نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
دل کو سرکار ﷺ سے جو محبت نہیں
پھر اُسے زندگی میں لطافت نہیں
تیرے آنے سے مہکا زمانے کا دل
ورنہ مٹی میں ایسی لطافت نہیں
تیری سیرت کے آگے خرد جھک گئی
فکر کو اس سے بڑھ کر بصیرت نہیں
تیری اُمت کے مجرم بھی محروم کب
تیرے دامن میں کوئی بھی وحشت نہیں
تیرا در چھوڑ کر جائیں بھی تو کہاں
اس جہاں میں کوئی اور نسبت نہیں
آپ ﷺ کے در کی نسبت ہی کافی مجھے
اس سے بڑھ کر جہاں میں سعادت نہیں
جس کے دل میں عطاؔ عشقِ احمد ﷺ نہیں
اُس کے سینے میں نورِ ہدایت نہیں
مہکے ہوئے ہیں آج فضا و ہوا کے ہاتھ
پھیلا رہے ہیں عطرِ کرم مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھ
مٹی کے ایک ذرّے کو خورشید کر دیا
کس کیمیا اثر ہیں شہِ دوسرا ﷺ کے ہاتھ
ہر لوحِ دل پہ ثبت ہے اک اسمِ مصطفیٰ ﷺ
تحریرِ نور لکھتے ہیں بادِ صبا کے ہاتھ
میں تھا اسیرِ عقل، تمنّا، فریبِ ذات
آزاد کر دیا مجھے خیرالہدیٰ ﷺ کے ہاتھ
یہ فلسفہ، یہ عقل، یہ دانش، یہ آگہی
سب رہ گئے ہیں پیچھے ترے مقتدا ﷺ کے ہاتھ
خیرات دید کی ہو عطا یانبی مجھے
پھیلے ہوئے ہیں در پہ مرے التجا کے ہاتھ
یہ سوزِ دل، عقیدت و نورِ یقیں ۔ عطاؔ
سب کچھ ملا ہے مجھ کو مرے مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھ

Post a Comment