غزل
یہ چاہت، یہ الفت، محبت کیا ہے؟
عقیدت، رفاقت، مودت کیا ہے؟
نگاہوں میں رہتے ہو، خوابوں میں آتے
بتاؤ تو آخر یہ عادت کیا ہے؟
تمہیں دیکھ کر دل دھڑکنے لگے کیوں
یہ دل پر تمہاری حکومت کیا ہے؟
کبھی مسکرانا، کبھی روٹھ جانا
تمہاری نگاہوں کی حسرت کیا ہے؟
تمہارے تصور میں کھویا ہوں ہر دم
یہ خوابوں کی دنیا، یہ حالت کیا ہے؟
نہ ملنے کی ضد ہے، نہ ملنے کی خواہش
یہ کیسی ہے الجھن، یہ وحشت کیا ہے؟
تمہاری ہی جانب ہے ہر راستہ کیوں
یہ دل کی مسلسل مسافت کیا ہے؟
کبھی درد بن کر رگوں میں اترنا
یہ اندازِ الفت، یہ شدت کیا ہے؟
زمانے سے پوچھے کوئی تو بتائے
محبت میں آخر یہ قسمت کیا ہے؟
عطاؔ عشق کی رمز سمجھا نہیں ہے
یہ الفت کی منزل، حقیقت کیا ہے؟
صاحب کلام
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار

Post a Comment