غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں
سر پر لئے ہوئے ہیں ہم دھوپ کے شرارے
پھر بھی اداس کیوں ہیں یہ برف کے نظارے
اک چیخ بن گئی ہیں خاموشیاں بدن کی
دیوار سن رہی ہے کمرے کے استعارے
یہ کس مقام پر ہم تنہائیوں میں پہنچے
اپنے ہی گھر میں لگتے ہیں اجنبی گزارے
دریا کی تہہ میں اُتری جب روشنی کی میت
موجوں نے دیر تک پھر ماتم کیے کنارے
ہم نے بھی وقت جیسے کردار اوڑھ ڈالے
چہرے بدل بدل کر ملتے رہے ہیں سارے
اس عہدِ بے حسی میں زندہ وہی رہا ہے
جس نے لہو سے لکھے احساس کے سپارے
رکھتے ہیں اب عطاؔ بھی دل میں شکستہ موسم
آنکھوں میں جم گئے ہیں احساس کے شرارے
ویران دل کے بیچ عجب گلستان ہے
آنکھوں میں تیری یاد کا روشن جہان ہے
میں نے بھی چاند بانٹ دیا تیرگی کے بیچ
میری شکست ہی مری اصل آن بان ہے
اک موجِ بے اماں سے لڑا تھا میں رات بھر
دریا کے دل پہ آج بھی میرے نشان ہے
ہر شخص اپنے آپ میں اک داستان ہے
ہر دل کے زیرِ خاک کوئی آسمان ہے
وہ شخص جو سکوت کے پتھر میں قید تھا
اب اُس کی چشمِ تر میں کئی داستان ہے
لفظوں کے آئینے میں حقیقت اُتر گئی
میری غزل بھی وقت کا اک ترجمان ہے
ہر زخم بولتا ہے عطاؔ عہدِ درد کا
میرا سکوت آج بھی اک ترجمان ہے

Post a Comment