غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں
بکھرا ہے میرے خواب کا منظر فضا کے ہاتھ
کس نے لکھا ہے درد کا قصّہ ہوا کے ہاتھ
اک آگ رکھ گیا مرے اندر ہوا کے ہاتھ
جلتا رہا چراغِ تمنّا وفا کے ہاتھ
دریائے شوق آنکھ سے خاموش بہہ گیا
جب چھُو گئی تھیں یاد کی لہریں صبا کے ہاتھ
ویران رات، ہجر کا جنگل، اُداس دل
پھر جل اُٹھا چراغ تری اک دعا کے ہاتھ
ہم شہرِ آرزو میں اکیلے کھڑے رہے
بکھرا ہوا تھا خواب کا پیکر قضا کے ہاتھ
یہ کون دے گیا ہے اجالوں کی داستاں
روشن ہیں آج خواب کے منظر بڑھا کے ہاتھ
ضبطِ غمِ حیات کی اب خیر ہو عطاؔ
آئے ہیں پھر سے یاد کے موسم صبا کے ہاتھ
کھلنے لگے ہیں خواب ترے دلرُبا کے ہاتھ
رکھ دی گئی ہے رات بھی رنگِ حنا کے ہاتھ
آنکھوں میں ایک چاند اترتا چلا گیا
کھلتے گئے تھے رات کے در دلرُبا کے ہاتھ
مہکی ہوئی ہے روح کسی یادِ یار سے
جیسے کھلی ہو رات گلابی ہوا کے ہاتھ
اک خواب تھا کہ چاند کی کرنوں میں بہہ گیا
اک دل تھا لٹ گیا تری پہلی ادا کے ہاتھ
دریائے آرزو میں بھنور تھے عجیب سے
کشتی لگی کنارے پہ اک ناخدا کے ہاتھ
یہ عشق کیا ہے، آگ بھی، شبنم بھی، نور بھی
سب کچھ سمجھ میں آیا تری اک ادا کے ہاتھ
پتھر مزاج لوگ بھی رونے لگے عطاؔ
جب کھُل گئی کتابِ محبت ملا کے ہاتھ

Post a Comment