نعتِ مصطفیٰ ﷺ | غلام مزمل عطاؔ اشرفی کا خوب صورت نعتیہ کلام

نعتِ مصطفیٰ ﷺ

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کیا گیا یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ، عقیدت، شفاعت، رحمت، سیرتِ طیبہ اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی برکتوں سے مزین ہے۔ شاعر نے اپنے جذباتِ محبت کو سادہ، رواں اور دل نشیں شعری پیرایے میں پیش کیا ہے۔
نعتِ مصطفیٰ ﷺ

اِک نظر یا نبی اس قلم کار پر
نور اُترے مرے فکر و اشعار پر

آپ غمخوار بھی، آپ مشکل کشا
یا نبی اک نظر اس گنہگار پر

آپ کی یاد میں بھیگتی ہیں پلک
اشک ٹھہرا ہوا چشمِ خوں بار پر

نقشِ پا چومتی ہے صبا غار پر
نور اُترا ترے گیسوئے تار پر

تو نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا یہاں
رب نے کھولے ہیں اسرار، اسرار پر

روزِ محشر شفاعت ملے گی انہیں
جن کا ایماں رہا شاہِ ابرار پر

عشقِ احمد عطاؔ روح کی آگہی
عقل قربان اِس عشقِ سرشار پر

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
نعتِ رسولِ کریم ﷺ

نور چھایا ترے حُسنِ رخسار پر
چاند حیران ہے تیرے دیدار پر

در سے خالی نہ لوٹا کوئی آپ کے
فیض جاری رہا ہر گنہگار پر

مجھ پہ نظرے کرم اور عنایت ہوئی
رحمتیں چھا گئیں قلبِ بیمار پر

تیری سیرت سراپا ہی قرآن ہے
رشک آتا ہے دشمن کو کردار پر

آپ کی نرم گفتار کا فیض تھا
پھول کھلنے لگے سنگ و دیوار پر

تو نے بدلے زمانے کے بہکے مزاج
تیری رحمت رہی ہر ستم گار پر

عشقِ سرکار میں اے عطاؔ عمر بھر
دل دھڑکتا رہے نعت و اشعار پر

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post