غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں | خواب، محبت اور ہجر

غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں

خواب، یاد، محبت اور ہجر کے احساسات
پیشِ نظر غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی دو منتخب غزلیں ہیں۔ ان اشعار میں خواب، یاد، ہجر، انتظار، محبت، آرزو اور محبوب کے حسن و ادا کو مختلف دلکش شعری پیکروں میں پیش کیا گیا ہے۔ دونوں غزلوں میں داخلی کیفیات اور رومانوی احساسات کے ساتھ استعارات و تشبیہات کا خوب صورت استعمال نظر آتا ہے۔
غزل اوّل

بکھرا ہے میرے خواب کا منظر فضا کے ہاتھ
کس نے لکھا ہے درد کا قصّہ ہوا کے ہاتھ

اک آگ رکھ گیا مرے اندر ہوا کے ہاتھ
جلتا رہا چراغِ تمنّا وفا کے ہاتھ

دریائے شوق آنکھ سے خاموش بہہ گیا
جب چھُو گئی تھیں یاد کی لہریں صبا کے ہاتھ

ویران رات، ہجر کا جنگل، اُداس دل
پھر جل اُٹھا چراغ تری اک دعا کے ہاتھ

ہم شہرِ آرزو میں اکیلے کھڑے رہے
بکھرا ہوا تھا خواب کا پیکر قضا کے ہاتھ

یہ کون دے گیا ہے اجالوں کی داستاں
روشن ہیں آج خواب کے منظر بڑھا کے ہاتھ

ضبطِ غمِ حیات کی اب خیر ہو عطاؔ
آئے ہیں پھر سے یاد کے موسم صبا کے ہاتھ

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
غزل دوم

کھلنے لگے ہیں خواب ترے دلرُبا کے ہاتھ
رکھ دی گئی ہے رات بھی رنگِ حنا کے ہاتھ

آنکھوں میں ایک چاند اترتا چلا گیا
کھلتے گئے تھے رات کے در دلرُبا کے ہاتھ

مہکی ہوئی ہے روح کسی یادِ یار سے
جیسے کھلی ہو رات گلابی ہوا کے ہاتھ

اک خواب تھا کہ چاند کی کرنوں میں بہہ گیا
اک دل تھا لٹ گیا تری پہلی ادا کے ہاتھ

دریائے آرزو میں بھنور تھے عجیب سے
کشتی لگی کنارے پہ اک ناخدا کے ہاتھ

یہ عشق کیا ہے، آگ بھی، شبنم بھی، نور بھی
سب کچھ سمجھ میں آیا تری اک ادا کے ہاتھ

پتھر مزاج لوگ بھی رونے لگے عطاؔ
جب کھُل گئی کتابِ محبت ملا کے ہاتھ

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post