہی اصل خدمت ہے۔
اختتامیہ سمِری بختیارپور اور سونبرسہ میں تعلیم، روداد، تاریخ، تحقیق، اردو زبان و ادب، اور ثقافتی زندگی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے — لیکن بشرطیکہ پوری قوم اپنی اپنی ذمہ داری کو پہچانے اور حقیقی کوشش کرے۔ یہ تحریر اسی مقصد سے لکھی گئی ہے کہ ہر فرد، ہر استاد، ہر طالب علم، ہر سماجی کارکن اور ہر ادارہ سوچے: "یہ میری ذمہ داری ہے — میں کیا کر سکتا ہوں؟" اگر یہ سوال پیدا ہو گیا تو تبدیلی ضرور آئے گی۔ اور اگر ذمہ داری اٹھا لی گئی تو سہرسہ کا یہ خطّہ تعلیم، ادب اور تہذیب میں دوبارہ اپنے مقام پر پہنچے گا۔
✍️ مصنف: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
📍 پتہ:امباڈیہ، راجہ سونبرسہ ، ضلع سہرسہ، بہار، انڈیا
🌐 بلاگ: https://nooradab.blogspot.com/