غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں
تری نگاہ کا ہر زاویہ سمندر ہے
مرے خیال کا ہر آئینہ منور ہے
وہ میری روح میں اُترا تو اِس طرح اُترا
کہ جیسے قطرۂ شبنم میں کوئی ساگر ہے
لبوں پہ اُس کے تبسم کی نرم سی لرزش
کھلے گلاب پہ شبنم کا جیسے زیور ہے
وہ ایک لمس کہ صدیوں کی برف پگھلا دے
وہ ایک حرف کہ سینے میں مثلِ خنجر ہے
فلک پہ چاند بھی اُترا تو یہ گماں گزرا
کسی کے حسن کا ٹوٹا ہوا یہ زیور ہے
کبھی تو اُس کی گلی میں بہار اُترے گی
ابھی تو شاخِ تمنا بہت ہی بے بر ہے
عطاؔ یہ عہدِ ہوس ہے، یہاں محبت بھی
کبھی سراب، کبھی آگ اور سمندر ہے
دل کسی سے لگانے کی چاہت نہیں
اب نئے غم اُٹھانے کی حاجت نہیں
عمر بھر ڈھونڈتے ہی رہے روشنی
اور مقدر میں شاید ہدایت نہیں
اب پرندے بھی ہجرت سے ڈرتے ہیں کیوں
کیا فضاؤں میں پہلے سی وسعت نہیں؟
وقت نے مجھ سے لہجے بھی چھینے مرے
اب مری خامشی بھی سلامت نہیں
عشق سچّا ہو تو خامشی بھی سخن
ہر گھڑی لب ہلانے کی حاجت نہیں
ایک سجدہ تھا جو روح تک لے گیا
ورنہ رسمِ عبادت میں لذّت نہیں
درد آنکھوں میں ہے اے عطاؔ اس طرح
اشک بھی اب بہانے کی چاہت نہیں

Post a Comment