نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
میرے نبی ﷺ کا ذکر اَزل کی زبان ہے
لوح و قلم پہ نقش یہی داستان ہے
میرے نبی ﷺ کے در کی الگ ہی تو شان ہے
عرشِ بریں پہ آج بھی جن کا نشان ہے
آقا ﷺ کے نقشِ پا سے مہکتی ہے کائنات
ہر سمت انؐ کے فیض کا پھیلا نشان ہے
ذکرِ نبی ﷺ سے قلب کو ملتی ہے زندگی
یہ تو متاعِ روح، یہی دل کی جان ہے
معراج کی شبوں کا تصور بھی کیا لکھوں
حیرانِ عقل، محوِ تماشا زمان ہے
میزانِ حشر، ہولِ قیامت، حساب و خوف
عاصی کے واسطے تو محمد ﷺ امان ہے
لکھتا عطاؔ ہے مدحتِ سلطانِ دو جہاں
لفظوں پہ آج عشقِ نبی ﷺ حکمران ہے
سرکار کے کرم نے کھولے ہیں بخت سارے
ورنہ پڑے ہوئے تھے تقدیر کے خسارے
طٰہٰ کی ایک نسبت کیا کیا بدل گئی ہے
مٹی سے اُٹھ رہے ہیں عرفان کے ستارے
یثرب کی خاک پر جب نقشِ قدم پڑے تو
کھلنے لگے زمیں پر فردوس کے دوارے
یہ معجزہ نہیں تو پھر اور کیا ہے آخر
پتھر دلوں پہ برسے رحمت کے آبشارے
جب سے لبوں پہ آیا ذکرِ جمالِ احمد
مدھم پڑے ہوئے ہیں دنیا کے چاند تارے
جب جب ہجومِ غم نے چاہا ہمیں ڈبونا
سرکار نے دکھائے رحمت کے پھر کنارے
یہ فیضِ مصطفیٰ ہے، ورنہ عطاؔ کی ہستی
بھٹکی ہوئی صدا تھی، ٹوٹے ہوئے کنارے

Post a Comment