یہ چاہت، یہ الفت، محبت کیا ہے؟ | خوبصورت اردو غزل — عطاؔ اشرفی

غزل

یہ چاہت، یہ الفت، محبت کیا ہے؟

عقیدت، رفاقت، مودت کیا ہے؟

نگاہوں میں رہتے ہو، خوابوں میں آتے

بتاؤ تو آخر یہ عادت کیا ہے؟

تمہیں دیکھ کر دل دھڑکنے لگے کیوں

یہ دل پر تمہاری حکومت کیا ہے؟

کبھی مسکرانا، کبھی روٹھ جانا

تمہاری نگاہوں کی حسرت کیا ہے؟

تمہارے تصور میں کھویا ہوں ہر دم

یہ خوابوں کی دنیا، یہ حالت کیا ہے؟

نہ ملنے کی ضد ہے، نہ ملنے کی خواہش

یہ کیسی ہے الجھن، یہ وحشت کیا ہے؟

تمہاری ہی جانب ہے ہر راستہ کیوں

یہ دل کی مسلسل مسافت کیا ہے؟

کبھی درد بن کر رگوں میں اترنا

یہ اندازِ الفت، یہ شدت کیا ہے؟

زمانے سے پوچھے کوئی تو بتائے

محبت میں آخر یہ قسمت کیا ہے؟

عطاؔ عشق کی رمز سمجھا نہیں ہے

یہ الفت کی منزل، حقیقت کیا ہے؟

صاحب کلام
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post