منقبت حضرت شیخ احمد گنج بخش کھٹّو رحمۃ اللہ علیہ | غلام مزمل عطاؔ اشرفی

منقبت در شان حضرت شیخ احمد گنج بخش کھٹّو رحمۃ اللہ علیہ

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
حضرت شیخ احمد گنج بخش کھٹّو رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش کیے گئے یہ منظوم خراجِ عقیدت عقیدت، محبت، نیازمندی اور روحانی وابستگی کے مختلف جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس مجموعے میں منقبت، سلام اور حاضری کے جذبات کو شعری پیرایے میں پیش کیا گیا ہے۔
منقبت

میں کیا کہوں کہ کیا ہو، اے گنج بخش میرے
تم مظہرِ خدا ہو، اے گنج بخش میرے

تم فخرِ اولیا ہو، تصویرِ مصطفیٰ ہو
تم شانِ کبریا ہو، اے گنج بخش میرے

سلطانِ اولیا ہو، اس شہرِ اولیا کے
تم رب کی اک عطا ہو، اے گنج بخش میرے

آنکھیں ہیں جامِ وحدت، دل چشمۂ حقیقت
حسنِ خدا نما ہو، اے گنج بخش میرے

جود و کرم سراپا، رحمت عطا مجسم
ہر درد کی دوا ہو، اے گنج بخش میرے

ہو باغ مصطفیٰ کے اک پھول تم بھی لیکن
ہر پھول سے جدا ہو، اے گنج بخش میرے

اپنا نہیں ہے کوئی اس دور بے وفا میں
بس تم ہی آسرا ہو، اے گنج بخش میرے

زخموں سے چور ہو کر آیا “عطاؔ” ہے در پر
مرہم کوئی عطا ہو، اے گنج بخش میرے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

چادر لیے الفت کی وفادار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

مانگا نہ خزانہ نہ حکومت کی تمنا
بس دیدۂ پُرنور کی ہے ایک تمنا
لے کر یہی ارماں دل افگار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

دنیا کے سہاروں سے کنارا ہی کیا ہے
بس تیرے کرم پر ہی بھروسا یہ رہا ہے
دامن میں لیے صبر کا گلزار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

کچھ زخم زمانے نے دیے، کچھ غمِ ہستی
ہر موڑ پہ ٹوٹی ہے تمناؤں کی کشتی
اب چھوڑ کے دنیا کے سبھی آزار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

سن کر تری چوکھٹ کی فضیلت کا فسانہ
بے چین تھا کب سے تیرا دیوانہ زمانہ
لے کر دلِ بیتاب کے آثار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

تو باعثِ تسکینِ دلِ اہلِ محبت
تو مرکزِ عرفان و کرامات و ولایت
ہم بن کے ترے عشق کے بیمار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

تجھ سے ہی ملی ہم کو محبت کی سعادت
تجھ سے ہی ملی دل کو عبادت کی حرارت
پہنے ہوئے اخلاص کا دستار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

رحمت کی گھٹائیں ہیں ترے در کے حوالے
برسوں سے ہیں آباد یہاں دل کے اجالے
ہم طالبِ الطافِ کرم بار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

سنتے ہیں یہاں علم کی خیرات ملے گی
عرفان کی دولت بھی عنایات ملے گی
ہم لے کے طلب دل میں طلبگار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

ہر دور میں ولیوں نے ہے انسان سنوارے
نفرت کے اندھیروں میں محبت کے ستارے
ہم اُن ہی چراغوں کے پرستار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

صد شکر کہ قسمت نے یہ در ہم کو دکھایا
سویا ہوا ایمان محبت نے جگایا
ہم بن کے ترے عشق کے سرشار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

جب تک ہے انا دل میں، خدا مل نہیں سکتا
آئینۂ جاں زنگ سے پھر دھل نہیں سکتا
ہم نفس کو کرنے تہِ تلوار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

جو اہلِ نظر ہیں وہ اشاروں سے ملے ہیں
یہ رازِ محبت بھی سہاروں سے ملے ہیں
دیوانے کی صورت میں ہشیار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

ساقی نے نگاہوں سے پلائی ہے وہ صہبا
اب ہوش بھی باقی ہے، نہ دنیا کا تقاضا
دیوانے کی صورت میں مے خوار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

یہ مے نہ انگوری ہے، نہ پیمانوں کی مے ہے
یہ مے تو ازل سے ترے دیوانوں کی مے ہے
پینے تیرے در پر یہ ہشیار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

منزل نہ سہی، راہ کا اعزاز بہت ہے
اس در سے تعلق پہ عطاؔ ناز بہت ہے
ہم سینۂ اخلاص کے معمار چلے ہیں
اے شیخ احمد کھٹّو تیرے دربار چلے ہیں

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
سلام علیک

اے مرے شیخ احمد سلام علیک
راحت جاں احمد سلام علیک

وارث مصطفیٰ جانشین علی
دین حق کے مؤید سلام علیک

اس ادارہ کے طلبہ پہ ہر دم رہے
آپ کا لطف بے حد سلام علیک

احمد آباد تم سے ہی سر خیز ہے
تم ہی سلطان و سید سلام علیک

آپ کی شان عظمت کا کیا پوچھنا
عرش پر تیرا مسند سلام علیک

منبع فیض ہے ہر کسی کے لیے
آستاں اور مرقد سلام علیک

قابل دید ہے جلوۂ طور ہے
آپ کا نوری گنبد سلام علیک

لاج رکھنی پڑے گی عطاؔ کی حضور
آپ مرشد میں ارشد سلام علیک

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
رابطہ
9341137638

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post